سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے منگل کو ایک مرتبہ پھر پاکستان جا کر جیل میں قید اپنے والد سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
قاسم خان اور سلیمان خان نے آج پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ذوالفقار بخاری اور عمران خان کے عالمی سطح پر وکیل جیرڈ گینسر کے ہمراہ آن لائن پریس بریفنگ میں حصہ لیا۔
قاسم خان نے دوران گفتگو کہا: ’اس وقت پاکستان میں حالات مزید ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ میں اپنے والد سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے انہیں ایک طویل عرصے سے نہیں دیکھا۔‘
بات چیت کی ابتدا میں قاسم نے کہا: ’میں اور میرا بھائی کئی سالوں سے اپنے والد سے نہیں مل سکے۔ ہماری ویزا کی درخواستوں پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور پہلے جو فون کالز ہوا کرتی تھیں، وہ غیر منظم، مختصر اور اکثر ریکارڈ یا سنیں جاتی تھیں۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں
انہوں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا: ’گذشتہ چھ ماہ سے ہماری ان سے ایک بار بھی بات نہیں ہوئی۔ اس ماہ عدالت کی مداخلت تک ہمارے خاندان کو تقریباً 10 ماہ سے ان تک رسائی سے محروم رکھا گیا تھا۔‘
انہوں نے کہا: ’میرے والد جس صورت حال سے گزر رہے ہیں، وہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
’یہ بات صرف ہم نہیں کہہ رہے، اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ، ٹارچر پر اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر، ٹارچر کے خلاف اقوام متحدہ کی کمیٹی اور انٹر پارلیمنٹری یونین ان تمام نے باضابطہ طور پر ہمارے والد کے کیس کو اٹھایا ہے۔‘
قاسم نے مزید کہا کہ ’امریکی کانگریس کے اراکین اور برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز نے بھی اس پر آواز اٹھائی ہے۔ ہماری والدہ نے برطانوی حکومت سے پوچھا ہے کہ وہ کب تک خاموش رہے گی۔‘
زلفی بخاری کے مطابق سپریم کورٹ نے کچھ احکامات جاری کیے تھے جن پر عمل کرنا ضروری تھا۔
ان کے بقول: ’انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، انہیں (عمران خان کو) ایک سرکاری ہسپتال لے جایا گیا۔ اور نہ صرف انہیں ایک سرکاری ہسپتال لے جایا گیا بلکہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ عدالت کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی۔‘
زلفی بخاری نے مزید کہا ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس حکومت کی کیا نیت رہی ہے۔ انہیں صرف چند گھنٹوں کے لیے ہسپتال لے جایا گیا۔ وہاں ٹیسٹوں کے نام پر دوبارہ ایک مکمل ڈراما کیا گیا۔‘
یہ سب اتنے حیران کن اور قلیل وقت میں کیا گیا جس کے دوران وہ تمام طبی مسائل جن کی نشاندہی قاسم اور سلیمان نے کی، اچانک ٹیسٹ کر لیے گئے بلکہ صحافیوں کی جانب سے ایک رپورٹ لیک کی گئی جس میں کہا گیا کہ ڈاکٹروں نے ان کے دل کا سی ٹی سکین وغیرہ تجویز کیا ہے، لیکن انتظامیہ نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ مشینیں کام نہیں کر رہیں۔
حکومتی موقف
18 اگست کو عدالت نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ 73 سالہ سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرے لیکن انہیں سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث ایسا کرنا ضروری تھا اور اس اقدام سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔
حکومت نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پمز میں شفا ہسپتال کے ماہر امراضِ چشم نے عمران خان کا معائنہ کیا اور ان کی بہن کو بھی وہاں موجود رہنے کی اجازت دی گئی۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ہفتے کو ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا ’سپریم کورٹ کے حکم کی تمام شرائط، تمام تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔‘
تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے حامیوں کے شفا ہسپتال کے باہر جمع ہونے کے بعد مقام تبدیل کیا گیا کیونکہ حکومت کے خیال میں اس سے سکیورٹی خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔
انہوں نے عمران خان کی جماعت اور اہل خانہ پر الزام عائد کیا کہ وہ عدالت کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کے طبی علاج کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں۔
مقدمات جمہوریت کے منافی
آن لائن پریس بریفنگ کے دوران مختلف سوالوں کے جواب میں سلیمان خان نے کہا کہ ان کے والد کے خلاف مقدمات میں جو اقدامات نظر آ رہے ہیں، وہ ایک صحت مند اور فعال جمہوری حکومت کے نہیں ہیں۔
ان کے بقول: ’جب آپ کسی شخص پر الزامات کے تحت سینکڑوں مقدمات قائم کرتے ہیں اور بالآخر انہیں سزا سناتے ہیں، تو یہ کسی بھی لحاظ سے جمہوریت میں نہیں ہوتا اور یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں صرف عمران خان ہی نہیں، بلکہ ہزاروں سیاسی قیدی موجود ہیں۔‘
’آپ ہزاروں کارکنوں کے بنیادی انسانی حقوق کو دبانے کی بات کر رہے ہیں، اور ساتھ ہی عام عوام کے حقوق بھی غصب کیے جا رہے ہیں تاکہ پورے نظام پر لوہے کی گرفت برقرار رکھی جا سکے۔ ‘
انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا ’آپ نے ہمارے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا۔ میں یہ کہوں گا کہ ہم اس کال پر یہ ظاہر نہیں کریں گے کہ ہم کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
’لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم قانونی، سیاسی اور عوامی تعلقات پر مبنی ایک مسلسل مہم کا آغاز کر رہے ہیں،تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ لوگ سلیمان اور قاسم سے ملیں، سنیں کہ ان کے والد اور والدہ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور وہ کس صورت حال سے گزر رہے ہیں۔‘
اور ظاہر ہے کثیر القومی تنظیموں، قومی حکومتوں اور شہری تنظیموں کو پاکستان کی صورتحال پر توجہ مبذول کرنے کے لیے شامل کیا جائے۔ میرے لیے عمران خان کا کیس ملک کے رخ کا تعین کرنے والا اشاریہ ہے۔‘
’انہیں جیل میں رکھ کر یہ حکومت پاکستان کے عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ آواز اٹھانے کی جرات نہ کریں۔
’اگر ہم عمران خان کے ساتھ یہ کر سکتے ہیں جسے پوری دنیا جانتی ہے، تو آپ جیسے عام انسان کے ساتھ کیا کر سکتے ہیں؟‘
انہوں نے مزید کہا ’جب تک عمران خان جیل میں ہیں، ملک جس سمت جا رہا ہے وہ انتہائی خوفناک ہے اور عوامی حمایت سے محروم ہے۔‘
ایک اور سوال کے جواب میں عمران خان کے صاحبزادے نے کہا ’میں نے ہمیشہ کہا ہمارے والد موروثی سیاست کے شدید خلاف رہے ہیں۔
’یہی ایک وجہ ہے کہ تاریخ میں پاکستان جس طرح تباہ ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔ میں اور سلیمان وہ سب کچھ کریں گے جو ہم اپنے والد کی رہائی اور اپنے خاندان کو دوبارہ متحد کرنے کے لیے کر سکتے ہیں۔
’امید ہے کہ پاکستان کو اس کرپشن سے نجات ملے گی جو اسے تباہ کر رہی ہے، لیکن میں موروثی سیاست پر یقین نہیں رکھتا، جیسے میرے والد نہیں رکھتے تھے۔‘
’اس لیے جب وہ دوبارہ بااختیار ہوں گے تو ان کے بعد آنے والا اگلا امیدوار وہی ہونا چاہیے جو سب سے زیادہ مقبول اور اس عہدے کے لیے اہل ہو۔‘
زلفی بخاری نے سپریم کورٹ میں دائر توہین عدالت کی درخواست کے متعلق ایک سوال کے جواب میں دعویٰ کیا کہ معاملے کو اس نئی عدالت(ایف سی سی) میں منتقل کرنے کا بڑا دباؤ ہے۔
انہوں نے کہا ’جب آپ کو سپریم کورٹ سے حکم نہ ملے تو آپ اس نئی عدالت میں جا کر جیسے تیسے حکم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ وہ یہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
عمران خان کے معاملے پر عالمی مقدمے بازی سے متعلق عمران خان کے صاحبزادے نے کہا ’ہم اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے من مانی حراست کے سامنے عمران خان کا کیس پہلے ہی جیت چکے ہیں، جس نے ان کی حراست کو غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
’ہمارے لیے یہ ثابت کرنے کے لیے یہی کافی تھا کہ تمام مقدمات من گھڑت اور بے بنیاد ہیں، لہٰذا بین الاقوامی سطح پر مزید مقدمے بازی کی خاص ضرورت نہیں۔
’ہم اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے ساتھ راست رابطے کے لیے مزید طریقے دیکھ رہے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ہم اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ٹرک کو بھی اس میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔‘
پاکستان جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے اپنے ردعمل میں کہا ’جی ہاں، ہم یقیناً جانا چاہتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں حالات مزید ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔
’میں اپنے والد سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے انہیں ایک طویل عرصے سے نہیں دیکھا۔ لیکن ہمارے ویزے مؤثر طریقے سے رد کر دیے گئے، لہٰذا اگر ہم جانا بھی چاہیں تو نہیں جا سکتے۔
’جب ہم نے ابتدا میں جانے کا ارادہ کیا تھا تو ایک سرکاری اہلکار کی طرف سے ٹوئٹر پر بیان آیا تھا (جسے بعد میں ڈلیٹ کر دیا گیا) کہ ہمیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ تمام تر خطرات کے باوجود ہم کسی بھی قیمت پر جانا چاہتے ہیں۔
’اس وقت یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ شاید وہ جیل میں زیادہ وقت نہ نکال سکیں۔ اس لیے ان سے ملنے کا کوئی بھی موقع ملا تو ہم بلا تاخیر جائیں گے۔‘
سلیمان نے اس حوالے سے اضافہ کیا کہ ان کے والد نے خود پمز ہسپتال میں اپنی بہن کے سامنے اپنی صورت حال کا موازنہ مصر کے سابق صدر محمد مرسی سے کیا تھا۔
’یہاں موجود ہر شخص جانتا ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا، کس طرح جیل میں آہستہ آہستہ ان کی صحت کو ختم کیا گیا۔ عمران خان، جو ہمیشہ پرامید اور بہادر رہے ہیں، جب وہ خود اپنی حالت کا موازنہ مرسی سے کر رہے ہیں، تو اس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘
’یہ سننا کہ ان کا بلڈ پریشر ذہنی تناؤ اور پریشانی کی وجہ سے بڑھ گیا ہے، میرے لیے ذاتی طور پر بہت تشویش ناک تھا کیونکہ میں نے اپنی پوری زندگی میں انہیں کبھی پریشان یا تناؤ کا شکار نہیں دیکھا۔‘
