پاکستان کے ’ہائبرڈ نظام‘ میں وزیر داخلہ محسن نقوی کا شمار طاقتور شخصیات میں ہوتا ہے – ایک ایسا نظام جس کی مشترکہ لگام اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کے ہاتھوں میں ہے۔
ایک اہم ترین عہدہ وفاقی وزیر داخلہ یعنی ملک کی داخلی سکیورٹی کے نگہبان کا اور دوسرا عہدہ اہم ترین کھیل کرکٹ کے بورڈ کی سربراہی کا۔ کرکٹ جیسا کھیل جس کے لیے کروڑوں شائقین کے دل دھڑکتے ہیں، اس کی ذمہ داری بھی ان ہی کو سونپی گئی ہے۔
امریکہ ایران جنگ کی سفارت کاری کے دوران ایران اور سوئٹزرلینڈ کی یاترا ہو یا ایران کی سیاسی اور عسکری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں۔ وہ تصاویر میں اکیلے بھی اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ساتھ ساتھ بھی دکھائی دیے۔ گویا ریاست نے محسن نقوی کو بیک وقت کئی ذمہ داریاں سونپی ہوئی ہیں۔ ایک کاندھے پر داخلی سکیورٹی تو دوسرے پر کرکٹ کی قسمت سنوارنے کی ذمہ داری ہے۔ سفارت کاری کی ذمہ داری اس کے علاوہ ہے۔
اور اب انہوں نے اچانک ملک کے سیاسی نظام کو فرسودہ اور ناکارہ گردانا ہے اور ان کے بقول اس کی تبدیلی ریاست کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ یوں مان لیجیے کہ انہوں نے اس بیان سے غالباً سیاسی نظام کی درستگی کا بوجھ بھی اپنے اوپر لاد لیا ہے۔
ہمیں تو اب محسن نقوی کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے جیسے وہ یونانی دیوتاؤں کی داستانوں کے کردار ’اطلس‘ ہوں۔ پاکستان کے مسائل کا بوجھ ایسے لادے ہوئے ہیں، جیسے یونانی دیوتا Atlas (اطلس) اپنی کمر پر پوری دنیا کا وزن اٹھائے ہوں۔
کہنے کو تو ان کی تقریر مختصر تھی لیکن ان کے بیان نے ملک میں سیاسی بھونچال برپا کر دیا ہے۔ بیان کے لیے انتخاب اسلام آباد میں اکنامک سمٹ کا کیا گیا۔ محسن نقوی کا کہنا تھا: ’۔۔۔ جس نظام میں ہم رہ رہے ہیں وہ collapse ہوچکا ہے۔۔۔ انتظامی یونٹس یا صوبے اس کو جو مرضی نام دے دیں، اسے عوام کی سطح تک لے جانا پڑے گا۔‘ بیان میں بظاہر نئے صوبے اور انتظامی یونٹس کے تصور کو واضح بھی کر دیا۔
سیاسی حلقے ہوں یا عوامی سب کی نظروں میں یہ بیان سیاسی جماعتوں کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا پیغام ہے اور پیغام رساں محسن نقوی رہے۔ سیاسی نظام میں تبدیلی بالخصوص نئے صوبوں کی تشکیل اور بڑے شہروں کو بااختیار انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت کی ریہرسل تو گذشتہ ڈیڑھ برس سے جاری ہے۔
کبھی ارب پتی کاروباری شخصیات بیٹھکیں سجاتے تو کبھی طاقتور حلقوں کی قربت میں پلے بڑھے بااثر لوگ ٹی وی اینکرز کے ساتھ اس آئیڈیا پر رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششیں کرتے آ رہے ہیں۔
اقتدار کی راہداریوں سے سیاست دانوں کے ڈرائنگ رومز میں اٹھائیسویں ترمیم کے ذریعے نظام میں تبدیلی کی ممکنہ کوششوں کی بازگشت تو ہم نے خود سنی۔ بجٹ اجلاس سے قبل اس ترمیم کو پیش کیے جانے کا ذکر تھا، مگر بعض سیاسی شخصیات کی کوششوں سے معاملہ تعطلی کا شکار ہوگیا۔ لیکن آخر کب تک؟
بالاخر نظام کی تبدیلی کا بیان سامنے آگیا۔ سیدھا سادہ پیغام ہے سیاسی جماعتوں کے لیے۔ عقل مند ہیں تو اسے پالیسی بیان سمجھیں۔
’اس (نظام کی تبدیلی) کے لیے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا، چاہے وہ ایک دن بیٹھیں، ایک ماہ بیٹھیں یا ایک سال بیٹھیں۔‘
یہ تو تلخ حقیقت ہے کہ گورنننس کے لیے سیاسی نظام ناقص ہے اور اس کی درستگی بھی لازم ہے۔ کسی حد تک سیاسی جماعتیں ذمہ دار ہو سکتی ہیں، لیکن اس نظام کی خرابیوں کا ملبہ صرف سیاسی جماعتوں پر ڈالنا بھی درست نہیں ہے۔
ماضی میں طویل فوجی حکمرانی بھی رہی ہے۔ اگر سیاسی جماعتوں کے عدسے سے تاریخ کو دیکھیں تو نظام کے بگاڑ کی ذمہ داری غیر سیاسی قوتوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ جنرل ایوب خان نے جمہوری روایتوں کو کچلا، جنرل ضیا الحق نے اسلامی نظام نافذ کیا اور جنرل مشرف نے معتدل روشن خیالی کا تصور متعارف کروایا اور ہر فوجی حکمران نے اپنے دور کو طول دینے کے لیے یا تو ’بوگس‘ ریفرنڈم کا سہارا لیا یا پھر چور دروازے سے داخل ہونے والی سیاسی جماعتوں کو ریاستی بیساکھیوں کا سہارا دیا۔
عدلیہ کا ان فوجی ادوار کو آئینی چھتر چھاؤ فراہم کرنا بھی کسی سے پوشیدہ تو نہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حقیقت یہ کہ ملک کی تاریخ میں کوئی بھی وزیراعظم اپنی مدت معیاد مکمل نہیں کر سکا ہے۔
ماضی میں سیاسی اور عسکری تعلقات کے غیر متوازن ہونے پر بھی بحث رہی ہے۔ عمران خان کے دور میں اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کا ’ایک پیج‘ کا فلسفہ بھی نظام کی درستگی کے لیے کارگر نہ ہوسکا۔ اب موجودہ ’ہایبرڈ نظام‘ میں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی حکمرانی کر رہی ہیں۔ پیپلز پاٹی کا اپنے آپ کو اس نظام سے علیحدہ پیش کرنا کسی کی بھی سمجھ سے باہر ہے۔ صدر کا عہدہ آصف زرداری کو حکمران اتحاد کا ساتھ دینے کی وجہ سے ملا ہے۔
خیال تو یہ تھا کہ موجودہ نظام بغیر ہچکولوں کے سفر طے کر رہا ہے۔ سیاسی اور عسکری ڈپلومیسی کی تعریفیں، انڈیا کے خلاف معرکے میں پاکستانی افواج کی کامیابی، جنرل عاصم منیر کے کردار کی عالمی سطح پر پذیرائی، شہباز شریف کا مفاہمتی کردار۔۔۔ غرض یہ کہ اس نظام کے دوران پاکستان کے امیج کی پذیرائی مثالی رہی ہے۔
تاہم پاکستان کے بنیادی مسائل گہرے ہیں۔ 25 کروڑ کی بڑھتی آبادی، کمزور معیشت، بیرونی قرضوں کا بوجھ، سماجی ناانصافی، نوجوانوں کے لیے روزگار، ناقص تعلیم اور صحت کی سہولیات، گورننس اور نظام کی ناکامی کی عکاسی کرتی ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کی سوچ کے عدسے سے دیکھیں تو سیاسی قوتیں بالخصوص ن لیگ اور پیپلز پارٹی، جو اس ملک پر حکمرانی کرتی آرہی ہیں، بڑی حد تک ذمہ دار ہیں۔ انہیں دامن پر موروثی سیاست کا دھبہ اور کرپشن کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنی اجارہ داری کی خاطر اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی اور لوکل گورنمنٹ نظام کو بااختیار بنانے میں بھی ناکام رہی ہیں۔
نظام کی تبدیلی کی تجاویز میں فعال گورننس کے لیے بااختیار لوکل گورنمنٹ نظام لازمی ہے۔ نئے صوبے بنانے کا تصور سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ایک سیاسی کشمکش کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔ سندھ میں صدیوں سے آباد باشندے نئے صوبے کے تصور یا کراچی کو خود مختار انتظامی یونٹ بنانے کے خیال کو صوبے کی تقسیم سمجھتے ہیں۔ سندھ میں ایک بڑی سیاسی تحریک جنم لے سکتی ہے۔
بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو دہشت گردی نے لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ ایسی صورت حال میں نئے صوبے کی تشکیل کے لیے ماحول سازگار نہیں لگتا۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی قرارداد منظور ہو چکی ہے۔ آئینی طور پر نئے صوبوں کی تشکیل ایک پیچیدہ عمل ہے، تاہم بااختیار لوکل گورنمنٹ نظام اور خود مختار انتظامی یونٹس کی تشکیل گورننس کو بلا شبہ بہتر بنا سکتی ہیں۔ اس کے لیے صرف تصور ناکافی ہوگا بلکہ اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے ایک مفصل وژن کا بلیو پرنٹ چاہیے ہوگا۔
کئی برس سے اٹھارویں ترمیم کو لے کر اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قوتوں کے بیچ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل اور مالی اختیارات کے توازن پر کھنچاؤ سا رہا ہے۔ بحث رہی ہے کہ صحت، تعلیم، قدرتی وسائل اور مائننگ جیسے شعبوں کو وفاق کے پاس ہونا چاہیے۔ صوبوں کی ان اختیارات کو سنبھالنے کی اہلیت پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔
سوچ ہے کہ کس طرح توازن قائم ہونا چاہیے۔ ایک بڑا سوال کیا صوبے اپنے اختیارات محدود کرنے پر رضامند ہوجائیں گے؟ یا پھر ن لیگ اور پیپلز پارٹی اٹھارویں ترمیم میں تبدیلیوں پر رضامند ہو جائیں گے۔ سیاسی رسہ کشی تو ہوگی۔
اس نظام میں ایک بڑی خامی یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں صوبوں کی نشستوں کا تناسب غیر متوازن ہے۔ جو سیاسی جماعت پنجاب میں اکثریت حاصل کر لے تو اقتدار حاصل کر لیتی ہے۔ چھوٹے صوبوں کا وفاق کے ساتھ سٹیک محدود ہو جاتا ہے۔ مثلاً بلوچستان کی قومی اسمبلی میں 13 نشستیں ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتیں بلوچستان میں موسمی پرندوں کی طرح انتخابی موسم میں ہی نظر آتی ہیں۔ سوچیں اگر بلوچستان کی قومی اسمبلی میں 70، 80 نشستیں ہوں تو بڑی جماعتوں کے سیاسی سٹیک بھی بڑھیں گے، بلوچستان کا بیانیہ بھی مین سٹریم میں شامل ہوگا، قبائلی سرداروں کی جگہ نئے سیاسی چہروں کو موقع ملے گا۔
تاہم اس پالیسی بیان کے بعد سیاسی جماعتوں کے پاس وقت کم ہے۔ انہیں بلا تاخیر نظام میں تبدیلی کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں توقع ہے کہ اگلے کسی اجلاس میں محسن نقوی کرکٹ کے نظام میں تبدیلیوں اور ملک میں دہشت گردی کی لہر کو قابو کرنے کی پالیسی سے بھی آگاہ کریں۔ یہ نہ ہو کہ آنے والے دنوں میں کوئی اور دھماکہ خیز سیاسی بیان جاری کر دیں کہ ملک کے نظام کو فعال طریقے سے قومی حکومت کی تشکیل سے ہی چلایا جا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

