پاکستان کے لیے قطر سے ایل این جی لے کر آنے والے جہاز پر حملے کے بعد حکومت پاکستان نے پیر کو واقعے پر قیاس آرائی سے گریز کرنے کام مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاز کو آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے نہیں بلکہ اس سے پہلے نشانہ بنایا گیا۔
قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی کے جہاز ’المعیدہ‘ پر 30 اکتوبر کو خلیج میں حملہ ہوا تھا۔ یہ جہاز قطر سے پاکستان کے لیے ایل این جی لے کر آ رہا تھا۔ حملے کے بعد جہاز نے اپنا راستہ تبدیل کیا اور واپس خلیج فارس کی جانب مڑ گیا۔ اطلاعات کے مطابق جہاز پر موجود عملے کے تمام 25 ارکان محفوظ رہے۔
قطر اور سعودی عرب نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ نے واقعے کو عالمی توانائی کی فراہمی اور سمندری نقل و حمل کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملے کے حالات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ سعودی عرب نے بھی جہاز کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی تجارت اور سمندری راستوں کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد میں پیر کو پریس کانفرنس کے دوران جب حکومتی وزرا سے اس حملے، اس کے ذمہ داروں اور پاکستان کی توانائی کی فراہمی پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوال کیا گیا تو وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں کسی بھی چیز کی قلت نہیں اور مشکل ترین حالات میں بھی کارگو آتے رہے ہیں، جس سے سپلائی برقرار رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات حساس ہیں، اس لیے وہ اس معاملے پر زیادہ تفصیلات میں نہیں جانا چاہتے۔ غیر مصدقہ رپورٹس اور ذرائع کی بنیاد پر بات کرنے کے بجائے تصدیق شدہ معلومات کا انتظار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی مستند معلومات دستیاب ہوں گی، میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
دوسری جانب وزیر پیٹرولیم نے جہاز کے مقام سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جس مقام پر جہاز کو نشانہ بنایا گیا، وہ آبنائے ہرمز سے پہلے تھا، نہ کہ آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے۔ انہوں نے اس سے آگے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔
پریس کانفرنس میں وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت ایل این جی کی فراہمی اور سردیوں میں پائپ لائن کے ذریعے گیس کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے مزید پیش رفت سے آئندہ ایک دو روز میں آگاہ کیا جائے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پریس کانفرنس کے دوران وزیر پیٹرولیم نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، درآمدی اخراجات اور مقامی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کے اقدامات کی تفصیلات بھی بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں کے علاوہ جہازوں کے کرایوں اور انشورنس اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے جو بڑے آئل ٹینکر چند لاکھ ڈالر میں دستیاب ہوتے تھے، اب ان کے کرائے دس لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے حالیہ ٹینڈرز میں درآمدی تیل کے پریمیم میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 31 اکتوبر سے پہلے منظور ہونے والی قیمتوں میں تقریباً 20 ڈالر فی بیرل پریمیم شامل تھا، جبکہ بعد کے ٹینڈرز میں یہ پریمیم 30 ڈالر سے بھی تجاوز کرنے کا خدشہ تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مقامی ریفائنریز سے مشاورت کی گئی تاکہ عالمی منڈی میں اضافے کا پورا بوجھ عوام پر منتقل نہ ہو۔ ان کے مطابق پاکستان کی تقریباً 30 فیصد پیٹرول کی ضروریات مقامی ریفائنریز پوری کرتی ہیں، جبکہ باقی 70 فیصد درآمد کرنا پڑتا ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ریفائنریز نے حکومت کی درخواست پر پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ برداشت کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے صارفین کو فوری ریلیف مل سکے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ریفائنریز پر ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد مستقل طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرنا نہیں بلکہ حالات معمول پر آنے کے بعد دوبارہ ڈی ریگولیشن اور مسابقتی نظام کی طرف جانا ہے۔
