پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قرض کے لیے مذاکرات شروع

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ملک کے بیل آؤٹ پروگرام اور ماحولیاتی فنانسنگ انتظام کے تحت مجموعی طور پر 1.2 ارب ڈالر کی ممکنہ قسط جاری کرنے کے لیے باضابطہ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق مذاکرات میں پاکستان کے 37 ماہ کے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) پروگرام کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) کے تیسرے جائزے پر بات ہوگی۔

ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی جائزہ کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستان کو تقریباً 1 ارب ڈالر جبکہ آر ایس ایف کے جائزے کے بعد تقریباً 20 کروڑ ڈالر مل سکتے ہیں، یوں مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی رقم جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔

مذاکرات ایسے وقت میں شروع ہوئے ہیں جب پاکستان کو بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اور فروری میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والے تنازع کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔

خلیج سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں نے پاکستان کے درآمدی بل اور مقامی قیمتوں سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے معاشی بحالی کے عمل کو برقرار رکھنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔

وزارت خزانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ ابتدائی اجلاس کیا، جس کی سربراہی آئیوا پیٹرووا کر رہی ہیں۔

وزارت کے مطابق آئی ایم ایف مشن پاکستان کے ای ایف ایف کے چوتھے اورآر ایس ایف کے تیسرے جائزے کے لیے اسلام آباد میں موجود ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم وزارت خزانہ نے مذاکرات کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔

پاکستان نے 2024 میں 37 ماہ کے بیل آؤٹ پروگرام میں شمولیت اختیار کی تھی، جس کا مقصد ٹیکس وصولیوں میں اضافہ، بجلی کے شعبے کے مالی معاملات میں بہتری اور سرکاری اداروں میں اصلاحات سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے ملکی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔

مئی 2025 میں منظور کیے گئے کلائیمیٹ فوکسڈ فنانسنگ پروگرام کے تحت قدرتی آفات سے نمٹنے کی منصوبہ بندی، پانی کے انتظام اور سرکاری سرمایہ کاری میں موسمیاتی خطرات کو مدنظر رکھنے سے متعلق اصلاحات کی حمایت کی جاتی ہے۔

آئی ایم ایف نے آخری بار مئی میں پاکستان کے لیے تقریباً 1.1 ارب ڈالر اقتصادی پروگرام کے تحت اور 22 کروڑ ڈالر موسمیاتی فنانسنگ کے تحت جاری کیے تھے۔

عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق آئی ایم ایف کے مطابق اس وقت تک دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 4.8 ارب ڈالر موصول ہوچکے تھے۔

گذشتہ ہفتے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام پر مثبت رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اصلاحات پر مسلسل عمل درآمد سے جنوبی ایشیائی ملک میں اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد یہ بات کہی تھی، جس میں پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے اور آئی ایم ایف پروگرام کے آئندہ جائزے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *