میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم سندھ ہائی کورٹ کے عدالتی کمیشن نے جمعرات کو ایس ایس پی انویسٹی گیشن سمیع اللہ سومرو سے مقتول کے اہلِ خانہ کے بیانات، سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون، سمارٹ واچ اور جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنے کے طریقۂ کار پر سخت پوچھ گچھ کرتے ہوئے کارروائی کے دوران کمیشن نے ریمارکس دیے کہ ’آپ نے کیس خراب کیا، آپ بھی مشکوک ہیں۔‘
جمعرات کو ہونے والی کارروائی میں ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ انہیں میر رضا کیس کی تحقیقات دو اگست کو سونپی گئی تھیں۔ کمیشن نے سوال کیا کہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ہونے کے باوجود اہلِ خانہ کے بیانات اور دیگر اہم شواہد بروقت کیوں جمع نہیں کیے گئے۔
پولیس کے مطابق میر رضا علی 28 جولائی کو گھر سے نکلے تھے، جبکہ 29 جولائی کو گلستان جوہر سے ایک نوجوان کی لاش برآمد ہوئی، جس کی بعد ازاں شناخت میر رضا علی کے نام سے ہوئی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
کمیشن نے خودکشی کے مبینہ بیانیے کی بنیاد، میڈیا کو دی گئی معلومات، سی سی ٹی وی فوٹیجز کی دستیابی اور جائے وقوعہ سے ہولسٹر و گولی کے خول کی برآمدگی سے متعلق بھی سوالات کیے۔ کارروائی کے دوران اہلِ خانہ کے بیانات کے ریکارڈ اور پولیس افسران کے مؤقف میں بھی اختلاف سامنے آیا۔
سندھ حکومت کے فوکل پرسن نے کمیشن کو بتایا کہ حکومت بھی کارروائی کی جلد تکمیل چاہتی ہے، جبکہ کمیشن نے کہا کہ کارروائی پیر تک مکمل ہونے کی توقع ہے جس کے بعد رپورٹ کی تیاری شروع کی جائے گی۔
’فیملی کے بیانات کیوں ریکارڈ نہیں کیے؟‘
کمیشن نے سمیع اللہ سومرو سے پوچھا کہ انہیں کیس کی تحقیقات کب سونپی گئیں۔ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ ’دو اگست کو مجھے کیس کی تحقیقات ملیں۔‘ کمیشن نے سوال کیا کہ اہل خانہ کے بیانات کیوں ریکارڈ نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق انہوں نے تین اگست کو فیملی سے ملاقات کے لیے ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر کو کہا تھا۔
میر رضا کے والد میر حسین نے کمیشن کو بتایا کہ انہیں تین اگست کو ایس ایس پی زبیر نذیر کی جانب سے کوئی کال نہیں آئی، تاہم ان کی بیٹی علیشباہ نے بتایا کہ انہیں کال موصول ہوئی تھی اور تین اگست کی شام پولیس افسران نے فیملی سے ملاقات بھی کی تھی۔
سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ ماتحت افسران ان کے انتظامی کنٹرول میں نہیں بلکہ ایس ایس پی ایسٹ کے ماتحت تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس پر کمیشن نے سوال اٹھایا کہ وہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ تھے اور اگر ان کے احکامات پر عمل نہیں ہوا تو کیا انہوں نے کسی افسر کے خلاف کارروائی کی۔
خودکشی کے بیانیے پر سوالات
کمیشن نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن سمیع اللہ سومرو سے پوچھا کہ وہ میڈیا کو میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دینے سے متعلق معلومات کس بنیاد پر دے رہے تھے۔
سمیع اللہ سومرو نے خودکشی سے متعلق میڈیا کو بیان دینے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کبھی میڈیا پر ایسا بیان نہیں دیا‘۔
ان کے مطابق میر رضا کے دوستوں اور پارٹنر کے بیانات میں مالی دباؤ کا ذکر سامنے آیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تین اگست کو ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ کا بیان ریکارڈ ہوچکا تھا اور دو اگست تک 30 سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی جاچکی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ صحافی کو بتایا تھا کہ دستیاب شواہد کے مطابق خودکشی کے خدشات ہیں۔
اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کی جانب سے نیوز رپورٹ میں دی گئی بعض تفصیلات کے متعلق متعلقہ بیانات اس وقت تک ریکارڈ ہی نہیں ہوئے تھے۔ ان کے مطابق صارم کا بیان 17 اگست کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔
کارروائی کے اختتام پر اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے ایڈیشنل آئی جی، ڈی آئی جیز اور دیگر پولیس افسران کو ذاتی حیثیت میں کمیشن کے سامنے طلب کرنے کی درخواست جمع کرا دی۔
