چین اور ایغور عسکریت پسندوں کے ساتھ طالبان کا نازک توازن

اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے، مختلف علاقائی ممالک کے انسدادِ دہشت گردی کے تحفظات کے حوالے سے طالبان حکومت کا رویہ مختلف رہا ہے۔ طالبان کی حکومت کی نظریاتی اور سٹریٹجک سوچ کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ ان ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کو کتنی ترجیح دیتی ہے۔

اس مقصد کے لیے، چین اور ترکستان اسلامک پارٹی کے ساتھ طالبان کا نازک توازنمثال کے طور پر طالبان جان بوجھ کر پاکستان سے دوری اختیار کرنا چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی کے لیے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی حمایت، مالی امداد اور انہیں سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

اس کے برعکس، چین طالبان کے دوستانہ تعلقات کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایغور عسکریت پسند گروپ، ترکستان اسلامک پارٹی کے بارے میں طالبان کا رویہ پاکستانی طالبان کے موازنے میں بالکل مختلف ہے۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے برعکس، جو طالبان کے لیے ایک نظریاتی اور سٹریٹجک سرمایہ ہے، بظاہر، ٹی آئی پی ان کے لیے ایک بوجھ  ہے،

 ٹی آئی پی کے حوالے سے اپنے رویے کے باعث طالبان کو انسدادِ دہشت گردی کے محاذ اور جہادی حلقوں میں اپنی نظریاتی ساکھ، دونوں حوالوں سے ایک بڑی مشکل کا سامنا ہے۔ ان کے لیے یہ ایک ایسی صورت حال ہے جہاں وہ ‘نہ اگل سکتے ہیں نہ نگل سکتے ہیں۔‘

ٹی آئی پی کے خلاف کارروائی نہ کرنا چین کو ناراض کرتا ہے، جبکہ سخت اقدامات جہادی برادری کے غصے کو دعوت دیتے ہیں اور ٹی آئی پی کو داعش خراسان کی طرف مائل ہونے پر مجبور کرتے ہیں جو کہ طالبان کا کٹر نظریاتی دشمن ہے۔ داعش خراسان جنوبی ایشیا میں چین مخالف اور ایغور حامی عسکریت پسند گروپ کے طور پر تیزی سے اپنی پہچان بنا رہی ہے۔

چنانچہ، ٹی آئی پی کے خلاف طالبان کے موجودہ اقدامات بس اتنے ہی سخت ہیں کہ چین کے دباؤ (انہیں گرفتار کر کے بیجنگ کے حوالے کرنے کے مطالبے) کو روکا جا سکے، اور اتنے نرم ہیں کہ جہادی حلقوں میں ان کی ساکھ بھی محفوظ رہے اور داعش خراسان کو اپنے قدم جمانے کا کوئی موقع بھی نہ مل سکے۔

چین کے ساتھ طالبان کے تعاون اور اس کی حدود کو سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنے کے لیے ٹی آئی پی کے خلاف ان کے اقدامات اور عدم اقدامات کو اسی پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

اس وقت افغانستان کے صوبوں بدخشاں، بغلان، بلخ، قندوز، کابل اور ننگرہار میں تقریباً 500 سے 700 کے قریب ٹی آئی پی کے عسکریت پسند پناہ لیے ہوئے ہیں۔ تاہم، شام میں حیات تحریر الشام کی کامیابی کے بعد سے اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شام میں موجود 5,000 ایغور جنگجوؤں میں سے تقریباً 3,000 کو باقاعدہ طور پر شام کی فوج کے 84 ویں ڈویژن میں شامل کر لیا گیا ہے، جبکہ باقی بچ جانے والے آزاد گھوم رہے ہیں اور خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں

ان الگ تھلگ ہو جانے والے ایغور عسکریت پسندوں میں سے کچھ افغانستان واپس آ چکے ہیں، جبکہ دیگر اب بھی شام میں ہیں، لیکن وہ اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ اس کے نتیجے میں، افغانستان میں ایغور عسکریت پسندوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 1,000 تک پہنچ گئی ہے، اور اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ اس صورت حال نے طالبان کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

وہ شام سے افغانستان کی طرف ایغور جنگجوؤں کے اس بہاؤ کو روکنے، اور ساتھ ہی انہیں اپنی طرف راغب کرنے کے لیے داعش خراسان کی کوششوں کو کنٹرول کرنے میں بھی ناکام نظر آ رہے ہیں۔

مجموعی طور پر، افغانستان میں ٹی آئی پی اس وقت انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ وہ طالبان اور القاعدہ کے وفادار رہنے یا داعش خراسان کی پیشکشوں کو قبول کرنے کے مابین تذبذب کا شکار ہے۔ ٹی آئی پی چینی دباؤ کی وجہ سے طالبان کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں پر سخت نالاں ہے۔ ٹی آئی پی نے شرقی ترکستان کے لیے طالبان کی ہمدردی اور حمایت حاصل کرنے کی امید پر امریکہ کے خلاف جنگ میں ان کی کامیابی میں مدد کی تھی۔ لیکن اس کے برعکس طالبان نے ٹی آئی پی پر ہی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طالبان نے ٹی آئی پی کو سخت گرفت میں رکھا ہوا ہے، اور اس کے پروپیگنڈا ونگ اسلام آوازی کو چین پر تنقید کرنے یا اسے دھمکانے والا کوئی بھی مواد شائع کرنے سے روک دیا ہے۔ اسلام آوازی کو صرف ایغور تاریخ کے غیر متنازع موضوعات، اسلام کی تعلیمات کے بارے میں مذہبی خطبات یا افغانستان میں ان کی زندگی (جیسے عید الاضحیٰ منانے) کے حوالے سے مواد شائع کرنے کی اجازت ہے۔

اقتدار میں آنے کے فوراً بعد، چین کو مطمئن کرنے کے لیے، طالبان نے ٹی آئی پی  کے جنگجوؤں کو چین کی سرحد کے قریب واقع شمالی صوبے بدخشاں سے ننگرہار، قندوز، کابل اور بغلان منتقل کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طالبان نے ٹی آئی پی کے عسکریت پسندوں کو داعش خراسان کے خلاف لڑنے والے دستوں میں بھی شامل کر دیا ہے، تاکہ یہ بات یقینی بنائی جا سکے کہ یہ دونوں گروپ ایک دوسرے کے حریف بنے رہیں اور ان کے درمیان کوئی تال میل پیدا نہ ہو۔

اس کے باوجود، داعش خراسان نے پروپیگنڈے، خفیہ ملاقاتوں، مالی مراعات اور چین مخالف حملوں کے ذریعے ٹی آئی پی کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

طالبان نے اپنے انٹیلی جنس ونگ، جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے ذریعے ٹی آئی پی کے عسکریت پسندوں کا اندراج کر لیا ہے۔ جی ڈی آئی کا ایک خصوصی یونٹ ٹی آئی پی کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ چھپ کر واپس بدخشاں نہ چلے جائیں۔ جی ڈی آئی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ٹی آئی پی کے عسکریت پسند انہیں دیے گئے دائرہ کار کے اندر ہی رہیں اور کسی ایسی حد سے تجاوز نہ کریں جو طالبان حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کر سکے۔

عملی طور پر دیکھا جائے تو، اگر ٹی آئی پی کے خلاف طالبان کا کریک ڈاؤن موجودہ پابندیوں سے آگے بڑھتا ہے تو اس سے دیگر گروہ جیسے کہ ٹی ٹی پی، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور وسطی ایشیا کے دیگر عسکریت پسند چوکنے ہو جائیں گے۔ ٹی آئی پی ایک چھوٹا لیکن مضبوط اتحاد رکھنے والا گروپ ہے۔

چنانچہ، یہ صورت حال طالبان کو دو طرح سے نقصان پہنچائے گی۔ اول، یہ ان کے محدود وسائل کو نچوڑ دے گی۔ دوم، اس سے پاکستان اور وسطی ایشیا دونوں کے علاقائی جہادی گروپوں کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے، جس سے داعش خراسان کے لیے ان گروپوں کے ساتھ ہاتھ ملانے کا راستہ کھل جائے گا، جو طالبان کے لیے شدید مایوسی کا باعث ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان ٹی آئی پی کے معاملے پر چینی دباؤ کو سنبھالنے کے لیے انتہائی محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ یہ مضمون عرب نیوز میں شائع ہوچکا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *