میٹا چشموں سے خفیہ فلم بندی، ٹک ٹاکر کے خلاف پولیس تحقیقات

پولیس ان اطلاعات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں متعدد افراد نے شکایت کی کہ ایک شخص نے میٹا سمارٹ چشموں کے ذریعے ان کی اجازت کے بغیر ان کی ویڈیوز بنائیں اور پھر ٹک ٹاک پر پوسٹ کر دیا۔

پولیس سکاٹ لینڈ نے جمعے کو دی انڈیپنڈنٹ کو تصدیق کی کہ افسران سکاٹ مارجرسن کے پوسٹ کردہ مواد کا جائزہ لے رہے ہیں جو ٹک ٹاک پر ای ڈوبن کے نام سے معروف ہیں۔

ان ویڈیوز میں وہ خود کو کم عمر لڑکیوں اور نوجوان خواتین سے بات چیت کرتے ہوئے فلماتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ بظاہر انہیں علم نہیں ہوتا کہ ان کی ویڈیو بنائی جا رہی ہے۔

ان ویڈیوز میں وہ ان خواتین کی ظاہری شکل، رشتے کی حیثیت پر تبصرے کرتے ہیں اور ان سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ آیا انہوں نے ویکسین لگوائی ہے یا نہیں۔

’پرینک‘ یا ’پک اپ‘ ویڈیوز کو، جن میں مرد خفیہ طور پر خواتین کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، رازداری کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور خواتین کے حقوق کے گروپوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کئی خواتین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد وہ خود کو ’شدید بے توقیر‘ اور ’خوف زدہ‘ محسوس کرتی ہیں۔ اس نوعیت کی سینکڑوں ویڈیوز انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر موجود ہیں۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب گذشتہ ہفتے انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے کہا ان کا پلیٹ فارم اس قسم کے مواد پر پابندی لگانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

ان کے مطابق انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا اس رجحان کا مقابلہ ’ہر ممکن طریقے سے‘ کرے گی۔

جب دی انڈپینڈنٹ نے ٹک ٹاک سے پوچھا کہ کیا وہ بھی اسی طرح کی کارروائی کرے گا تو کمپنی نے کہا کہ اس کی کمیونٹی گائیڈ لائنز پہلے ہی ایسے مواد کی ممانعت کرتی ہیں جس میں دوسروں کو ہراساں یا تنگ کیا جائے۔

تاہم اس کے باوجود ایسی سینکڑوں ویڈیوز، جن میں خواتین کو ان کی لاعلمی میں فلمایا گیا، اب بھی ٹک ٹاک پر موجود ہیں اور لاکھوں افراد انہیں دیکھ چکے ہیں۔

ان ویڈیوز کے ساتھ اکثر خواتین کے خلاف توہین آمیز یا جنس پرستانہ تبصرے بھی کیے جاتے ہیں، جن میں انہیں ’سستی‘ یا ’آسان‘ قرار دینا یا ان کی ظاہری شکل پر تبصرہ کرنا شامل ہے۔

اسی نوعیت کی ویڈیوز یوٹیوب پر بھی موجود ہیں۔ یوٹیوب نے بھی کہا کہ اس کی پالیسیوں کے تحت ہراسانی، ذاتی معلومات افشا کرنا (ڈاکسنگ)، غیر مطلوب جنسی نوعیت کا مواد اور خطرناک یا دھمکی آمیز مذاق ممنوع ہیں۔

ایڈم موسیری نے انسٹاگرام پر منعقدہ ایک ’Ask Me Anything‘ سیشن کے دوران کہا کہ اس قسم کا مواد پلیٹ فارم سے ہٹا دیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب میٹا کے سمارٹ چشمے اس صورت میں ’تقریباً کام کرنا بند کر دیتے ہیں‘ اگر کوئی ان میں موجود ایل ای ڈی لائٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کرے۔

تاہم انہوں نے اس پابندی کے طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

انہوں نے کہا ’اگر آپ ایسا مواد پوسٹ کرتے ہیں جس میں لوگوں کا استحصال کیا جاتا ہو یا انہیں ہراساں کیا جاتا ہو، جیسا کہ ان میں سے کئی ’پک اپ لائن‘ ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے، تو ہم وہ مواد ہٹا دیں گے۔

’ہم نہیں چاہتے کہ لوگ خفیہ طور پر دوسروں کی ویڈیوز بنائیں، انہیں ہراساں کریں اور پھر وہ ویڈیوز ہمارے پلیٹ فارم پر پوسٹ کریں۔ اسی لیے ہم ہر ممکن طریقے سے اس رجحان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔‘

گذشتہ ہفتے بی بی سی نے رپورٹ کیا تھا کہ مونوپولی ایونٹس نے، جو کامک کان کی منتظم کمپنی ہے، اپنے تمام ایونٹس میں میٹا کے سمارٹ چشموں پر پابندی عائد کر دی ہے تاکہ مہمانوں اور شرکا کی ’خفیہ فلم بندی‘ کو روکا جا سکے۔

رواں سال کے آغاز میں دی انڈپینڈنٹ نے آئزوبیل تھامسن سے گفتگو کی تھی، جنہیں ایک اجنبی شخص نے سڑک پر روک کر پہلے انہیں باہر چلنے کی پیشکش کی اور بعد میں بتایا کہ وہ پورا واقعہ اپنے چشموں کے ذریعے ریکارڈ کر رہا تھا۔

22 سالہ آئزوبیل نے بتایا ’اسی لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرا دل ڈوب گیا ہو۔‘

انہوں نے کہا ’میں نے فوراً سوچا، ’اے خدا یہ تو کسی ڈسٹوپیائی دنیا جیسا، انتہائی عجیب اور خوف ناک منظر ہے۔‘

ڈرہم یونیورسٹی میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف آن لائن بدسلوکی کی قانونی ماہر پروفیسر کلیئر میک گلین کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ایڈم موسیری کے حالیہ بیانات ’ان چشموں کے بارے میں بڑھتی ہوئی منفی تشہیر کا جواب دینے کی ایک شعوری کوشش‘ ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا جب تک خود ان چشموں کی تکنیکی صلاحیتوں میں تبدیلی نہیں کی جاتی، ان کا خواتین اور لڑکیوں کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال جاری رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

انہوں نے کہا ’ایک حد تک یہ خوش آئند ہے کہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ان چشموں کا بڑے پیمانے پر نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے لیکن مجھے زیادہ امید نہیں کہ وہ واقعی مؤثر اقدامات کریں گے۔

’حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف انسٹاگرام پر ویڈیوز دکھانے کا نہیں بلکہ خود ان چشموں کی تکنیکی صلاحیتوں کا ہے۔‘

گھریلو تشدد سے متاثرہ افراد کی مدد کرنے والی تنظیم ریفیوج میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے تشدد اور معاشی خودمختاری کی سربراہ ایما پکرنگ نے خبردار کیا کہ جیسے جیسے پہننے کے قابل ٹیکنالوجی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے، متاثرین کے تحفظ کے اقدامات کو بھی اسی رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا ’ٹیکنالوجی کمپنیاں، ریگولیٹرز اور پالیسی ساز سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پہننے کے قابل ٹیکنالوجی کو بدسلوکی کے آلے کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔

’یہ ناقابل قبول ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کی سلامتی اور فلاح و بہبود کو ٹیکنالوجی تیار اور فروخت ہونے کے بعد یاد کیا جائے۔

’ان کی حفاظت کو بنیادی اصول بنایا جانا چاہیے تاکہ پہننے کے قابل ٹیکنالوجی کے ڈیزائن اور اس پر لاگو ضابطہ جاتی نظام دونوں اسی بنیاد پر تشکیل دیے جائیں۔

’مؤثر حفاظتی اقدامات اور جوابدہی کے بغیر ٹیکنالوجی کی ترقی کی قیمت خواتین اور لڑکیوں کو ہی چکانا پڑے گی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دی انڈپینڈنٹ اس معاملے پر مؤقف لینے کے لیے سکاٹ مارجرسن سے رابطہ نہیں کر سکا۔

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ وہ ایسا مواد برداشت نہیں کرتا جس میں دوسروں کو ہراساں یا تنگ کیا جائے اور جب ایسی ویڈیوز کی اطلاع ملتی ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

میٹا کے ترجمان نے کہا ’ہم نے اپنے اے آئی سمارٹ چشموں کو ابتدا ہی سے رازداری اور تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا اور اس سلسلے میں حفاظتی ماہرین سے مشاورت بھی کی گئی۔

’جب بھی کوئی شخص تصویر یا ویڈیو محفوظ کرتا ہے تو چشموں میں موجود ایل ای ڈی لائٹ لازماً روشن ہوتی ہے۔

’ان میں چھیڑ چھاڑ کی نشاندہی کرنے والی ٹیکنالوجی بھی موجود ہے اور اب ہم انہیں اس طرح اپ ڈیٹ کر رہے ہیں کہ اگر ایل ای ڈی لائٹ کو نقصان پہنچایا جائے یا اسے ہٹا دیا جائے تو کیمرا خود بخود غیر فعال ہو جائے۔

’اس سے پہلے کسی اور کیمرے میں ایسی خصوصیت موجود نہیں تھی اور ہمیں فخر ہے کہ ہم اس شعبے میں صنعت کی قیادت کر رہے ہیں۔

’ہمارے پاس ایسی ٹیمیں موجود ہیں جو اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ یہ چشمے استعمال کرنے والوں اور ان کے اردگرد موجود افراد دونوں کے لیے محفوظ اور آرام دہ ہوں تاکہ ہم ایسی مصنوعات فراہم کرتے رہیں جو روزمرہ زندگی کو بہتر بنائیں۔‘

یوٹیوب کے ترجمان نے کہا ’یوٹیوب پر ہراسانی، ڈاکسنگ، غیر مطلوب جنسی نوعیت کے مواد اور خطرناک یا دھمکی آمیز مذاق کے خلاف دیرینہ پالیسیاں موجود ہیں۔

’یہ اصول تمام مواد پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی طریقے سے فلمایا یا تیار کیا گیا ہو۔

’اس کے علاوہ اگر کسی ویڈیو میں کسی شخص کی شناخت ظاہر ہو رہی ہو تو وہ ہماری پرائیویسی شکایت کے نظام کے ذریعے اس مواد کو ہٹانے کی درخواست بھی دے سکتا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *