ٹینس: کیا نوواک جوکووچ کے کھیل کا اختتام قریب ہے؟

نوواک جوکووچ اتوار کو 20 برس میں کسی گرینڈ سلیم کے ابتدائی ترین راونڈ میں شکست سے دوچار ہوئے اور کہا کہ وہ ان جسمانی مسائل کا حل نہیں جانتے جن کا انہیں اس سال ’تقریباً ہر میچ‘ میں سامنا کرنا پڑا۔

ارجنٹینا کے ماریانو ناوونے کی 7-6 (7/5)، 5-7، 4-6، 6-2، 6-1 کی فتح نے جوکووچ کی ریکارڈ 25ویں گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے کی تازہ کوشش کا خاتمہ کر دیا۔

اس شکست کے ساتھ ہی گرینڈ سلیم کے پہلے راؤنڈ میں ان کی 78 فتوحات کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا، جو 2006 آسٹریلین اوپن میں پال گولڈسٹین کے ہاتھوں شکست کے بعد سے جاری تھا۔

جوکووچ کورٹ میں قے کرتے رہے اور میچ کے آخری حصے میں پٹھوں کے کھچاؤ اور کمر کے درد سے بھی نبردآزما رہے، ایک ایسا ’خوفناک احساس‘ جس کے وہ اب عادی ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’بدقسمتی سے یہ ایسی چیز ہے جسے میں اس سال تقریباً ہر میچ میں ساتھ لیے پھر رہا ہوں۔ قے، الٹیاں … پھر میرا پورا جسم جواب دینا شروع کر دیتا ہے، بنیادی طور پر کھنچاؤ اور درد کی وجہ سے۔‘

اگرچہ وہ اس سال آسٹریلین اوپن کے فائنل اور ومبلڈن کے سیمی فائنل تک پہنچے تھے، جوکووچ نے کہا کہ اس وقت وہ ٹورنامنٹس میں بہت آگے تک جانے کے قابل نہیں ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے۔

بعض ماہرین کے مطابق ضروری نہیں کہ اسے فوراً نوواک جوکووچ کے کھیل کا خاتمہ قرار دیا جائے، لیکن یہ یقیناً ان کے کیریئر کے سب سے تشویش ناک مراحل میں سے ایک ہے۔ حالیہ یو ایس اوپن شکست کے بعد خود جوکووچ نے اعتراف کیا کہ انہیں اس سال تقریباً ہر میچ میں قے، پٹھوں کے کھنچاؤ، کمر اور کندھے کے مسائل کا سامنا رہا ہے اور وہ ابھی تک اس کی وجہ یا حل نہیں جانتے۔

جوکووچ کی عمر اب 39 سال ہے، اور جسمانی مسائل عمر کے ساتھ زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’میں صرف یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آخر ہو کیا رہا ہے اور میں اس حالت میں کہاں تک جا سکتا ہوں۔‘

اپنی مشکلات کے باوجود جوکووچ اس وقت میچ پر حاوی نظر آ رہے تھے جب انہوں نے چوتھے سیٹ میں ایک شان دار بیک ہینڈ ونر کے ذریعے ناوونے کی سروس توڑ کر 2-1 کی برتری حاصل کر لی۔

لیکن ناوونے نے اگلے پانچ گیمز جیت لیے۔ 5-2 کی برتری حاصل کرنے کے لیے دو بریک پوائنٹس بچانے کے بعد انہوں نے جشن میں بازو بلند کیے اور پھر جوکووچ کی سروس دوبارہ توڑ کر میچ کو پانچویں سیٹ میں پہنچا دیا۔

جوکووچ نے آخری سیٹ سے پہلے میڈیکل ٹائم آؤٹ لیا، اس دوران ان کی ریڑھ کی ہڈی کی مالش کی گئی اور انہیں مزید دوا دی گئی۔

لیکن ناوونے فیصلہ کن سیٹ میں 3-0 کی برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور شائقین کی بھرپور حوصلہ افزائی کے باوجود سرب کھلاڑی کے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا کیونکہ ان کے حریف نے اپنی سروس پر صرف ایک پوائنٹ گنوایا اور برق رفتاری سے فتح کی جانب بڑھ گئے۔

چار گھنٹے اور 36 منٹ تک جاری رہنے والے مقابلے میں اپنے دیرینہ آئیڈیل کے خلاف پہلی بار کامیابی حاصل کرنے کے بعد انتہائی خوش ناوونے نے کہا: ’یہ ناقابلِ یقین ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’یہ ایک سخت میچ تھا، ایک جنگ تھی۔ نوواک کے خلاف پہلی مرتبہ کھیلنا، وہ بھی ٹینس کی دنیا کے سب سے بڑے سٹیج پر … یعنی 20 سال میں وہ کبھی پہلے راؤنڈ میں نہیں ہارے تھے، اس لیے یہ واقعی دیوانگی ہے۔‘

48ویں نمبر پر موجود ناوونے کو اپنی ذہنی مضبوطی پر سب سے زیادہ فخر تھا۔

انہوں نے کہا: ’میں دو سیٹ کے مقابلے میں ایک سیٹ سے پیچھے تھا اور چوتھے سیٹ میں بریک سے بھی پیچھے تھا، لیکن اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ میں کر سکتا ہوں۔‘

جوکووچ نے میچ کے دوسرے گیم میں ناوونے کی سروس توڑ دی اور یوں پہلے سیٹ میں 3-1 کی برتری حاصل کر لی۔

لیکن وہ واضح طور پر مشکلات کا شکار تھے، اور جیسے جیسے ناوونے کا اعتماد بڑھتا گیا، جوکووچ کو 0-40 کے خسارے سے نکل کر 4-1 کی برتری برقرار رکھنا پڑی۔ وہ تھکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے جبکہ ناوونے طویل ریلیاں کھیلنے لگے۔

بریک پوائنٹ پر جوکووچ کی ڈبل فالٹ نے ناوونے کو خسارہ کم کر کے 4-3 کرنے کا موقع دیا، اور جب بارش کے باعث چھت بند کرنے کے لیے مختصر وقفہ لیا گیا تو ناوونے نے ایک بھی پوائنٹ گنوائے بغیر اپنی سروس برقرار رکھتے ہوئے سکور 4-4 برابر کر دیا۔

دونوں کھلاڑی ٹائی بریک تک ڈٹے رہے، لیکن ٹرینر کی جانب سے دی گئی گولیاں بھی جوکووچ کی سستی دور نہ کر سکیں۔

وہ ٹائی بریک میں 4-2 سے پیچھے ہو گئے، اور 5-5 برابر کرنے کے لیے ایک خوبصورت زاویے دار فورہینڈ ونر کھیلنے کے بعد جوکووچ نے ایک فورہینڈ باہر مار دیا اور دوسرا کمزور شاٹ نیٹ میں لگا بیٹھے، یوں سیٹ ناوونے کے نام ہو گیا۔

سخت مقابلے والے دوسرے سیٹ میں جوکووچ نے تیسرے اور پانچویں گیم میں بریک کے مواقع ضائع کیے، لیکن پھر انہوں نے ناوونے کی سروس بغیر کوئی پوائنٹ دیے توڑ کر 6-5 کی برتری حاصل کی اور اپنی سروس بھی بغیر کوئی پوائنٹ گنوائے برقرار رکھتے ہوئے مقابلہ ایک، ایک سیٹ سے برابر کر دیا۔

’بہت شکر گزار ہوں‘

تیسرا سیٹ بھی تقریباً اسی انداز کا رہا، جہاں ہر طویل ریلی کے بعد جوکووچ انتہائی تھکے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔

انہوں نے تیسرے سیٹ کے پانچویں گیم میں ایک قیمتی بریک موقع ضائع کر دیا، اور جب ناوونے نے اپنی سروس برقرار رکھتے ہوئے 3-2 کی برتری حاصل کی تو جوکووچ تقریباً گر پڑے اور کورٹ کے کنارے رکھی اپنی کرسی پر ڈھیر ہو گئے اور تولیے میں چہرہ چھپا لیا۔

سرب کھلاڑی نے ہمت نہیں ہاری اور انہیں 5-4 کی برتری کے لیے ایک اہم بریک مل گیا۔ انہوں نے سروس برقرار رکھ کر دو سیٹ ایک کی سبقت حاصل کی، لیکن اس برتری کو قائم نہ رکھ سکے۔

جوکووچ نے چوتھے سیٹ میں 2-1 کی برتری کے لیے ناوونے کی سروس توڑی، مگر اس کے بعد اگلے آٹھ گیمز مسلسل ہار گئے۔

جب سب کچھ ختم ہو گیا تو جوکووچ نے ناوونے کو گلے لگایا، پھر تماشائیوں کی جانب بوسے اچھالتے ہوئے کورٹ سے رخصت ہو گئے۔ یہی وہ شائقین تھے جو انہیں جیت دلانے کے لیے مسلسل حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔

انہوں نے شائقین کی حمایت کے بارے میں کہا: ’اس تجربے پر میں بہت شکر گزار ہوں۔ وہ اہم لمحات میں مجھے سنبھالنے اور اوپر اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے … آخر میں جس محبت اور قدر دانی کا انہوں نے اظہار کیا، اس نے واقعی میرے دل کو چھو لیا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *