یہ طے ہو چکا تھا کہ نو آبادیاتی دور ختم کر دیا جائے گا۔ برطانیہ کو ہندوستان میں اقتدار جلد از جلد منتقل کرنا ہے لیکن کسے؟
یہ سوال اس لیے بہت اہم ہے کیونکہ ہندوستان ایک کثیر مذہبی اور کثیر قومی ملک تھا، جہاں سیاسی حقوق کے حوالے سے مسلمانوں اور ہندوؤں میں نہ صرف گہری خلیج تھی بلکہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مستقبل کے ہندوستان کے نقشے پر ایک دوسرے سے مختلف رائے اختیار کر چکی تھیں۔
ایسے حالات میں برطانوی وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلی مارچ 1946 میں تین طاقتور شخصیات کو ہندوستان بھیجتے ہیں، جن میں لارڈ پیتھک لارنس، سر سٹافورڈ کرپس اور اے وی الیگزینڈر شامل ہیں۔
ان کا کام صرف ہندوستان کی سیاسی قیادت سے ملنا نہیں تھا بلکہ انہیں ایک ایسے منصوبے پر رضامند بھی کرنا تھا جہاں وہ ایک دوسرے کے مفادات کی ضمانت دیتے ہوئے متحدہ ہندوستان پر متفق ہو جائیں۔
لیکن یہ کام جتنا سادہ دکھائی دیتا تھا، اسے عملی جامہ پہنانا اتنا ہی مشکل تھا۔ کابینہ مشن کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ ہندوستان کی اس وقت کی تمام سیاسی قیادت اگر کسی فیصلے پر متحد تھی تو وہ آزادی کا فیصلہ تھا لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ مستقبل کا خاکہ کیا ہو گا؟ کیا ہندوستان کے اندر رہتے ہوئے ریاستیں خود مختار ہوں گی یا پھر وہ الگ الگ ملکوں کی شکل اختیار کریں گی۔
کابینہ مشن ہر صورت ہندوستان کی وحدت چاہتا تھا
دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ ایک فاتح ملک ضرور تھا لیکن اقتصادی اور عسکری اعتبار سے شدید کمزور ہو چکا تھا۔ ہندوستان پر براہِ راست حکمرانی جاری رکھنا اب ممکن نہیں تھا۔ دوسری طرف عالمی سیاست میں نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی تھی اور سوویت یونین بھی نوآبادیاتی آزادی کے مطالبات کی حمایت کر رہا تھا۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور برطانیہ کمیونزم کو ایک بڑے خطے کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ اس پس منظر میں برطانیہ اپنی سب سے بڑی نو آبادی ہندوستان کو یا تو متحد رکھنا چاہتا تھا یا پھر ایک ایسی کنفیڈریشن میں جس کے تحت دفاع، مواصلات اور خارجہ وغیرہ مشترکہ ہوں۔
کابینہ مشن کے اراکین کو وزیراعظم ایٹلی لندن سے جو ہدایات بھجوا رہے تھے، ان میں بھی یہی کہا جا رہا تھا کہ اگر متحدہ ہندوستان کا آپشن باقی نہ رہے تو کم از کم کنفیڈریشن پر فریقین کو متفق کر لیا جائے۔
اس لیے جب 16 اپریل کو کابینہ مشن کے اراکین قائداعظم سے ملے تو انہوں نے ان کے سامنے دو آپشن رکھے۔ اگر وہ کنفیڈریشن پر رضامند ہوتے ہیں تو انہیں پورا پنجاب، آسام اور سلہٹ بھی دیے جا سکتے ہیں جن میں کلکتہ بھی شامل ہو گا لیکن اگر وہ اس پر راضی نہیں ہوتے تو پھر انہیں مشرقی پنجاب اور مشرقی بنگال سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
کنفیڈریشن کا منصوبہ دراصل آل انڈیا یونین کی صورت میں تھا جس میں دونوں ملکوں کو مساوی نمائندگی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم جناح اس سکیم کو قابل عمل نہیں سمجھتے تھے۔ وہ تقسیمِ پنجاب اور بنگال پر آمادہ تھے تاہم کلکتہ کو مسلمانوں کا دل سمجھتے تھے۔ البتہ اگلے دن کی ملاقات میں قائداعظم نے کنفیڈریشن کی بجائے دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی معاہدے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی۔
آل انڈیا یونین کا منصوبہ کیا تھا؟
اس منصوبے کے تحت برصغیر میں تین سطحی وفاقی یونین کا قیام عمل میں لایا جانا تھا۔ پہلے درجے میں صوبے تھے۔ دوسرے میں مسلم اکثریتی اور غیر مسلم اکثریتی صوبوں کے گروپ بنائے گئے تھے، جنہیں پاکستان گروپ اور ہندوستان گروپ کا نام دیا گیا تھا اور ان کے اوپر تیسری سطح تھی جسے یونین کا نام دیا گیا تھا۔
دفاع، امورِ خارجہ اور مواصلات کے شعبے یونین حکومت کی تحویل میں دیے گئے تھے جبکہ باقی امور صوبوں اور گروپوں کی صوابدید پر چھوڑ دیے گئے تھے۔ گروپوں کو اپنے اندرونی معاملات میں خود مختار بنانے کے لیے ہر گروپ کی ایک وفاقی قانون ساز اسمبلی وضع کی گئی تھی۔
البتہ مرکز میں یونین حکومت صرف ایگزیکٹو پر مشتمل ہونی تھی جس کے اراکین دونوں گروپوں سے مساوی لیے جانے تھے۔ یہاں کوئی اسمبلی نہیں تھی۔ 25 اپریل کو کرپس کی اس تجویز پر جناح رضا مند ہو گئے تھے۔
کرپس اس کے بعد مولانا آزاد سے ملے اور آگاہ کیا کہ جناح اس پر راضی ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ برِصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور انہیں اختیاری شعبوں کے لیے قانون ساز اسمبلیاں وضع کرنے کے حوالے سے کانگریس کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ کابینہ مشن نے اس پلان پر کانگریس اور مسلم لیگ کے نمائندوں کو شملہ میں بلا لیا۔
شملہ میں اصل جھگڑا کیا تھا؟
اس منصوبے پر بات چیت سے پہلے ہی ہندوستانی سیاست میں ایک بنیادی تبدیلی آ چکی تھی۔ تقریباً ایک سال پہلے لارڈ ویول 1945 میں شملہ کانفرنس کے ذریعے کانگریس اور مسلم لیگ کو ایک عبوری حکومت کے لیے اکٹھا کرنے کی کوشش کر چکے تھے۔
اس وقت اصل جھگڑا یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندگی کون کرے گا؟ محمد علی جناح کا مؤقف تھا کہ مسلمانوں کی نمائندگی کا حق مسلم لیگ کو حاصل ہے، جبکہ کانگریس کا کہنا تھا کہ وہ صرف ہندوؤں کی جماعت نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کی قومی جماعت ہے اور اس لیے وہ اپنے مسلمان ارکان کو بھی نامزد کر سکتی ہے۔ شملہ کانفرنس اسی اختلاف پر ناکام ہو گئی تھی، لیکن 1946ء میں صورت حال پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔
1945-46 کے انتخابات میں مسلم لیگ نے مسلم مخصوص نشستوں پر شان دار کامیابی حاصل کر لی تھی جس کے بعد جناح کے پاس یہ کہنے کے لیے ایک مضبوط سیاسی دلیل موجود تھی کہ اگر مسلمانوں نے بڑی تعداد میں مسلم لیگ کو ووٹ دیا ہے تو پھر مسلمانوں کی نمائندگی کا حق بھی اسی جماعت کو ملنا چاہیے۔
چنانچہ جب مئی 1946 میں کابینہ مشن کے سامنے کانگریس اور مسلم لیگ بیٹھی تو مسئلہ صرف آئینی شقوں کا نہیں تھا۔ مسئلہ یہ بھی تھا کہ مستقبل کے ہندوستان میں فیصلہ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہو گا؟
5 مئی 1946 کو شملہ میں مذاکرات میں کانگریس کی طرف سے مولانا ابو الکلام آزاد، جواہر لعل نہرو، سردار پٹیل اور خان عبدالغفار خان جبکہ مسلم لیگ کی طرف سے قائداعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان، نواب اسماعیل خان اور عبدالرب نشتر شریک تھے۔
وزیر ہند پیتھک لارنس نے انڈیا یونین کے منصوبے کو پیش کیا تو کانگریس کے اراکین نے کہا یونین کے پاس صرف مشترکہ دفاع، مواصلات یا خارجہ امور ہی نہیں ہونے چاہییں بلکہ اس کے پاس مالیات کے ذیلی شعبے بھی ہونے چاہیں۔ کیونکہ مشترکہ دفاع جب ہو گا تو پھر دفاعی بجٹ پر جھگڑا رہا کرے گا جس پر جناح نے جواب دیا کہ یہ مسئلہ دونوں گروپوں کی حکومتیں آپس میں سمجھوتے کے ذریعے طے کر سکتی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہاں نہرو مرکز میں اسمبلیوں پر اڑ گئے جبکہ اس سے قبل جناح کو جو تجویز دی گئی تھی وہ مرکز میں ایگزیکٹو کونسل کی تھی تاہم جب جناح مرکزی اسمبلی پر آمادہ ہو گئے تو کانگریس نے کئی ایسے سوالات اٹھا دیے جن سے معاملہ الجھتا چلا گیا۔
دو دن کے مذاکرات کا نتیجہ یہ تھا کانگریس ایک مضبوط مرکز کے ذریعے بلاشرکتِ غیرے پورے ہندوستان پر حکومت چاہتی تھی۔ پہلے کانگریس نے مشترکہ دفاع کی آڑ میں مشترکہ مالیات کی بات کی، پھر اس میں قومی منصوبہ بندی بھی شامل کر دی۔
یہ اختلاف بظاہر مالیات اور دفاع کا تھا لیکن اس کے پیچھے دونوں جماعتوں کے مستقبل کا خوف چھپا ہوا تھا۔ جناح کو خدشہ تھا کہ اگر مرکز طاقتور ہوا تو وہاں ہندو اکثریت کی بنیاد پر کانگریس کا غلبہ قائم ہو جائے گا۔
کانگریس کو خدشہ تھا کہ اگر مرکز بہت کمزور ہوا اور مسلم اکثریتی صوبے ایک مضبوط گروپ بن گئے تو ہندوستان ایک ملک کی بجائے مختلف طاقتور علاقائی اکائیوں کا مجموعہ بن جائے گا۔ یوں مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ مرکز کتنا طاقتور ہو۔ اصل سوال یہ تھا کہ مرکز طاقتور ہوا تو کس کے ہاتھ میں ہو گا؟
جناح کیوں مان گئے؟
کابینہ مشن کا سب سے دلچسپ پہلو یہ تھا کہ مسلم لیگ نے آخر کار اس منصوبے کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ یہ بات بظاہر حیران کن ہے۔
جناح پاکستان کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر وہ ایسے منصوبے پر کیوں آمادہ ہوئے جس میں پاکستان کا نام تک نہیں تھا؟ اس کا جواب اس منصوبے کی گروپنگ میں چھپا ہوا تھا۔ اگر پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان ایک گروپ بناتے اور بنگال و آسام ایک دوسرے گروپ میں جاتے تو ہندوستان کے اندر دو بڑے مسلم اکثریتی سیاسی بلاک وجود میں آ سکتے تھے۔
مرکز کے اختیارات محدود ہوتے اور مسلم اکثریتی صوبوں کو اپنے مشترکہ معاملات چلانے کی خاصی آزادی حاصل ہوتی، یعنی جناح کو شاید یہ محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستان کے نام کے بغیر بھی وہ مسلمانوں کے لیے وہ آئینی تحفظ حاصل کر سکتے ہیں، جس کے لیے وہ پاکستان کا مطالبہ کر رہے تھے۔
دوسری طرف کانگریس کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ وہ ہندوستان کو متحد تو رکھنا چاہتی تھی لیکن ایسے کمزور مرکز کے ساتھ نہیں جہاں صوبائی گروپ مرکز سے زیادہ طاقتور دکھائی دیں۔ کانگریس کو خاص طور پر اس بات پر اعتراض تھا کہ صوبوں کی گروپ بندی کو کس حد تک لازمی سمجھا جائے گا۔
یہی وہ نکتہ تھا جہاں دونوں جماعتوں کی تشریحات مختلف ہونا شروع ہوئیں۔ مسلم لیگ سمجھ رہی تھی کہ گروپنگ اس منصوبے کی بنیادی ضمانت ہے۔ کانگریس کا خیال تھا کہ آئینی اسمبلی کو مستقبل میں اس انتظام پر نظر ثانی کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ یوں دونوں نے ایک ہی منصوبے کو قبول کیا لیکن دونوں کے ذہن میں اس منصوبے کا مستقبل مختلف تھا۔
نہرو کے ڈائرکٹ ایکشن ڈے نے کنفیڈریشن کا تصور ختم کر دیا
جولائی 1946 میں کانگریس نے جواہر لعل نہرو کو اپنا نیا صدر منتخب کیا۔ 10 جولائی کو ایک پریس کانفرنس میں نہرو نے آئینی اسمبلی کے اختیارات اور کیبنٹ مشن پلان کی تشریح کے حوالے سے ایسا مؤقف اختیار کیا جس سے مسلم لیگ کو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد گروپنگ کے نظام کو تبدیل کر سکتی ہے۔ جناح کے لیے یہ ایک خطرناک اشارہ تھا۔
ان کے نزدیک کیبنٹ مشن پلان کی پوری کشش ہی اس بات میں تھی کہ مسلم اکثریتی صوبے ایک مضبوط گروپ بنائیں گے اور مرکز کو محدود رکھا جائے گا۔ اگر آئینی اسمبلی بعد میں اس پورے انتظام کو تبدیل کر سکتی تھی تو پھر مسلم لیگ کے لیے اس منصوبے میں رہنے کی وجہ کیا تھی؟
29 جولائی 1946 کو مسلم لیگ نے کیبنٹ مشن پلان کی اپنی سابقہ منظوری واپس لے لی اور 16 اگست کو ڈائریکٹ ایکشن کا اعلان کر دیا۔
کلکتہ میں مسلم لیگ کا جلسہ ہندو مسلم فسادات میں بدل گیا۔ 5,000 لوگ مارے گئے اور 20,000 زخمی ہوئے۔ جو اختلاف چند ماہ پہلے شملہ کے کمروں میں آئینی شقوں پر ہو رہا تھا، وہ اب سڑکوں پر خون میں بدل گیا۔
کلکتہ کے فسادات نے ہندوستانی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ اب مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ ہندوستان کا آئین کیا ہو گا۔ مسئلہ یہ بن چکا تھا کہ کیا ہندو اور مسلمان ایک ہی ریاست میں باہمی اعتماد کے ساتھ رہ بھی سکتے ہیں یا نہیں؟ ان فسادات کے بعد یہ بات طے ہو گئی کہ ہندوستان کی تقسیم ناگزیر ہے۔
آج بھی مبصریں کے سامنے یہ سوال موجود ہے کہ کابینہ مشن کی ناکامی کی ذمہ داری نہرو پر عائد ہوتی ہے یا قائد اعظم محمد علی جناح پر؟ 1946 میں ہندوستان کے پاس متحد رہنے کا ایک منصوبہ موجود تھا، لیکن دونوں طرف کی قیادت کے اپنے اپنے خدشات نے اسے یکسر خارج از امکان کر دیا۔
ایک سال بعد ہندوستان آزاد تھا، مگر تقسیم ہو چکا تھا۔ وہ قومیں جن کے لیڈر ایک وقت میں مشترکہ دفاع اور کنفیڈریشن کی بات کر رہے تھے انہیں معلوم نہیں تھا کہ نئے ملک بننے کے بعد خطرہ انہیں باہر کی دنیا سے نہیں بلکہ ایک دوسرے سے ہو گا۔ جو خلیج 80 سال پہلے شملہ میں تھی وہی آج کے نئی دہلی اور اسلام آباد میں ہے۔
