سرحدی جھڑپیں: افغانستان کا احتجاج، پاکستان کا آپریشن غضب للحق جاری

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد آج پاکستان نے سرحدی علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں کی تفصیلات جاری کی ہیں جبکہ کل افغانستان حکومت نے پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

ریڈیو پاکستان پر پاکستان سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’پاکستان افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے بلااشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان آرمی نے آپریشن غضب للحق کے تحت مؤثر کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔‘

’چمن سیکٹر میں کارروائی کے دوران افغان طالبان کی متعدد چوکیاں اور گاڑیاں درست نشانہ لگا کر تباہ کی گئیں، جبکہ مؤثر جوابی کارروائی کے باعث افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ ملکی دفاع اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز کا عزم غیر متزلزل ہے اور یہ کارروائیاں مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔

افغان وزارت خارجہ نے کل کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کر کے ایک احتجاجی مراسلہ حوالے کیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کے قریب صوبہ کنڑ میں شہری اہداف اور عوامی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

بی این اے نیوز ایجنسی کے مطابق افغانستان وزیر اعظم آفس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ملا عبدالواسع نے آج برطانیہ کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان رچرڈ لیندزی سے ملاقات میں کہا ہے کہ افغانستان ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے اور دوستانہ تعلقات کے استحکام کی خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کسی پر حملہ نہیں کر رہا اور نہ ہی تشدد کا حامی ہے، تاہم ملک کی خودمختاری اور شہریوں کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *