صوبہ بلوچستان میں سرکاری عمارتوں اور بینکوں پر حملوں اور انہیں جلانے کے واقعات کے بعد نیشنل بینک سمیت مختلف بینکوں نے آٹھ اگست سے اپنی متعدد شاخیں ایک ہفتے کے لیے بند کر دیں۔
صوبے میں نیشنل بینک کے ریجنل ایگزیکٹیو آپریشن ساجد علی نے بعض شاخوں کو بند کرنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ ’واشک، دالبندین، مستونگ، نوشکی سمیت مختلف علاقوں میں (نیشنل) بینک کی شاخیں ایک ہفتے کے لیے بند کی گئی ہیں۔‘
ساجد علی کے مطابق بینکوں کی انتظامیہ نے یہ فیصلہ ان علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر کیا اور اس حوالے سے سکیورٹی اداروں اور سرکاری حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
مقامی صحافی علی رضا رند نے بتایا کہ صرف نیشنل بینک ہی نہیں بلکہ دیگر نجی بینکوں کی شاخیں اور اے ٹی ایمز بھی بند ہیں، جس کے باعث شہریوں کو نقد رقم کے حصول اور دیگر مالی لین دین میں مشکلات کا سامنا ہے۔
علی رضا کے مطابق ’سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ طلبہ کو سکولوں اور کالجوں کی فیسیں جمع کرانے میں بھی دشواری پیش آ رہی ہے۔‘
اس صورت حال سے تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوئی ہیں اور بقول علی رضا رند کے بعض افراد کو سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کر کے کوئٹہ جانا پڑ رہا ہے۔
جن علاقوں میں بینک بند ہوئے ہیں ان میں سے بعض علاقے افغانستان اور ایران کی سرحدوں کے قریب واقع ہیں اور قومی شاہراہوں کے ذریعے ملک کے دیگر حصوں سے منسلک ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
علی رضا رند کے مطابق ان علاقوں کے مقامی تاجر افغانستان اور ایران کے ساتھ تجارت کرتے ہیں، جس کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں بڑی رقوم گردش کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بینکنگ سروسز کی بندش کے ساتھ قومی شاہراہوں پر آمدورفت میں خلل کے باعث بعض سرمایہ کار اپنا کاروبار اور سرمایہ دیگر علاقوں میں منتقل کر رہے ہیں۔
ماضی میں مستونگ، قلات، سوراب، نوشکی، دالبندین اور خضدار سمیت مختلف علاقوں میں مسلح افراد کی جانب سے بینکوں پر حملوں، لوٹ مار اور انہیں نذرِ آتش کرنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
ان واقعات کے بعد بعض علاقوں میں باہر سے آنے والے بینک ملازمین نے سکیورٹی خدشات کے باعث ڈیوٹی پر آنے سے انکار کیا تھا۔
