وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے سے پیدا ہونے والے تیل کے جاری بحران کی وجہ سے ملک کا ہفتہ وار تیل کا بل 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ ایران نے آبنائے ہرمز بھی بند کر دیا، جس کے باعث جہاز رانی مفلوج ہونے کی وجہ سے گذشتہ دو ماہ کے دوران ایندھن کی عالمی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔
اب اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے، تاہم آبنائے ہرمز مکمل طور پر نہیں کھل سکی ہے۔
اسلام آباد میں بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’عالمی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کا ہفتہ وار تیل کا بل 30 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ سے بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔‘
انہوں نے مزہد کہا کہ وفاقی حکومت نے جمعے کو نئی قیمتوں کا تعین کرنا ہے۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے جا رہی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کو بتایا کہ کہ ملک کی ایندھن کی کھپت ’گذشتہ ہفتوں کے مقابلے میں کم ہوئی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ صورت حال کی باقاعدگی سے نگرانی کی جا رہی ہے اور ایندھن کی سبسڈی بڑھانے کے لیے صوبوں سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے۔
اپنے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو ایک مرتبہ پھر سراہا اور کہا کہ اسلام آباد میں ایران۔امریکہ مذاکرات کے دوران بہت زیادہ چیلنجز اور مشکلات کے باوجود فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہمت نہیں ہاری اور یوں سیز فائر میں توسیع ممکن ہو سکی۔
11 اور 12 اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں پہلے سے جاری دو ہفتوں کے لیے سیز فائر میں توسیع بھی ممکن ہو سکی تھی۔
اس سلسلے میں وزیراعظم نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق دار کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ کئی اہم شخصیات کی کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر میں توسیع ممکن ہو سکی۔
وزیراعظم نے کہا: ’ایران اور امریکہ کے درمیان 11 اپریل کی رات پاکستان میں ہونے والے مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے۔ یہ ایک طویل میراتھن سیشن تھا۔ پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے بھرپور اور مخلصانہ کوششیں کی گئیں۔ ان کوششوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اسحاق ڈار، اور دیگر اہم شخصیات نے بھرپور کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں سیز فائر میں توسیع دی گئی، جو اب بھی جاری ہے۔‘
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے روس جانے سے قبل انہیں فون پر بتایا کہ وہ اپنی قیادت سے مشورے کے بعد جلد از جلد جواب دیں گے۔
عباس عراقچی گذشتہ منگل کو اپنی ٹیم کے ہمراہ پاکستان آئے تھے اور اگلے ہی دن عمان کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔
بعدازاں ایرانی سفارت کار اسی روز عمان سے واپس آئے اور جمعرات کو روس روانہ ہو گئے، جہاں ان کی ملاقات روسی صدر ولا دی میر پوتن سے ہوئی۔
پاکستان میں قیام کے دوران انہوں نے کئی اہم ملاقاتیں کی تھیں۔
