سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے بدھ کی صبح کہا ہے کہ اس نے حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں امریکہ کے ساتھ مل کر عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
وزارت دفاع نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’سعودی عرب کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتا، تاہم وہ کسی بھی جارحیت کا جواب دے گا۔‘
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت بین الاقوامی قانون کی جانب سے تسلیم شدہ ذاتی حقِ دفاع کے مطابق امریکی افواج کے ساتھ مشترکہ طور پر کی گئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے قبل وزارت نے کہا تھا کہ اس نے منگل کی شام کئی ڈرون مار گرائے اور تباہ کر دیے، جن کے ذریعے مشرقی صوبے میں واقع تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔
وزارت کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ یہ ’دہشت گرد‘ حملے ایک بار پھر عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان میں ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد ملیشیاؤں نے حصہ لیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت کو اپنے دفاع، اپنے اثاثوں کے تحفظ اور مناسب وقت اور مناسب مقام پر جواب دینے کا بنیادی حق حاصل ہے۔
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے پیر کو بھی کہا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران عراقی سرزمین سے آنے والے متعدد ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا، جو مشرقی علاقے اور دارالحکومت ریاض میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یمنی ملیشیا نے حالیہ دنوں میں مملکت سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان بھی کشیدگی تاحال جاری اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت میں تعطل ہے، جس کے باعث پورا خطہ متاثر ہوا ہے۔
