’حسنین کے پاس اگر کل ایک ارب روپے بھی آ جائیں نا، تب بھی یہ نئی گاڑی نہیں خریدے گا، اس نے کوئی پرانی گاڑی ڈھونڈنی ہے اور اسے ٹھیک کرنے میں لگ جانا ہے۔‘
قاسم نے یہ بات تب کہی تھی جب شاید ہم لوگ کالج میں تھے لیکن ہر دوسرے دن یہ جملہ میرے سامنے کھڑا ہنس رہا ہوتا ہے۔
ابھی دو چھٹیاں تھیں میری ایک آدھ دن پہلے، دونوں موٹر سائیکل اور گاڑی کے چکر میں تیل ہو گئیں۔ موٹر سائیکل میری عمر کی ہے اور گاڑی تقریباً تئیس سال پرانی ۔۔۔ سوال یہ ہے کہ مرمت پر لگا وقت کیا ضائع ہوا؟
میرا جواب ہے کہ نہیں، یہ خود میری مرمت تھی، جو ضروری تھی اور وقت ضائع نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد جو سکون ملا ہے وہ شاید اُن دو دنوں میں کوئی اور کام کرنے پر نہ ملتا۔
پھر اس کے ساتھ ساتھ مکینکس نے جتنا علم اس دوران مجھے دیا، وہ ایک الگ داستان ہے بابا۔ کرولا اور ہونڈا میں سے کس کا اے سی بہتر ہے، اور کیوں؟ بلیک اینڈ ڈیکر کی ایک انتہائی خاندانی آئرن کٹنگ مشین کس طرح ریاض بھائی کو کراچی میں ایک بحری جہاز کے سکریپ سے ملی۔۔۔ استاد اکرم کا شاگرد رامش چائنیز موٹرسائیکلوں میں سے کس کو ترجیح کیوں دیتا ہے ۔۔۔ یہ سب کچھ اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ۔
بات صرف اتنی سی ہے کہ ہم ڈسپوزیبل دور میں زندہ ہیں اور آپ کا بھائی ایک کباڑیا ہے۔
نانا کے زمانے کے صندوق، امی کا سماوار، کوئی دو سو سال پرانا برتن، جہیزوں کے قالین، ریڈیو، پوسٹ کارڈ کچھ بھی، خاندان بھر سے کوئی بھی چیز پرانی نکلتی ہے تو خود بخود میرے پاس پہنچ جاتی ہے، سب کو پتہ ہے اس نے سنبھال لینی ہے بلکہ سجا کے بھی رکھے گا۔
پرانی چیزوں کا ایک کیریکٹر ہوتا تھا یار جو اب معذرت کے ساتھ بالکل انسانوں کی وضع داری کی طرح بالکل ختم ہو چکا ہے۔
نئی چیزیں اس سوچ کے ساتھ بن رہی ہیں کہ خراب ہوں گی تو پھینک دی جائیں گی، لینے والا بھی یہی سوچ کے لیتا ہے اور حق بات ہے، مغرب ہمیں سکھا چکا ہے کہ مرمتوں والے زمانے لد گئے، چیز خریدو، استعمال کرو، پھینک دو، پھر نئی خرید لو ۔۔۔ مرمت ۔۔۔ یہ کیا ہوتی ہے؟
اسی طرح برینڈڈ کپڑوں اور استعمال کی دوسری چیزوں کا معاملہ ہے۔ میرے خیال میں ہماری وہ بیٹری جو کسی چیز کی ’ویلیو فار منی‘ کا اندازہ لگاتی تھی، اس کے سیل ختم ہو گئے ہیں۔
پینٹ شرٹ یا کوئی بھی چیز اگر تین ہزار سے اوپر کی ہے اور وہ ریڈی میڈ ہے تو میں کبھی نہیں خریدوں گا۔ کوئی بہت سپیشل کیس ہے، ایسی چیز پھر کبھی نہیں ملنی، اوکے، غور کر لیں گے، ورنہ سمجھ نہیں آتی۔
میں 70 فیصد سیل لگنے کا انتظار کروں گا، اتوار بازار جا کے لنڈے کا مال دیکھ لوں گا، ایکسپورٹ کوالٹی کی دکانیں چھان لوں گا یار لیکن ایک پتلون دس ہزار روپے کی خرید کے مطمئن کبھی نہیں ہو سکوں گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شلوار قمیص کے نام پر اس سے بھی زیادہ گرم بازاری ہے بھائی، پہلے وہ سفید پوشوں کا پہناوا تھا، اب اسے بھی کھا گئیں اونچی دکانیں، اچھی چیز مطلب کم سے کم دس بارہ ہزار، اس کا حل یہ ڈھونڈا کہ پردوں والی کوئی دکان دیکھ لی، جہاں فیکٹریوں کا مال آتا ہے بچا ہوا، یا اسی طرح کوئی اور ایسی جگہ جدھر کپڑا وافر ہو اور سستا ہو، یقین کیجے لیننن، کاٹن، کھدر، واش اینڈ ویئر ۔۔۔ ہر ایک چیز ملتی ہے بلکہ زیادہ اچھی کوالٹی کی مل جاتی ہے، درزی کے پیسے اسے دئیے، السلام علیکم، ہو گیا کام اسی بجٹ میں کہ جس میں اصولی طور پہ ایک شلوار قمیص کو ہونا چاہیے۔
مہنگی اور نئی ڈسپوزایبل چیزوں سے میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں، جنہیں سمجھ آتی ہے استعمال کریں، لیکن صرف اس لیے پیسے خرچ کرنا کہ دوسرے لوگ بھی کر رہے ہیں، یہ بات سمجھ نہیں آتی۔
اب دیکھیں جدھر میرے کمرے میں وہ نانا والا صندوق پڑا ہے، ادھر کوئی نیا گلدان بھی ہو سکتا تھا ۔۔۔ لیکن گلدان کئی ہزار بنے ہوں گے ۔۔۔ ایک جیسے ۔۔۔ اس صندوق کے جیسے اب کتنے باقی ہیں جس نے چار نسلوں کے ہاتھوں کا لمس دیکھا ہے؟
وہ سماوار ۔۔۔ دروازے کے پاس رکھا ہوا ہے، آتے جاتے ریمائنڈر دیتا ہے کہ بابا جی، موبائل پھینکو اور کچھ لکھ لو، کم از کم ان مہربان چہروں کو یاد کر لو جو میرے آس پاس بیٹھ کر اس میں بنا قہوہ پیتے تھے اور گپیں لگاتے تھے ۔۔۔ تو بس یہ قصہ ہے۔
کہنے کو اب بھی بہت کچھ ہے لیکن جو انسان یہاں تک میرے ساتھ آ گیا اسے بس یقین دلانا تھا کہ وہ اکیلا نئیں باقی رہ گیا، کم از کم ایک نمونہ اُس کے جیسا موجود ہے جو چیزوں کی قیمت نہیں دیکھتا، ان کا استعمال دیکھتا ہے۔ مرمت کو نئے پر ترجیح دیتا ہے اور روزمرہ کی چیزوں پر اپنی اور اُن کی اوقات سے زیادہ پیسہ لگانا پسند نہیں کرتا۔
اور آخری بات ۔۔۔ یہ سب اُصول ایک انسان کی ذات کے لیے ہیں، انہیں فیملی پر اپلائے کر کے اُن کی زندگی عذاب مت کیا کریں! وسائل ہیں تو ہر انسان کو اس کی مرضی سے جینے کا حق ہونا چاہیے۔
