ڈرائیور لیس کار کی پولیس گاڑی سے ٹکر کیوں ہوئی؟

آج کل سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو وائرل ہے جس میں ایک پاکستانی نوجوان کی بنائی ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑی ایک ڈیمو کے دوران وہ ایک پولیس موبائل سے جا ٹکراتی ہے۔

یہ گاڑی کس نے بنائی، کتنے میں بنی اور کیسے چلتی ہے؟ جانیے انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار مہوش قماس خان کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔

پاکستان میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں نت نئے تجربات کرنے والے نوجوانوں کی کمی نہیں، تاہم بعض اوقات کسی نوجوان کا بنایا ہوا ایک منفرد تجربہ سوشل میڈیا پر اس طرح توجہ حاصل کرتا ہے کہ دیکھنے والے حیران بھی ہوتے ہیں اور سوال بھی اٹھاتے ہیں۔

ایسی ہی ایک گاڑی ان دنوں سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے، اس گاڑی سے متعلق ایک ویڈیو کچھ دن قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں ایک صحافی گاڑی میں بیٹھ کر اس ٹیکنالوجی کے بارے میں بتا رہے تھے۔ ویڈیو میں گاڑی کو بغیر روایتی ڈرائیور کے چلتے ہوئے دکھایا جا رہا تھا کہ اسی دوران  گاڑی پولیس کی گاڑی سے جا کر ٹکرا جاتی ہے۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ساتھ ہی اس ٹیکنالوجی پر مختلف حلقوں میں بحث شروع ہو گئی۔

اس ڈرائیور لیس گاڑی کو احسان ظفر عباسی  نے اپنی مدد آپ کے تحت تیار کی ہے۔ اس گاڑی کو ایک موبائل ایپ کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے اور اس کے لیے گاڑی میں مختلف آلات اور کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

احسان ظفر عباسی کے مطابق اسے یہ ٹیکنالوجی تیار کرنے میں تقریباً تین سال لگے جبکہ اس پر مجموعی طور پر ایک لاکھ روپے کے قریب خرچ آیا۔ ان کے بقول اس منصوبے کا بنیادی خیال یہ تھا کہ گاڑی کو روایتی ڈرائیونگ کے بجائے ایک ایپ کے ذریعے کنٹرول کی جائے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایپ میں گاڑی کو دائیں اور بائیں موڑنے، آگے بڑھانے اور روکنے سمیت مختلف ہدایات دینے کے آپشنز موجود ہیں۔ گاڑی کے اندر پروگرامنگ کے ذریعے ان ہدایات کو عملی شکل دی گئی ہے، جس کی مدد سے موبائل فون سے دی جانے والی کمانڈز گاڑی کے مختلف نظاموں تک پہنچتی ہیں۔

نوجوان کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے گاڑی کو فاصلے سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر وہ خود لاہور میں موجود ہوں جبکہ گاڑی اسلام آباد میں کھڑی ہو تو وہ ایپ کے ذریعے اسے کنٹرول کر سکتے ہیں۔

گاڑی میں نگرانی اور راستہ دیکھنے کے لیے دو کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک کیمرہ سامنے کا منظر دکھاتا ہے جبکہ دوسرا کیمرہ 360 ڈگری زاویے سے اردگرد کا منظر دیکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

نوجوان کے مطابق گاڑی میں مختلف ایسے آلات اور نظام نصب کیے گئے ہیں جو موبائل ایپ سے ملنے والی ہدایات کے مطابق کام کرتے ہیں۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد نوجوان کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم ان کے مطابق انہیں بہت سے لوگوں کی جانب سے حوصلہ افزائی اور پذیرائی بھی ملی۔ احسان ظفر عباسی کہتے ہیں کہ کسی بھی نئے تجربے کے ساتھ اچھے اور برے دونوں طرح کے ردِعمل آتے ہیں، لیکن لوگوں کی جانب سے ملنے والی مثبت رائے نے انہیں مزید کام کرنے کا حوصلہ دیا۔

نوجوان کے مطابق انہوں نے اس منصوبے پر کسی بڑے ادارے یا کمپنی کی مدد کے بغیر خود کام کیا۔ تین سال کے عرصے میں انہوں نے گاڑی کے مختلف حصوں، پروگرامنگ اور موبائل ایپ پر کام کیا اور اسے اپنی استطاعت کے مطابق آگے بڑھایا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ان  کی مدد کریں اور انہیں وسائل، تربیت اور تکنیکی سہولیات فراہم کرے تو وہ اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

ان کے مطابق موجودہ گاڑی ایک تجربہ ہے، تاہم مناسب تعاون اور وسائل کی صورت میں اس نظام کو زیادہ محفوظ، مؤثر اور جدید بنایا جا سکتا ہے۔ احسان عباسی اس تجربے کے ذریعے صرف ایک گاڑی بنانے کا مظاہرہ نہیں کر رہا بلکہ یہ بھی دکھا رہا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود پاکستان میں نوجوان ٹیکنالوجی کے میدان میں نئے تجربات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس گاڑی کو محض ایک دلچسپ تجربے تک محدود رکھا جائے گا یا ایسے نوجوانوں کو مناسب سرپرستی ملے گی تاکہ ان کے تجربات عملی اور محفوظ ٹیکنالوجی میں تبدیل ہو سکیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *