کتاب، کاپی اور قلم پر 80 فیصد ٹیکس، نئے بجٹ میں تعلیم بھی مہنگی ہوگی؟

جب گھر کا چراغ ہی اندھیرا کرنے لگے تو پھر روشنی باہر نہیں، اندر تلاش کرنی پڑتی ہے۔ آج کا سوال بھی یہی ہے کہ کیا ریاست اپنے ہی بچوں کے خوابوں پر بوجھ ڈال رہی ہے؟

حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں سٹیشنری اشیا پر جنرل سیلز ٹیکس 10 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یعنی ٹیکس میں 80 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ 

ایک عام شہری کے لیے یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ اس کے بچوں کی تعلیم کے اخراجات میں براہِ راست اضافہ ہے۔

حکومت کا ہدف آئندہ مالی سال میں 14 سے 15 ٹریلین روپے سے زائد ٹیکس وصول کرنا ہے۔ 

ایف بی آر کو محصولات بڑھانے کی ضرورت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس ہدف کے حصول کے لیے سب سے آسان راستہ بچوں کے بستوں تک پہنچنا ہی رہ گیا ہے؟

پچھلے سال بجٹ 25-2024 سے پہلے بہت سی سٹیشنری اشیا سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ تھیں، لیکن حکومت نے یہ استثنیٰ ختم کرکے 10 فیصد جی ایس ٹی عائد کر دی تھی، جو یکم جولائی 2024 سے نافذ ہوئی۔

عوامی سطح پر احتجاج ہوئے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سٹیشنری پر عائد 10 فیصد سیلز ٹیکس صفر کرنے کی سفارش بھی کی اور وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں 10 فیصد ٹیکس کو ختم کرنے کا وعدہ بھی کیا لیکن وہ وعدہ آج تک وفا نہیں ہو سکا۔

18 فیصد سیلز ٹیکس کے بعد صرف دو برسوں میں کتاب، کاپی اور قلم پر ٹیکس کا بوجھ تقریباً دوگنا ہو جائے گا، جس سے تعلیم مہنگی ہو گی اور شرح خواندگی میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔

پاکستان کی سٹیشنری مارکیٹ تقریباً 700 ارب روپے سالانہ ہے، جس میں سکولوں اور کالجوں کا حصہ تقریباً 65 فیصد سے زیادہ ہے۔  

اگر جنرل سیلز ٹیکس کو 10 سے بڑھا کر 18 فیصد کیا جائے تو تعلیم کے شعبے سے تقریباً 36 ارب روپے سالانہ آمدن بڑھ سکتی ہے جبکہ سرکار ترقیاتی کاموں کے لیے 1700 ارب روپے کا بجٹ رکھنے جا رہی ہے۔ 

تعلیم کو مہنگا کرنے کی بجائے ترقیاتی بجٹ کو اگر تقریباً 1664 ارب روپے کردیا جائے تو لاکھوں خاندانوں کو مہنگی تعلیم کے اثرات سے بچایا جا سکتا ہے۔ 

دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں نے تعلیم کو ٹیکس لگانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ترقی کا بنیادی ستون بنایا ہے۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بچے پہلے ہی سکولوں سے باہر ہیں، ان میں تقریباً 1 کروڑ 38 لاکھ لڑکیاں اور 1 کروڑ 24 لاکھ لڑکے شامل ہیں اور ہرسال ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تعداد کئی ممالک کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ 

ایسا ملک جہاں تعلیم تک رسائی خود ایک بڑا چیلنج ہو، وہاں اگر کاپی، قلم، رجسٹر اور دیگر تعلیمی سامان پر ٹیکس بڑھا دیا جائے تو یہ ایک عام فیصلہ نہیں بلکہ قوم کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والا اقدام بن جاتا ہے۔

پاکستان میں تعلیم پر مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 1.5 سے 2 فیصد خرچ کیا جاتا ہے، جو جنوبی ایشیا کے کئی ممالک سے کم ہے۔ 

یونیسف اور دیگر ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر تعلیم پر سرمایہ کاری نہ بڑھائی گئی تو ملک کی نوجوان آبادی ایک معاشی اثاثے کے بجائے سماجی بوجھ بن سکتی ہے، لیکن سرکار سرمایہ کاری بڑھانے کی بجائے تعلیم ہی مہنگی کرنے کی منصوبہ بندی میں مشغول دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 39 فیصد بچے کسی نہ کسی وجہ سے سکول نہیں جا پاتے۔ بلوچستان میں یہ شرح 47 فیصد جبکہ سندھ اور جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں 40 فیصد سے زیادہ ہے۔ 

پاکستان میں سکول جانے والے بچوں کی تعداد تقریباً پانچ کروڑ سے زائد ہے۔ اگر ہر طالب علم کے سالانہ تعلیمی سامان کے ٹیکس میں 80 فیصد اضافہ ہوتا ہے تو مجموعی طور پر والدین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ 

مسئلہ یہ بھی ہے کہ حکومت اگر ٹیکس میں 80 فیصد اضافہ کرتی ہے تو سکولز اسے بنیاد بنا کر سٹیشنری کی قیمتوں میں کئی گنا مزید  اضافہ کر سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے سکولز کو اپنی سٹیشنری بیچنے پر پابندی لگائی تھی لیکن وہ شاید صرف فائلوں کی حد تک تھی۔

یہ وہ رقم ہے جو ایک ایسے وقت میں ادا کرنی ہوگی جب حقیقی آمدنیاں سکڑ رہی ہیں اور قوتِ خرید مسلسل کم ہو رہی ہے۔

حکومت کا یہ تیسرا بجٹ ہے اور پچھلے تین سالوں میں کاغذ کی قیمت میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے کاپیوں اور کتابوں کی قیمتوں میں پہلے ہی سو گنا سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ سٹیشنری پر ریلیف دے لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔

اس کے علاوہ نجی سکولوں کی فیسوں میں گذشتہ تین برسوں کے دوران قانونی حد کے مطابق 15 سے 24 فیصد اضافہ ہونا چاہیے تھا۔ تاہم زمینی حقائق کے مطابق زیادہ تر خاندانوں کو 20 سے 35 فیصد اضافے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ بعض مہنگے نجی سکولوں میں یہ اضافہ 40 فیصد سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔

ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ موجودہ حکومت کا نجی تعلیمی اداروں پر چیک اینڈ بیلنس مضبوط نہیں۔ اگر سرکار کی عدم دلچسپی یونہی برقرار رہی تو اس سال بھی نجی سکولوں کی فیسوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے۔ 

ریاست کی طاقت پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد سے ناپی جاتی ہے، نہ کہ صرف ٹیکس وصولیوں سے۔ پاکستان میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک طرف تعلیم مہنگی ہو رہی ہے اور دوسری طرف اسے سہارا دینے والا ہاتھ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔

اگر حکومت نے کتاب، کاپی اور قلم کو مہنگا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو شاید کل ہمیں ملک میں سستی لیبر تو مل جائے، مگر اچھے معیشت دان، سائنس دان اور انجینیئرز نہ مل سکیں۔

اگر سرکار واقعی ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان بنانا چاہتی ہے تو اسے بچوں کی کاپیوں اور قلموں پر اضافی ٹیکس لگانے کی بجائے ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے نئے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *