آسٹریلیا: لائبریری سے لی گئی کتاب 150 سال بعد واپس

آسٹریلیا کی ایک عوامی لائبریری کو ایک کتاب تقریباً 150 سال کی تاخیر سے واپس ملی ہے، جو حالیہ گھر کی مرمت کے دوران ایک بند آتش دان سے دریافت ہوئی۔

اینٹیکویٹیز آف ایتھنز (Antiquities of Athens) نامی یہ کتاب، جو 1858 میں شائع ہوئی تھی، گذشتہ ہفتے ساحلی قصبے کیاما کی لائبریری کو واپس ملی۔ یہ کتاب ایک مقامی شخص کو ایک چائے کی ایک پیٹی کے اندر ملی، جو ایک غیر استعمال شدہ آتش دان میں اینٹوں سے بند کی گئی تھی۔

کیاما لائبریری کی مینیجر مشیل ہڈسن نے کہا: ’اتنی پرانی کوئی چیز پہلے کبھی ہمیں واپس نہیں ملی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں سوشل میڈیا پر بہت سی لائبریریوں کو فالو کرتی ہوں اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب لوگ وراثتی املاک کی صفائی کرتے ہیں تو 30 یا 40 سال پرانی چیزیں واپس آ جاتی ہیں۔‘

مشیل ہڈسن کے مطابق اگر افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو اس کتاب کی تاخیر سے واپسی پر جرمانہ تقریباً 28 ہزار آسٹریلوی ڈالر (14 ہزار 600 برطانوی پاؤنڈ) بنتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ حساب کتاب اس برطانوی قانون کے مطابق کیا گیا، جس کے تحت ہر ہفتے تاخیر پر تین پنس جرمانہ عائد ہوتا تھا۔ یہ شرح کتاب کے اندرونی سرورق پر درج تھی، جہاں ان قواعد کی فہرست بھی موجود تھی جو 1872 میں لائبریری کے افتتاح کے وقت نافذ تھے۔

تاہم ہڈسن نے کہا کہ آخری مرتبہ کتاب لینے والے شخص کا سراغ لگانے کا کوئی طریقہ نہیں، اس لیے اس بھاری قرض کے اصل ذمہ دار کی شناخت اب بھی ایک معمہ ہے۔

1870 کی دہائی کا وہ لائبریری رجسٹر، جس میں درج تھا کہ کون سی کتاب کس نے اور کب حاصل کی، گم ہو چکا ہے۔

مشیل ہڈسن نے کہا: ’بدقسمتی سے ہمارے پاس ایک اہم کڑی موجود نہیں۔ کتاب میں ایسی کوئی چیز نہیں جو یہ بتائے کہ آخری مرتبہ اسے کس نے حاصل کیا تھا۔‘

1870 کی دہائی کے لائبریری قواعد کے مطابق کوئی شخص اس وقت تک دوسری کتاب حاصل نہیں کر سکتا تھا جب تک وہ پہلی کتاب واپس نہ کر دے اور تاخیر کا جرمانہ ادا نہ کر دے۔

ہڈسن نے مزاحیہ انداز میں کہا: ’شاید اسی لیے انہوں نے یہ کتاب کبھی ہمیں واپس نہیں کی۔‘

اس دور کے دیگر پرانے قواعد میں یہ بھی شامل تھا کہ صرف ایسے گھرانے زیادہ سے زیادہ تین کتابیں ادھار لے سکتے تھے، جن کے کم از کم چھ افراد ’پڑھنا جانتے ہوں۔‘

تاہم آج کی لائبریری استعمال کرنے کے لیے پڑھنے کی صلاحیت کا کوئی ثبوت درکار نہیں۔

1870 کی دہائی میں ’نشے کی حالت میں‘ لائبریری آنے والوں کو کتابیں جاری نہیں کی جاتی تھیں۔

آج بھی اگر کسی صارف کا رویہ دوسرے افراد کے لیے مسئلہ بنے تو اسے لائبریری سے جانے کے لیے کہا جاتا ہے، تاہم موجودہ قواعد میں نشے کی حالت کا خاص طور پر ذکر نہیں۔

مشیل ہڈسن نے بتایا کہ کئی برس تک چمنی کے نیچے رہنے کے باعث کتاب کو پانی سے کچھ نقصان پہنچا ہے۔

یہ کتاب لائبریری کے ابتدائی تقریباً ایک ہزار کتابوں کے ذخیرے میں نمبر 506 کے طور پر درج تھی۔

ان کا خیال ہے کہ لائبریری کے قیام کے چند ہی برس بعد یہ کتاب گم ہو گئی تھی۔

واپس ملنے والی اس کتاب کو اب لائبریری کے مقامی تاریخ کے ذخیرے میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔

مشیل ہڈسن نے کہا: ’ہم اسے دوبارہ کسی کو جاری نہیں کریں گے۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس کتاب کی واپسی کے لیے دوبارہ 150 سال انتظار کرنا پڑے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *