سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجح بن طامى البقمى نے جمعے کو پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک سے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں تیل کے ذخیرے، آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، ایل پی جی کی فراہمی اور معدنیات کے شعبوں میں دوطرفہ سٹریٹجک تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت سے جاری بیان کے مطابق علی پرویز ملک نے سعودی سرمایہ کاری کے لیے پاکستان میں موجود مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے بانڈڈ آئل اسٹوریج پالیسی اور حب میں مجوزہ پیٹرولیم کمپلیکس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
(1/2) Federal Minister Ali Pervaiz Malik met Amb H.E. Dr. Rajeh bin Tami Al-Baqmi to discuss expanding strategic cooperation in oil storage, refinery upgradation, LPG supplies and minerals. The Minister highlighted investment opportunities in Pak’s bonded oil storage https://t.co/ydej04fpeI
— Petroleum Division, Ministry of Energy (@Official_PetDiv) October 30, 2026
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے سعودی عرب کو توانائی کی ترسیل کے متبادل راستوں میں مزید سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے نئے مواقع بھی فراہم کر سکتے ہیں۔
ملاقات میں دونوں ممالک نے توانائی کے تحفظ، سرمایہ کاری کے فروغ اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعلقات قائم ہیں۔
ریاض نے معاشی مشکلات کے دوران اسلام آباد کو مالی معاونت فراہم کی ہے اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے بھی کیے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون میں بھی وسعت آئی ہے۔
پاکستان نے ستمبر 2025 میں سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی معاہدہ کیا تھا، جبکہ رواں سال اگست میں سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یمن سے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور دیگر شہری تنصیبات پر پے در پے حملوں کا سلسلہ جاری اور پاکستان کی طرف سے اس شدید مذمت کرتے ہوئے کہا جاتا رہا ہے کہ سعودی عرب میں واقع اسلام کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے پاکستان کے تمام وسائل سعودی عرب کو دستیاب ہیں۔
