واشنگٹن میں چھ لاکھ مچھر کیوں چھوڑے جا رہے ہیں؟

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اس موسم گرما کے دوران تقریباً چھ لاکھ نر مچھروں کو چھوڑا جا رہا ہے۔

تاہم یہ انسانوں کا خون چوسنے کے لیے نہیں بلکہ ان مچھروں کا مقصد شہر میں مادہ مچھروں کی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانا ہے، جو ویسٹ نائل وائرس، ڈینگی، چکن گونیا اور زیکا جیسی جان لیوا بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔

ریاست میری لینڈ کی کمپنی بی سیف موسکیٹو کنٹرول ایسے نر مچھر چھوڑ رہی ہے جن کے جسم میں وولباکیا (Wolbachia) نامی ایک جرثومہ موجود ہوتا ہے، جو افزائش نسل کو متاثر کرتا ہے۔

جب یہ نر مچھر آزاد کیے جاتے ہیں تو وہ مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کرتے ہیں لیکن اس کے نتیجے میں مادہ مچھروں کے انڈوں سے بچے نہیں نکلتے، جس سے مجموعی طور پر مچھروں کی آبادی میں کمی آتی ہے۔

کمپنی کے مطابق چھوڑے جانے والے یہ نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتے اس لیے لوگوں کو ان کے کاٹنے کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

بی سیف موسکیٹو کنٹرول کے مالک ٹوڈ مونٹگمری نے اس ہفتے ڈبلیو ٹی او پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’جب یہ نر مچھر مادہ مچھر کے ساتھ ملاپ کرتے ہیں تو وہ مادہ کو باقی زندگی کے لیے بانجھ بنا دیتے ہیں۔

’اس کے بعد وہ جتنے بھی انڈے دیتی ہے، ان میں سے کچھ بھی نہیں نکلتا۔‘

یہ پہلی بار نہیں کہ اس مقصد کے لیے مچھر چھوڑے جا رہے ہوں۔ اس طریقۂ کار کو جنوبی امریکہ، سنگاپور اور آسٹریلیا میں کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا چکا ہے۔

رواں سال کے آغاز میں گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کے تعاون سے چلنے والے ایک منصوبے نے امریکی وفاقی حکومت سے کیلی فورنیا اور فلوریڈا میں وولباکیا سے متاثرہ چھ کروڑ سے زائد مچھر چھوڑنے کی اجازت طلب کی تھی۔

اس منصوبے کا ہدف یلو فیور مچھر ہے، جو اپنے کاٹنے سے ڈینگی، زرد بخار (ییلو فیور)، زیکا اور چکن گونیا جیسے وائرس منتقل کر سکتا ہے۔

دوسری جانب بی سیف موسکیٹو کنٹرول کے مچھر، جنہیں ’زیپ میلز‘ (ZAP males) کہا جاتا ہے، ایک مختلف حملہ آور نسل کے مچھر کو نشانہ بناتے ہیں، جو واشنگٹن ڈی سی اور اس کے گردونواح میں عام پایا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، ریورسائیڈ کے مطابق ایشیائی ٹائیگر مچھر ڈینگی، زرد بخار، دماغی سوزش (Encephalitis)، ایسٹرن ایکوائن اینسیفلائٹس، لاکراس اینسیفلائٹس اور کتوں میں ہارٹ ورم جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ’ٹائیگر مچھر مقامی نسل نہیں بلکہ ایک حملہ آور نوع ہے، اس لیے اس کی آبادی کم کرنے سے ماحولیاتی نظام پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔‘

ڈبلیو ٹی او پی کے مطابق یہ مچھر ریاست کینٹکی کی کمپنی موسکیٹو میٹ فراہم کرتی ہے، جسے ان مچھروں کو حیاتیاتی جراثیم کش (Biopesticide) کے طور پر استعمال کرنے کی ملک گیر منظوری حاصل ہے۔

بی سیف موسکیٹو کنٹرول کے مطابق اس طریقۂ کار کے نتائج عموماً تقریباً ایک ماہ میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے ’ہمارا نظام فوری نہیں بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر مچھروں کی تعداد میں کمی لانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔‘

ڈبلیو ٹی او پی کے مطابق ’زیپ میلز‘ کی تعیناتی کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور کمپنی ستمبر تک مرحلہ وار ان مچھروں کو چھوڑتی رہے گی۔

کمپنی کے مالک ٹوڈ مونٹگمری کہتے ہیں ’2026 کے دوران واشنگٹن، ڈی سی، میری لینڈ اور ورجینیا کے علاقے میں مجموعی طور پر چھ لاکھ نر مچھر چھوڑے جا رہے ہیں۔ امید ہے کہ اگلے سیزن میں اس تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *