پاکستان نے کشمیر سے متعلق نقشے کے انڈین دعوے کو مسترد کر دیا

پاکستان نے پیر کو کہا ہے کہ انڈیا کے ’یکطرفہ اقدامات‘ اور مسلسل غیر قانونی قبضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان کا یہ بیان انڈیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے جاری کیے گئے بیان پر پوچھے گئے سوالات کے جواب میں سامنے آیا ہے۔

اپنے بیان میں سجاد حیدر کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کی حیثیت کے حوالے سے انڈیا کے دعووں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقائق کے منافی ہیں۔

اس سے قبل انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے چھ ستمبر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے چار ستمبر، 2026 کو ’درست نقشہ۔ عالمی نقشہ جاتی نمائندگی میں توازن اور دنیا کے خطوں، خاص طور پر افریقہ کی مساوی نمائندگی کے فروغ‘ کے عنوان سے قرارداد منظور کی۔ 

انڈین ترجمان کے مطابق اس قرارداد کا ’مقصد مساوی رقبے والے نقشے کی پروجیکشنز کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو براعظمی زمینی خطوں کے متعلقہ سائز کو برقرار‘ رکھتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔

انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ یہ قرارداد کسی مخصوص نقشے، پروجیکشن یا قومی سرحدوں کی عکاسی کی توثیق نہیں کرتی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’انڈیا کے خودمختار علاقے کو، جس میں جموں و کشمیر اور لداخ کے وفاق کے زیر انتظام علاقے شامل ہیں، انڈیا کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے۔ کوئی بھی غلط یا گمراہ کن عکاسی ناقابل قبول ہے۔ انڈیا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر ہمارا موقف واضح، مستقل اور ناقابل سمجھوتہ ہے۔‘ 

اس کے جواب میں پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے پیر 7 ستمبر کو ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کے سرکاری نقشے، جن میں جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ دکھایا گیا ہے، علاقے کی موجودہ قانونی حیثیت کی واحد نقشہ جاتی نمائندگی ہیں۔

’انڈیا کے نام نہاد سرکاری نقشوں اور خودمختاری کے یکطرفہ دعووں کا اس متنازع علاقے کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔‘

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانے، حل طلب اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعات میں سے ایک ہے۔

’اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اس کا حتمی فیصلہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق کیا جانا چاہیے، جس کا اظہار اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہونے والی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے۔‘ 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *