وہ خاتون جس نے لاش کو زبان دی

موت کے بعد انسان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچتا۔

وہ زبان سے نہیں بتا سکتا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ وہ اپنے قاتل کا نام نہیں لے سکتا، اپنے زخموں کی کہانی نہیں سنا سکتا، نہ یہ بتا سکتا ہے کہ آخری لمحوں میں اس کے ساتھ کیا ہوا۔

اس کے پاس کچھ بھی نہیں بچتا۔پیچھے صرف ایک بے جان، خاموش جسم رہ جاتا ہے۔

لیکن کبھی کبھی یہ ہی جسم اتنا کچھ کہہ دیتا ہے کہ پوری کہانی بدل جاتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اسے پڑھنے والا اسے درست طریقے سے پڑھنا جانتا ہو۔

کراچی کا میر رضا علی خان صرف 25 برس کا نوجوان تھا۔ وہ لاپتہ ہوا۔ اگلے روز اس کی لاش ملی اور یوں ایک نوجوان کی زندگی کا باب ختم ہو گیا۔

لیکن موت کے ساتھ سوال ختم نہیں ہوا۔ اصل سوال تو وہیں سے شروع ہوا۔ میر رضا مرا کیسے؟

پولیس کے پاس اس سوال کا جواب بہت جلد آ گیا شاید ضرورت سے بھی زیادہ جلد۔ ایک میڈیکو لیگل رپورٹ موجود تھی۔ مبینہ دباو موجود تھا۔ کیس کو کسی نتیجے تک پہنچانے کی ضرورت تھی اور سب سے بڑھ کر شاید قاتل بھی یہ ہی چاہتا تھا۔ چنانچہ موت کو خودکشی قرار دے دیا گیا۔ اور وجہ؟ مالی مشکلات۔

یہ ہی وہ مقام ہے جہاں کسی بھی قتل کی تفتیش میں سب سے خطرناک چیز سامنے آتی ہے۔ ایک ایسی آسان کہانی جو بہت سے سوالوں سے بچا لے۔ جرائم، بالخصوص قتل کی تفتیش میں، بعض اوقات جرم سے زیادہ خطرناک اس کی ایک سہل توجیہہ ہوتی ہے۔ ایسی وجہ جس میں زیادہ سوال نہ ہوں، زیادہ محنت نہ ہو اور فائل بھی جلدی بند ہو جائے۔

میر رضا کے معاملے میں بھی بظاہر ایک ایسی ہی کہانی سامنے آئی تھی۔ لیکن خاندان نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ میر رضا کو پہلے اغوا کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کر دیا گیا۔

یہاں ایک وضاحت ضروری ہے۔

میر رضا کا ابتدائی پوسٹ مارٹم پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے نہیں کیا تھا۔ لاش کا پہلا معائنہ متعلقہ میڈیکو لیگل افسر نے کیا تھا۔ ڈاکٹر سمیہ بعد میں اس معاملے میں سامنے آئیں۔ اور یہ ہی اس کہانی کا اصل موڑ ہے۔

انہوں نے رپورٹ پڑھی۔ سوال اٹھائے۔ پہلے اپنے ایم ایل او سے پوچھا۔ اطمینان نہ ہوا تو پولیس کی توجہ دلائی۔ پہلے زبانی بات کی۔ جب بات آگے نہ بڑھی تو قلم اٹھایا اور باقاعدہ خط لکھ دیا۔ اس مکتوب میں ابتدائی پوسٹ مارٹم کی 14 سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ معمولی اعتراضات نہیں تھے۔ موت کی نوعیت متنازع تھی، مگر ایکسرے نہیں کرائے گئے تھے۔ گن شاٹ ریزیڈیو اور ڈی این اے جیسے اہم فرانزک شواہد حاصل نہیں کیے گئے تھے۔ کھوپڑی اور گردن کے اندرونی معائنے سے متعلق بھی سوالات موجود تھے۔

فائر آرم کے مقدمے میں جن بنیادی فرانزک تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، وہ ہی یہاں سوال بن کر کھڑے تھے۔ ڈاکٹر سمیہ نے ایک اور بہادرانہ قدم اٹھایا اور ملک کے بڑے چینل کے مشہور پروگرام میں چلی گئیں اور یہ ہی تفصیلات موثر انداز میں قوم کے سامنے رکھ دیں۔ اور پھر تفتیش میں ایک ایسا وقت آیا جس نے پہلے سے موجود شکوک کو مزید گہرا کر دیا۔

واقعے کے آٹھ دن بعد جائے وقوعہ سے گولی کا ایک خول برآمد ہوا۔ جی ہاں، آٹھ دن بعد۔ وہی جائے وقوعہ جہاں ابتدائی تفتیش کے دوران ایسا کچھ سامنے نہیں آیا تھا جو موت کے راز کو کھولنے میں مدد دے سکتا۔ حساس قتل کے مقدمے میں جائے وقوعہ سے اتنے دن بعد کوئی اہم فرانزک شے ’ملنا‘ کیس کو حل کرنے کے بجائے مزید سوالات پیدا کرتا ہے۔

اور سوال بڑھتے گئے۔

خاندان عدالت پہنچا۔ قبر کشائی کا حکم ہوا۔ ڈاکٹر سمیہ سید نے عدالتی حکم پر ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تاکہ لاش کا دوبارہ سائنسی اور فرانزک معائنہ کیا جاسکے۔

لیکن کہانی یہاں بھی سیدھی نہیں رہی۔ بورڈ تبدیل کر دیا گیا۔ نیا بورڈ سامنے آ گیا۔ خاندان نے اس بورڈ کے ذریعے قبر کشائی کرانے سے انکار کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ کارروائی اسی بورڈ کے ذریعے ہونی چاہیے جو ڈاکٹر سمیہ نے تشکیل دی تھی۔

بظاہر یہ ایک انتظامی تنازع تھا۔ لیکن اصل سوال انتظامی نہیں تھا۔ لاش کو دوبارہ کون پڑھے گا؟ کوئی اور یا پھر وہ جنہوں نے پہلی رپورٹ میں خامیاں تلاش کی تھیں؟

بالآخر پہلا بورڈ بحال ہوا۔ قبر کشائی ہوئی۔ لاش کا دوبارہ معائنہ کیا گیا۔ اور پھر وہی خاموش جسم بولنے لگا۔ وہ باتیں سامنے آنے لگیں جنہیں پہلی رپورٹ خاموش کر چکی تھی، لرزہ خیز انکشافات۔

یہاں انصاف کا تقاضا ہے کہ ایک اہم بات واضح کی جائے۔ ابتدائی ایم ایل او رپورٹ پر سنگین سوالات ضرور اٹھے، لیکن میڈیکو لیگل افسر نے کچھ چیزیں محفوظ بھی کی تھیں۔ شرٹ سمیت بعض اشیا بعد کی فرانزک جانچ میں اہم ثابت ہوئیں۔

دوبارہ معائنے میں تشدد کے نشانات، ہڈیوں کے فریکچر اور گولی کے راستے سے متعلق شواہد سامنے آئے۔ ان شواہد نے خودکشی کے ابتدائی بیانیے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔

پھر تصویر بدل گئی۔ خودکشی کا بیانیہ ٹوٹ گیا۔ اور موت کے معاملے میں قتل کا پہلو سامنے آ گیا۔

لیکن ایک سوال اب بھی باقی ہے۔ بے رحم قاتل جس نے مارا ہی نہیں تیزاب بھی پھینک دیا آخر کون ہے؟ قاتل تاحال نامعلوم ہے۔ اس پہلو کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں کمیٹی مامور ہے۔ اور اسی دوران میڈیا پر یہ دباؤ ڈالے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ کیس پر رپورٹنگ نہ کی جائے۔ ساتھ کچھ ذرائع ڈاکٹر سمیہ سعید کے خلاف خبریں چلانے کے لیے دباؤ کی بات بھی کر رہے ہیں۔

اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ آخر کس چیز سے خوف ہے؟ شواہد سے؟ سوالات سے؟ یا اس لاش سے، جو اب خاموش نہیں رہی؟ قاتل اور اس کے سرپرستوں کو خوف زدہ ہونا بھی چاہیے۔

ڈاکٹر سمیہ سید کسی مقتول کی وکیل نہیں۔ وہ کسی سیاسی جماعت کی ترجمان بھی نہیں۔ وہ صرف ایک خاتون پولیس سرجن ہیں جنہوں نے ایک فائل کھولی، اس میں موجود خامیوں کو دیکھا، سوال اٹھائے، خط لکھا، میڈیکل بورڈ بنائی، بورڈ کی تبدیلی دیکھی، دوبارہ معائنہ کروایا اور ایک خاموش جسم کو اپنے شواہد بیان کرنے کا موقع دیا۔

اسی لیے ان کا کردار اس کہانی میں غیر معمولی اور میرے کالم کا موضوع بن گیا۔

کبھی کبھی کسی مقدمے کو زندہ رکھنے کے لیے ایک وکیل ہی نہیں، ایک ایسے فرد کی ضرورت بھی ہوتی ہے جو فائل بند کرنے سے پہلے یہ پوچھ لے، ’کیا ہم نے واقعی سب کچھ دیکھ لیا ہے؟‘

میر رضا اب واپس نہیں آ سکتا۔ قاتل، جو بھی ہے، ابھی نامعلوم ہے۔ فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے۔ مگر ایک بات اس مرحلے پر سامنے آ چکی ہے۔ لاش نے اپنی زبان سے کچھ نہیں کہا۔ کسی نے لاش کو زبان دی ہے۔ اور وہ ڈاکٹر سمیہ سید ہیں۔

نعمت خان عرب نیوز سے منسلک سینیئر صحافی ہیں۔ یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *