انڈیا کے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے قومی رابطہ کار الوک ڈمری نے پاکستان کے اپنے پہلے دورے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس سی او کی سرگرمیوں کے ذریعے انہیں مستقبل میں پاکستان کے مزید شہروں کا دورہ کرنے اور لوگوں سے ملاقات کا موقع ملنے کی امید ہے۔
الوک ڈمری نے بدھ کو اسلام آباد میں سرکاری نیوز چینل پی وی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’میرے لیے یہ پاکستانی سرزمین پر آنے کا پہلا موقع ہے اور ایس سی او کے ذریعے یہ پروگرام پورے سال جاری رہیں گے اور اسلام آباد سربراہی اجلاس پر اختتام پذیر ہوں گے۔‘
ایس سی او کے لیے انڈیا کے قومی رابطہ کار الوک ڈمری رواں ہفتے پاکستان پہنچے، جہاں انہوں نے علاقائی تنظیم کی پاکستان کی زیر صدارت سرگرمیوں کے سلسلے میں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کی۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے دوران یہ ایک غیر معمولی سفارتی رابطہ ہے۔
الوک ڈمری کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان ایک سال سے زائد عرصہ قبل چار روز تک جاری رہنے والی شدید فوجی لڑائی ہوئی تھی، جس کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف توپ خانے، لڑاکا طیاروں، میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا تھا۔
انڈیا اور پاکستان کے دارالحکومتوں میں ایک دوسرے کے سفیر موجود نہیں ہیں۔ دونوں ممالک نے 2019 میں کشمیر کے تنازع پر سفارتی تعلقات کی سطح کم کر دی تھی اور اس کے بعد سے دونوں ممالک کے سفارتی مشنز کی سربراہی ناظم الامور کرتے آ رہے ہیں۔
Remarks of National Coordinator SCO of India on the Sidelines of the Meeting of National Coordinators of SCO in Islamabad (28-30 September) pic.twitter.com/KidWsvM1w1
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 30, 2026
انڈیا کے ایس سی او کے قومی رابطہ کار الوک ڈمری نے بدھ کو کہا کہ ان کا دورہ تنظیم کی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جو پاکستان کی صدارت کے دوران پورے سال جاری رہیں گی اور 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والی تنظیم کی سربراہی کانفرنس پر اختتام پذیر ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’ہماری توقع ہے کہ ایس سی او کے تحت جاری تعاون کے تمام شعبوں میں نئی پیش رفت ہوگی اور ہم آگے بڑھیں گے۔‘
ایس سی او کا قیام 2001 میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان نے کیا تھا۔ پاکستان اور انڈیا 2017 میں اس تنظیم کے مکمل رکن بنے، ایران 2023 میں شامل ہوا جبکہ بیلاروس 2024 میں تنظیم کا 10واں رکن بنا۔
الوک ڈمری نے کہا کہ ایس سی او رکن ممالک کو علاقائی رابطہ کاری، تجارت اور ٹرانزٹ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون آگے بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا: ’یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں یوریشیائی اور ایشیائی خطے کے رکن ممالک ایس سی او کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے ہیں اور ہم نے اپنی بہبود، خوشحالی اور فلاح کے لیے ایک ایجنڈا ترتیب دیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا: ’اس میں رابطہ کاری بہت اہم ہے، علاقائی رابطہ کاری، تجارت اور ٹرانزٹ۔ یہ ان اہم امور میں شامل ہیں جن پر بات چیت ہوئی ہے اور آگے بڑھتے ہوئے ان پر پیش رفت ہو رہی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انڈیا اور پاکستان نے حالیہ برسوں میں محدود سرکاری رابطہ برقرار رکھا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات زیادہ تر دو طرفہ مذاکرات کے بجائے ایس سی او جیسے کثیر ملکی فورمز تک محدود رہے ہیں۔
الوک ڈمری نے کہا کہ پاکستان کی صدارت کے دوران ایس سی او کے اجلاسوں میں انگریزی کو بھی تنظیم کی دفتری زبان کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے، جہاں روایتی طور پر روسی اور چینی زبانوں میں بات چیت ہوتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا: ’اب تک ایس سی او میں رکن ممالک کے درمیان بات چیت روسی اور چینی زبانوں میں ہوتی رہی ہے۔ اب شاید پاکستانی صدارت کے دوران انگریزی کو بھی متعارف کرایا جائے۔‘
انہوں نے اسے تنظیم کے لیے ایک ’اہم‘ موقع قرار دیتے ہوئے ایس سی او کے فریم ورک کے تحت ثقافتی تعاون کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ مستقبل کے اجلاسوں کے دوران وہ لاہور، سیالکوٹ سمیت پاکستان کے مزید شہروں کا دورہ کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا: ’اب تک میرا پہلا دورہ صرف اسلام آباد تک محدود رہا ہے۔ جن مقامات کو میں دیکھنا چاہتا تھا، ان میں شاید لاہور، سیالکوٹ اور فیصل آباد شامل تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ سال بھر مختلف شہروں میں اجلاس منعقد ہوتے ہیں اور لاہور کو ایس سی او کا ثقافتی شہر قرار دیا گیا ہے۔
الوک ڈمری نے کہا: ’پورے سال سرگرمیاں جاری رہیں گی، اس لیے ہمیں امید ہے کہ ان سرگرمیوں کے ذریعے ہمیں پاکستان کے مزید علاقوں کو دیکھنے اور مزید لوگوں سے ملاقات کا موقع ملے گا۔‘
پاکستان نے رواں ماہ کے آغاز میں بشکیک میں ہونے والی ایس سی او سربراہی کانفرنس میں 2026-27 کے لیے تنظیم کی صدارت سنبھالی تھی اور آئندہ سال اسلام آباد میں کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے سربراہی اجلاس کی میزبانی تک تنظیم کے پروگرام کی نگرانی کرے گا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق 28 سے 30 ستمبر تک ہونے والے اجلاس کے دوران ایس سی او کے قومی رابطہ کاروں نے اہم اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری مضبوط بنانے اور پاکستان کی صدارت کی ترجیحات پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے حوالے سے خیالات کا تبادلہ کیا۔
