پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت جنرل سیکریٹریٹ، کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے تینوں ممالک کے سربراہانِ افواج کا فوری اجلاس بلانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری بیان میں کہا گیا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ملاقات کی۔
ملاقات میں تینوں وزرائے خارجہ نے معاہدے کے تحت جنرل سیکریٹریٹ، کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور ان کے کام کے آغاز کی تیاریوں پر بات چیت کی۔
PR No.
Foreign Ministers of the Makkah Joint Defense Agreement Meet on the Margins of the United Nations General Assembly in New York
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 25, 2026
تینوں وزرائے خارجہ نے مقدس شہر مکہ اور سعودی عرب میں شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کی اور سعودی مسلح افواج کی مستعدی اور مملکت کی سلامتی کے دفاع کی صلاحیت کو سراہا۔
بیان کے مطابق وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کے اس حق کی توثیق کی کہ وہ اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے ایسے اقدامات کر سکتا ہے جنہیں وہ مناسب سمجھے۔
ملاقات میں تینوں ممالک کے سربراہانِ افواج کی فوری ملاقات بلانے کے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی مدد کے طریقوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
وزرائے خارجہ نے خطے کی موجودہ صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور بین الاقوامی قانون، اچھے ہمسایہ تعلقات، ریاستوں کی خودمختاری کے باہمی احترام اور ان کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے بحری جہاز رانی کی سلامتی اور آزادی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے، کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت اور بحرانوں کے پرامن حل کی حوصلہ افزائی کے عزم کا اعادہ کیا۔
