وانا بازار میں دھماکے سے مقامی رہنما جان سے گئے: پولیس 

صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلعے جنوبی وزیرستان کی تحصیل وانا میں پولیس نے پیر کو بتایا کہ مقامی رہنما مفتی جان امیر ایک بم دھماکے میں جان سے چلے گئے۔

وانا پولیس کنٹرول روم کے اہلکار نے بتایا کہ دھماکہ رستم بازار کی سپر مارکیٹ میں ہوا۔

اہلکار کے مطابق ’مفتی جان امیر سرکاری سکول کے استاد تھے اور علاقے میں مختلف تنازعات کے حل کے لیے جرگوں میں پیش پیش رہتے تھے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دھماکے کے نتیجے میں ایک اور شحص بھی زخمی ہوا۔ تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

اس واقعے سے محض تین دن قبل لوئر جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل کے اعظم ورسک بازار میں نامعلوم مسلح افراد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے رہنما مولانا اسماعیل کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔

28 جولائی کو برمل میں ہی لنڈی ڈوگ کی ایک مسجد کے قریب مبینہ کواڈ کاپٹر حملے میں ایک مقامی مذہبی رہنما جان سے گئے اور دو افراد زخمی ہوئے تھے۔

رواں سال جنوری میں جنوبی وزیرستان کے وانا بازار میں ایک مدرسے کے قریب بم دھماکے کے نتیجے میں جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا سلطان محمد وزیر شدید زخمی ہوئے تھے، جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *