انڈیا کی سیاست میں بعض واقعات وقتی معلوم ہوتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہی واقعات کسی بڑے سیاسی تغیر کی علامت بن جاتے ہیں۔
1974 میں جے پرکاش نارائن کی تحریک، 2011 میں انا ہزارے کی بدعنوانی مخالف مہم سے عام آدمی کا 2012 میں جنم اور 2020 کے کسانوں کے احتجاج کو ابتدا میں محض وقتی عوامی ردعمل سمجھا گیا، لیکن بعد میں ان سب نے انڈیا کی سیاست کے رخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
آج اگر لداخ کے معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال اور سوشل میڈیا پر ابھرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کی علامتی مہم کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تو شاید یہ صرف دو الگ الگ واقعات نہیں بلکہ اس انڈیا کی تصویر ہیں جہاں طاقت اور مزاحمت، مرکز اور وفاق، ترقی اور شناخت، اور اکثریت و اقلیت کے درمیان نئے تضادات جنم لے رہے ہیں۔
سونم وانگ چک کا نام دنیا بھر میں تعلیمی اصلاحات، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور لداخ میں پائیدار ترقی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ فلم ’تھری ایڈیٹس‘ کے کردار فنسوک وانگڈو کی تخلیق بھی جزوی طور پر بظاہر ان کی شخصیت سے متاثر تھی۔ مگر گذشتہ چند برسوں میں ان کی شناخت ایک ماہر تعلیم سے بڑھ کر ایک ایسے سیاسی اور سماجی رہنما کی بن چکی ہے جو لداخ کے آئینی، ماحولیاتی اور ثقافتی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔
2019 میں جب انڈیا کی حکومت نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے ساتھ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے لداخ کو الگ مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا تو حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔ اس وقت لداخ کے بعض حلقوں نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا، کیونکہ انہیں امید تھی کہ نئی انتظامی حیثیت سے ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔ لیکن چند ہی برسوں میں یہ احساس ابھرنے لگا کہ انتظامی تبدیلی کے باوجود لداخ کو وہ سیاسی تحفظات حاصل نہیں ہوئے جن کی مقامی آبادی توقع کر رہی تھی۔
وانگ چک کی جدوجہد کا بنیادی مطالبہ یہ ہی ہے کہ لداخ کو آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظ دیا جائے تاکہ زمین، قدرتی وسائل، قبائلی شناخت اور مقامی خودمختاری محفوظ رہ سکیں۔ ان کے نزدیک مسئلہ صرف ایک علاقے کا نہیں بلکہ اس ترقیاتی ماڈل کا ہے جس میں مقامی آبادی کو شریک کیے بغیر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ان کی بھوک ہڑتال دراصل اسی احساس محرومی کی علامت ہے۔
انڈیا میں بھوک ہڑتال کی اپنی ایک سیاسی روایت ہے۔ مہاتما گاندھی نے اسے اخلاقی دباؤ کا ذریعہ بنایا، پوٹی سری رامولو نے آندھرا ریاست کے قیام کے لیے جان قربان کی، انا ہزارے نے بدعنوانی کے خلاف اسے استعمال کیا جبکہ مختلف علاقائی تحریکوں نے بھی اس روایت کو زندہ رکھا۔ لیکن سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال ان تمام مثالوں سے ایک اہم پہلو میں مختلف ہے۔ ان کا احتجاج کسی حکومت کی تبدیلی یا انتخابی مطالبے کے لیے نہیں بلکہ ماحولیات، وفاقیت اور مقامی شناخت جیسے ان سوالات کے گرد گھومتا ہے جو اکیسویں صدی کی سیاست کے بنیادی موضوعات بنتے جا رہے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر لداخ میں عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے تو پھر قومی سیاست میں اس کی بازگشت اتنی محدود کیوں دکھائی دیتی ہے؟ اس کا جواب گذشتہ ایک دہائی میں انڈیا کی سیاست کی ساخت میں آنے والی تبدیلیوں میں پوشیدہ ہے۔
نریندر مودی کے دور میں انڈین سیاست پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مرکزیت اختیار کر چکی ہے۔ فیصلہ سازی کے اختیارات چند اداروں اور محدود سیاسی قیادت کے گرد سمٹتے گئے ہیں جبکہ علاقائی جماعتوں، سول سوسائٹی اور آزاد سماجی تحریکوں کے لیے سیاسی گنجائش نسبتاً کم ہوئی ہے۔ اس تبدیلی نے ایک مضبوط حکومتی بیانیہ ضرور پیدا کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایسے گروہوں میں بے چینی بھی بڑھائی جو خود کو قومی فیصلوں میں غیر مؤثر محسوس کرتے ہیں۔
اسی ماحول میں کاکروچ جنتا پارٹی جیسی علامت سامنے آتی ہے۔ یہ کوئی باقاعدہ سیاسی جماعت نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ابھرنے والا ایک طنزیہ استعارہ ہے۔ کاکروچ کو بطور علامت اس لیے منتخب کیا گیا کہ وہ سخت ترین حالات میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس علامت کے ذریعے بعض ناقدین یہ پیغام دیتے ہیں کہ اگر اختلاف رائے کو مسلسل دبایا جائے تو لوگ خود کو ایسے وجود کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں جنہیں نظر انداز تو کیا جا سکتا ہے، مگر مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسیات میں طنز ہمیشہ کمزور طبقے کا ہتھیار رہا ہے۔ جب براہ راست مزاحمت کے مواقع محدود ہو جائیں تو مزاح، کارٹون، استعارے اور علامتیں سیاسی اظہار کی نئی زبان بن جاتی ہیں۔ سوویت یونین سے لے کر لاطینی امریکہ اور مشرقی یورپ تک آمریتوں کے دور میں سیاسی لطیفے اور علامتی تحریکیں اسی خلا کو پُر کرتی رہی ہیں۔ انڈیا میں کاکروچ جنتا پارٹی کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ کسی انتخابی متبادل سے زیادہ اس نفسیاتی کیفیت کی نمائندگی کرتی ہے جس میں عوام کا ایک حصہ خود کو مرکزی سیاسی بیانیے سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بی جے پی اب بھی انڈیا کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے، مگر 2024 کے انتخابات نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اس کی ناقابلِ تسخیر سیاسی برتری میں دراڑیں نمودار ہوئی ہیں۔ پہلی مرتبہ اسے حکومت سازی کے لیے اتحادی جماعتوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑا۔ اتر پردیش، مہاراشٹر اور دیگر اہم ریاستوں کے نتائج نے ظاہر کیا کہ قومی سلامتی اور مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ روزگار، مہنگائی، زرعی بحران اور علاقائی مسائل بھی دوبارہ انتخابی سیاست کا حصہ بن رہے ہیں۔
یہی تبدیلی سونم وانگ چک کی تحریک کو بھی اہم بناتی ہے۔ اگرچہ لداخ کی آبادی محدود ہے، لیکن اس کے مطالبات صرف لداخ تک محدود نہیں۔ شمال مشرقی انڈیا، قبائلی علاقوں، جنوبی ریاستوں اور دیگر وفاقی اکائیوں میں بھی مرکز اور ریاستوں کے اختیارات، قدرتی وسائل پر مقامی کنٹرول اور ثقافتی شناخت کے تحفظ جیسے سوال مختلف صورتوں میں موجود ہیں۔
مودی حکومت نے گذشتہ برسوں میں ایک ایسا قومی بیانیہ تشکیل دیا جس کی بنیاد ہندو قوم پرستی، مضبوط مرکزی ریاست اور تیز رفتار ترقی پر رکھی گئی۔ اس بیانیے نے انتخابی سطح پر غیر معمولی کامیابی حاصل کی، مگر اس کے نتیجے میں سیاست کا محور بھی تبدیل ہوگیا۔ اقتصادی اصلاحات، ادارہ جاتی خودمختاری اور وفاقی توازن جیسے موضوعات پس منظر میں چلے گئے جبکہ شناختی سیاست زیادہ نمایاں ہوتی گئی۔
اس تناظر میں سونم وانگ چک کی تحریک ایک دلچسپ تضاد پیش کرتی ہے۔ وہ مذہبی یا نظریاتی سیاست نہیں کر رہے بلکہ ماحولیات، آئینی تحفظ اور مقامی خود مختاری کی بات کر رہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی آواز روایتی اپوزیشن سیاست سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ان کا احتجاج اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا انڈیا کی آئندہ سیاست مذہبی تقسیم کی بجائے وفاقی حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی وسائل کے گرد تشکیل پائے گی؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ انڈیا موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات سے دوچار ہے۔ ہمالیائی خطے میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، پانی کے ذخائر تبدیل ہو رہے ہیں اور بے ہنگم تعمیرات ماحولیاتی توازن کو متاثر کر رہی ہیں۔ وانگ چک بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ترقی کے موجودہ ماڈل پر نظرثانی نہ کی گئی تو لداخ صرف سیاسی نہیں بلکہ ماحولیاتی بحران کا بھی شکار ہو سکتا ہے۔ اس اعتبار سے ان کی تحریک مستقبل کی سیاست کی پیش گوئی بھی کرتی ہے جہاں ماحولیات قومی سلامتی جتنا اہم موضوع بن سکتی ہے۔
دوسری طرف اپوزیشن کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگرچہ مختلف احتجاجی تحریکیں حکومت کو چیلنج کرتی رہی ہیں، مگر انہیں ایک جامع سیاسی متبادل میں تبدیل کرنا اب بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ انا ہزارے کی تحریک سے عام آدمی پارٹی ضرور وجود میں آئی، لیکن بیشتر سماجی تحریکیں وقتی دباؤ تو پیدا کرتی ہیں، مستقل سیاسی ڈھانچہ نہیں بنا پاتیں۔ یہ ہی صورت حال سونم وانگ چک کی تحریک کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے اگر اسے وسیع تر وفاقی اصلاحات کے سیاسی ایجنڈے سے نہ جوڑا گیا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ طاقتور حکومتیں ہمیشہ انتخابات سے نہیں بلکہ ان سوالات سے آزمائی جاتی ہیں جنہیں وہ غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں۔ جے پرکاش نارائن کی تحریک بھی ابتدا میں چند ریاستوں تک محدود تھی، کسانوں کا احتجاج بھی صرف زرعی قوانین تک محدود سمجھا گیا، مگر دونوں نے قومی سیاست کو متاثر کیا۔ ضروری نہیں کہ سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال بھی اسی نوعیت کا سیاسی موڑ ثابت ہو، لیکن اس نے یہ ضرور واضح کر دیا ہے کہ انڈیا کے مختلف حصوں میں وفاق، شناخت، ماحولیات اور مقامی خودمختاری کے سوال دوبارہ شدت اختیار کر رہے ہیں۔
ممکن ہے کاکروچ جنتا پارٹی چند ماہ بعد محض ایک سوشل میڈیا یادگار بن کر رہ جائے اور ممکن ہے سونم وانگ چک کے مطالبات فوری طور پر منظور نہ ہوں۔ مگر اصل سوال ان دونوں سے کہیں بڑا ہے۔ کیا انڈیا کا موجودہ سیاسی ماڈل اپنی تمام تر کامیابیوں کے باوجود اتنی لچک رکھتا ہے کہ وہ اختلاف رائے کو اپنے اندر جذب کر سکے؟ کیا مضبوط مرکز اور متنوع وفاق کے درمیان ایک نیا توازن پیدا کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا ترقی کا ایسا تصور ممکن ہے جو مقامی آبادی، ماحولیات اور آئینی وفاقیت کو نظر انداز کیے بغیر آگے بڑھے؟
یہ ہی سوال آنے والے برسوں میں انڈیا کی سیاست کا رخ متعین کریں گے، کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت صرف انتخابات میں نہیں بلکہ اس صلاحیت میں پوشیدہ ہوتی ہے کہ وہ مختلف آوازوں کو سن سکے، اختلاف کو جگہ دے سکے اور طاقت کے ساتھ ساتھ اعتماد بھی پیدا کر سکے۔ اگر یہ توازن برقرار رہا تو انڈیا کی جمہوریت مزید مضبوط ہوگی، اور اگر یہ توازن مسلسل کمزور ہوتا گیا تو سونم وانگ چک جیسے احتجاج شاید کسی ایک خطے کی آواز نہ رہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ بن جائیں۔
ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ایریا سٹڈی سینٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

