اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے ہفتے کی رات کہا ہے کہ وہ 27 اکتوبر کے انتخابات کے بعد اپوزیشن کے امیدوار گادی آئزن کوٹ کو حکومتی اتحاد بنانے کا پہلا موقع دے رہے ہیں۔
سابق فوجی سربراہ آئزن کوٹ، جنہوں نے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے سب سے بڑے حریف کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا، اب اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک حکمران رہنے والے وزیر اعظم کو اقتدار سے ہٹانے کے ایک قدم مزید قریب آ گئے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق صدارتی اعلان کے فوراً بعد آئزن کوٹ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا کہ ’یہ قومی ہنگامی حکومت قائم کرنے کا وقت ہے۔ میں ہمیں اہل ثابت کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔‘
ان کے پاس اتحاد بنانے کے لیے چھ ہفتے تک کا وقت ہے، جو ایک انتہائی منقسم ملک میں ایک مشکل کام ہے کیوں کہ یہ ملک سات اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں اور اس کے بعد غزہ اور دیگر علاقوں میں ہونے والی تین سالہ جنگوں کے اثرات سے اب تک سنبھل نہیں پایا۔
اس ہفتے صدر کے ساتھ بات چیت میں اسرائیل کی زیادہ تر بڑی جماعتوں کے نمائندوں نے سفارش کی کہ نئی حکومت بنانے کی ذمہ داری گادی آئزن کوٹ کو سونپی جائے۔ لیکن مطلوبہ پارلیمانی اکثریت حاصل کرنا بدستور مشکل ہے اور کسی بھی ممکنہ اتحاد کے لیے امیدواروں کو ایسے مشکل سمجھوتے کرنا پڑیں گے جن سے ان کے اپنے ووٹرز شدید ناراض ہو سکتے ہیں۔
گذشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں بن یامین نتن یاہو اور ان کے اتحادی پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کھو بیٹھے تھے۔ لیکن آئزن کوٹ کی قیادت میں بننے والا بلاک بھی اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔
اس صورت حال نے عرب قیادت والی ان جماعتوں کو، جنہوں نے تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں، ممکنہ لیکن سیاسی طور پر پیچیدہ بادشاہ گر بنا دیا ہے۔ اسرائیل کی تاریخ میں صرف ایک بار کوئی عرب جماعت حکومتی اتحاد کا حصہ رہی ہے۔
غزہ میں تین سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد اس طرح کا اتحاد بنانا آئزن کوٹ کے لیے خاص طور پر باعث اختلاف ہو سکتا ہے۔
بن یامین نتن یاہو، آئزن کوٹ اور عرب قیادت والی جماعتوں کے درمیان کسی بھی اتحاد کو روکنے کی مہم چلا رہے ہیں، جس میں یہ بے بنیاد دعوے بھی شامل ہیں کہ عرب جماعتوں نے انتخابات ’چوری‘ کیے ہیں۔
صدر آئزک ہرزوگ کے اعلان سے کچھ دیر پہلے، انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں ’قومی اتحادی حکومت‘ کا مطالبہ کیا اور ’دہشت گردوں کے حامیوں کے ساتھ جلد بازی میں حکومت کا حلف اٹھانے‘ سے خبردار کیا، یہ وہ زبان ہے جو وہ عرب قیادت والی جماعتوں کا حوالہ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
بن یامین نتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے بارہا عرب قیادت والی جماعتوں کو قومی سکیورٹی کے لیے خطرے کے طور پر پیش کیا ہے، جب کہ آئزن کوٹ نے مخصوص شرائط کے تحت ان کے ساتھ شراکت داری پر آمادگی ظاہر کی ہے، جن میں حماس کو ایک دہشت گرد گروہ قرار دینا شامل ہے جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
بن یامین نتن یاہو، جن کی جماعت لیکوڈ پارلیمنٹ میں سب سے بڑی واحد جماعت ہے، بڑی یہودی جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک وسیع اتحادی حکومت بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ گادی آئزن کوٹ بھی ایسی ہی کوشش کر سکتے ہیں۔
تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی مسائل پر گہرے اختلافات ہیں جنہیں دور کرنا مشکل ہو گا۔ ان میں بن یامین نتن یاہو کا ان مذہبی جماعتوں پر انحصار شامل ہے جو انتہائی کٹر یہودی مردوں کے لیے فوجی بھرتی سے استثنیٰ کا مطالبہ کرتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ سات اکتوبر کے حملوں سے متعلق سکیورٹی ناکامیوں کی باقاعدہ تحقیقات کی نیتن یاہو کی مخالفت بھی شامل ہے۔
آئزن کوٹ ’اقلیتی‘ حکومت بنانے کی بھی کوشش کر سکتے ہیں جسے ان عرب جماعتوں کی بیرونی حمایت حاصل ہو جو باضابطہ طور پر ان کے اتحاد کا حصہ نہیں ہوں گی۔
تاہم ان کے بلاک کے دیگر ارکان کہہ چکے ہیں کہ وہ اس طرح کے کسی اتحاد کو مسترد کر دیں گے۔ آئزن کوٹ کی جماعت یشار نے ایکس پر پوسٹ کیے گئے بیان میں وزیر اعظم کی ویڈیو پر کڑی تنقید کی اور ان کی جماعت لیکوڈ کے ارکان پر زور دیا کہ وہ ’انتہا پسند جماعتوں‘ کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کر دیں، جو بظاہر ان کی مذہبی قوم پرست بنیاد میں شامل انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کا حوالہ تھا۔
بیان میں یہ دلیل دی گئی کہ آئزن کوٹ صرف ان جماعتوں اور پارلیمنٹ کے ارکان کو شامل کریں گے جو ان کی جماعت کے اصولوں کی حمایت کرتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گادی آئزن کوٹ کون ہیں؟
موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے برعکس فوج کے سابق سربراہ گادی آئزن کوٹ کم گو انسان ہیں۔ بن یامین نتن یاہو سے تنگ کچھ ووٹرز ان کے حریف کی کرشماتی شخصیت کی اس نسبتاً کمی کو ان کا ایک بہت بڑا اثاثہ سمجھتے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق 2015 سے 2019 تک فوج کے چیف آف سٹاف رہنے والے آئزن کوٹ نے بن یامین نتن یاہو کے تفریق پیدا کرنے والے دور حکومت کے بعد اسرائیلیوں کو متحد کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے، جس دور میں ملک تیزی سے دائیں بازو کی طرف جھک گیا تھا۔
اکتوبر کے انتخابات میں ان کے وسیع اپوزیشن بلاک نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی 120 نشستوں میں سے 48 پر کامیابی حاصل کی، جب کہ بن یامین نتن یاہو کے کیمپ نے 53 نشستیں حاصل کیں، جس کے باعث کسی کو بھی اکثریت نہیں مل سکی۔
آئزک ہرزوگ کے ساتھ پارٹی مشاورت کے دوران، 66 سالہ آئزن کوٹ کو عرب اکثریت والی دونوں فہرستوں کی حمایت حاصل ہوئی، جو اب انتخابات میں بے مثال کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد بادشاہ گر کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا آئزن کوٹ کا بلاک حکومت بنانے کے لیے عرب فہرستوں کی حمایت قبول کرے گا یا نہیں۔
سنجیدہ اور سادہ مزاج کے حامل، وہ کئی لحاظ سے بن یامین نتن یاہو کے بالکل برعکس ہیں، جو بے عیب امریکی لہجے میں انگریزی بولتے ہیں اور امریکی ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کے لیے شہ سرخیاں بننے والے بیانات دینے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔
