پاکستان کے وزیر پیٹرولیم اور کویت فارن پیٹرولیم ایکسپلوریشن کمپنی (کے یو ایف پی ای سی) نے منگل کو ملک کے اپ اسٹریم توانائی کے شعبے میں کویتی کمپنی کی سرمایہ کاری بڑھانے پر بات چیت کی۔
یہ مذاکرات ایسے وقت ہوئے جب اسلام آباد خلیج میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق کے یو ایف پی ای سی، جو کویت پیٹرولیم کارپوریشن کی بین الاقوامی اپ اسٹریم ذیلی کمپنی ہے، 1987 سے پاکستان میں کام کر رہی ہے اور اب تک تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہے۔
یہ کمپنی پاکستان کے کئی پیداواری گیس فیلڈز میں حصص رکھتی جبکہ مکھڈ ایکسپلوریشن بلاک کی آپریٹر بھی ہے۔ کمپنی نے پاکستان کے آئندہ آف شور لائسنسنگ راؤنڈ میں شرکت کے منصوبوں کا بھی عندیہ دیا ہے۔
Federal Minister Ali Pervaiz Malik met Mr. Tareq Ebrahim, VP Operations of KUFPEC, to discuss expanding cooperation in Pak. Minister reaffirmed Pak’s commitment to strengthening its 50+ years energy partnership with Kuwait & assured full support for KUFPEC’s future investments pic.twitter.com/GvbCUHpRJr
— Petroleum Division, Ministry of Energy (@Official_PetDiv) July 21, 2026
پاکستانی وزارت پیٹرولیم کی جانب سے جاری بیان بیان میں کہا گیا کہ کے یو ایف پی ای سی کے نائب صدر برائے آپریشنز طارق ابراہیم نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے ملاقات کے بعد کہا: ’کے یو ایف پی ای سی پاکستان کے اپ سٹریم توانائی کے شعبے میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے مضبوط امکانات دیکھتی ہے۔‘
علی پرویز ملک نے کمپنی کو حکومتی مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیٹرولیم کے شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کویت کو پاکستان کے قریبی ترین شراکت داروں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں پانچ دہائیوں سے زائد عرصے سے تعاون جاری ہے۔
پاکستان نے تیل و گیس کی تلاش میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ مقامی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، جو ملک کے درآمدی بل کا بڑا حصہ بنتا ہے۔
حکومت نے خلیجی شراکت داروں کے ساتھ ایندھن کی فراہمی کے معاہدوں، ریفائننگ منصوبوں اور سٹریٹجک پیٹرولیم ذخیرہ کاری کے اقدامات کے ذریعے توانائی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔
یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی نے آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی فراہمی اور شپنگ کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں، جو دنیا کے اہم ترین تیل کی ترسیل کے راستوں میں سے ایک ہے۔
پاکستان نے فریقین پر بارہا تحمل اور مذاکرات پر زور دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ جاری کشیدگی علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہے، عالمی توانائی کی فراہمی میں خلل ڈال سکتی ہے اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔
پاکستان اور کویت انرجی سکیورٹی اور سرمایہ کاری سمیت دفاع کے شعبے میں بھی تعاون کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں کیوں کہ دونوں ممالک علاقائی عدم استحکام کے اثرات سے نمٹ رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے روئٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ دونوں ممالک ایک وسیع دفاعی شراکت داری پر بھی غور کر رہے ہیں، جس میں توانائی تعاون شامل ہو سکتا ہے، تاہم حکام کے مطابق یہ بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
