پاکستان نے بدھ کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کی بھرپور مذمت کی ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار آج اردن میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق ایک ہنگامی نوعیت کے وزارتی اجلاس میں شریک ہوئے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے سنگین اقدامات کے بعد عرب اور مسلم ممالک اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
مسجد الاقصیٰ اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔
اردن نے خبردار کیا ہے کہ اس مقام سے متعلق طویل عرصے سے قائم انتظامات کو تبدیل کرنے کی کوششیں پورے خطے میں کشیدگی کو بھڑکا سکتی ہیں۔
تقریباً تین سال سے جاری غزہ جنگ کے دوران مقبوضہ بیت المقدس ایک انتہائی حساس مرکز بن چکا ہے۔
Video of the statement by the Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 at Ministerial Meeting on the Deteriorating Situation in Occupied East Jerusalem (Amman, 5 August 2026) pic.twitter.com/oh5jxOl2sr
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 5, 2026
اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں بھی تشدد میں اضافہ ہوا ہے، جہاں اسرائیل نے فوجی کارروائیوں اور یہودی بستیوں کی تعمیر میں اضافہ کیا ہے، جس پر عالمی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے۔
پاکستان، جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، مسلسل 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا آیا ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
1967 کی مشرق وسطیٰ جنگ میں اسرائیل کی جانب سے مشرقی مقبوضہ بیت المقدس پر قبضے کے بعد سے قائم انتظامات کے تحت اردن اسلامی وقف کے ذریعے یہاں کے اسلامی مقدس مقامات کی سرپرستی برقرار رکھتا ہے جبکہ اسرائیل مجموعی سکیورٹی کا کنٹرول رکھتا ہے۔
اس انتظام کے تحت مسلمانوں کو اس مقام پر عبادت کی اجازت ہے جبکہ غیر مسلم مخصوص اوقات کے دوران وہاں جا سکتے ہیں۔
آج منعقد ہونے والے اجلاس میں اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اجلاس ایک ایسے موقعے پر ہو رہا ہے جب ’مقبوضہ فلسطینی علاقے، بشمول مشرقی مقبوضہ بیت المقدس، میں قابض طاقت اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات بدستور مقدس مقامات کے تقدس اور تاریخی حیثیت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ان کے بقول: بین الاقوامی قانون کو کمزور کر رہے ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کو نظر انداز کر رہے ہیں اور منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے امکانات کو مزید نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ’انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے مسجد الاقصیٰ/الحرم الشریف میں مسلسل دراندازیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جو اسرائیلی اعلیٰ حکام کی حوصلہ افزائی پر اور قابض افواج کے تحفظ میں کی جا رہی ہیں۔‘
اسحاق ڈار کے مطابق ’اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس کی مذہبی اور تاریخی حیثیت کو جان بوجھ کر نقصان پہنچا کر دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کر رہا ہے۔ ‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’یہ نہ صرف علاقائی امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے بلکہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ایک وسیع تر تنازع میں دھکیلنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔‘
پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ’ہم نہ تو ایسا ہونے دے سکتے ہیں اور نہ ہی ایسا ہونے دینا چاہیے۔ پاکستان اسرائیل کے ایسے اقدامات اور اشتعال انگیزیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
’اس امر میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ اسرائیل کو مشرقی مقبوضہ بیت المقدس یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔
’ان مقامات کی حیثیت یا کردار کو تبدیل کرنے کی تمام کوششیں کالعدم، بے اثر اور قانونی اعتبار سے بے معنی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اردن کو مسجد الاقصیٰ/الحرم الشریف کے انتظام و انصرام کے لیے واحد قانونی اختیار رکھنے والی اتھارٹی تسلیم کرتا ہے۔
’ہمیں مقبوضہ فلسطینی علاقے، خصوصاً مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں کے مسلسل پھیلاؤ، نئی بستیوں کے قیام، آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور فلسطینی عوام پر جاری ظلم و جبر پر بھی گہری تشویش ہے۔ ‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ ان حالات کے پیش نظر عرب اور اسلامی ممالک کو اتحاد، عزم اور اجتماعی اقدامات کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور انہیں درج ذیل اقدامات کرنے چاہییں
’مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے مقدس مقامات کے تحفظ کا اعادہ کرتے ہوئے مسجد الاقصیٰ/الحرم الشریف کے خلاف تمام خلاف ورزیوں کے فوری خاتمے، تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے اور مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر اور مقدس مقامات تک بلا روک ٹوک رسائی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
’بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بشمول قرارداد 2334، کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقے، بشمول مشرقی مقبوضہ بیت المقدس، میں تمام غیر قانونی اسرائیلی بستیوں، الحاق کی کوششوں، جبری بے دخلی اور آبادیاتی تبدیلیوں کو مسترد کرنا چاہیے۔‘
