پاکستان کے شمالی علاقوں میں سیلاب الرٹ جاری

پاکستان کے محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ہفتے کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ ہفتے ملک کے شمالی علاقوں میں گلیشیئرز سے بننے جھیلوں سے آنے والے سیلاب (GLOFs) کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ حساس علاقوں میں رہنے والے افراد کو احتیاطی تدابیر کی ہدایت کی گئی ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید گرمی کی لہروں، بے وقت بارشوں، طوفانوں، سائیکلونز، سیلابوں اور خشک سالی جیسے غیر معمولی موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جون سے ستمبر تک جاری رہنے والا سالانہ مون سون سیزن اکثر اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور گھروں کے منہدم ہونے جیسے واقعات کا سبب بنتا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق رواں سال بارشیں 2025 کے مقابلے میں 26 فیصد تک زیادہ ہو سکتی ہیں۔

پاکستان محکمہ موسمیات کے مطابق ایک نیا مغربی موسمی نظام آئندہ ہفتے شمالی پاکستان میں داخل ہونے کی توقع ہے، جو گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں اور گرج چمک کا باعث بن سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات نے اپنے بیان میں کہا کہ ’گلیشیائی جھیلوں کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث ان کے قدرتی برفیلے یا مٹی کے بند غیر مستحکم ہو سکتے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات رونما ہونے کا خدشہ ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان کے مطابق منجمد زمین (پرما فراسٹ) کے پگھلنے اور سطحی پانی کی زیادتی سے پہاڑی ڈھلوانوں پر مٹی اور پتھروں کے بڑے بہاؤ پیدا ہو سکتے ہیں اور حساس مقامات پر اچانک سیلاب آنے کا امکان موجود ہے۔

محکمہ موسمیات نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، کیمپنگ اور ٹریکنگ سے گریز کرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے باعث غیر مستحکم علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

پی ایم ڈی کے مطابق درجہ حرارت میں نمایاں اضافے اور زیادہ بارشوں کے باعث برف اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، پانی کی سطح بلند ہونے اور نئی گلیشیائی جھیلوں کے بننے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق 26 جون سے اب تک بارشوں سے متعلق مختلف واقعات، جن میں چھتیں اور دیواریں گرنے اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات شامل ہیں، میں کم از کم 23 افراد جان سے گئے اور 90 زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

2022 کے تباہ کن سیلابوں میں 1,700 سے زائد افراد جان سے گئے تھے جبکہ 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور حکومت و عالمی بینک کے مطابق 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا تھا۔

گذشتہ سال انڈیا کی جانب سے تین دریاؤں میں اضافی پانی چھوڑنے کے بعد آنے والے دریائی سیلابوں نے پنجاب میں زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچایا تھا، جس سے گندم کی فصل کا بڑا حصہ متاثر ہوا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *