مہنگی رولیکس، پیٹک گھڑیوں سمیت 105 تحفے اس سال توشہ خانہ کے حوالے

وزارت اطلاعات نے گذشتہ تین ماہ کے دوران موصول ہونے والے تحائف کی تفصیل جاری کی جب کہ کابینہ ڈویژن نے اپنی ویب سائٹ پر 2002 سے اب تک تحائف کا ریکارڈ فراہم کر دیا۔ تاہم ماضی کے مقابلے میں حکام نے اس سال ان تحائف کی ممکنہ قیمت ظاہر نہیں کی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ توشہ خانہ ریکارڈ کے مطابق صدرآصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام کو حالیہ مہینوں میں متعدد قیمتی تحائف موصول ہوئے، جن میں رولیکس اور پیٹک فلپ جیسی مہنگی لگژری گھڑیاں نمایاں ہیں۔ یہ تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیے گئے ہیں، تاہم حکومت نے ان کی مالیت اور تحفہ دینے والی شخصیات کے نام ظاہر نہیں کیے۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات کی جانب سے گذشتہ تین ماہ کے دوران موصول ہونے والے تحائف کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں، جب کہ کابینہ ڈویژن نے بھی اپنی ویب سائٹ پر 2002 سے اب تک سرکاری عہدے داروں کو ملنے والے تحائف کا ریکارڈ فراہم کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ حکومت باقاعدگی کے ساتھ توشہ خانہ میں جمع کرائے گئے تحائف کی تفصیلات عوام کے لیے جاری کرتی ہے اور تازہ ریکارڈ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

ان کے مطابق: ’صدر، وزیر اعظم، نائب وزیر اعظم، وفاقی وزرا اور سرکاری افسروں کو ملنے والے تمام جمع شدہ تحائف کی معلومات پورٹل پر دستیاب ہیں، البتہ تحفہ دینے والے غیر ملکی معززین کے نام ظاہر نہیں کیے جاتے۔‘

کابینہ ڈویژن کی ویب سائٹ پر جاری تفصیلات کے ساتھ ایک نوٹ بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تحائف کی جانچ پڑتال اور تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔

ادارے کے مطابق یہ معلومات متعلقہ افراد اور اداروں کی جانب سے فراہم کردہ ریکارڈ کی بنیاد پر شائع کی گئی ہیں اور کسی غلطی یا کمی کی ذمہ داری کابینہ ڈویژن پر عائد نہیں ہوگی۔

ریکارڈ کے مطابق صدر آصف علی زرداری کو دو جنوری کو ایک چائے کا سیٹ اور تلوار تحفے میں ملی۔ دیگر تحائف میں سنہری صحرا کا ماڈل، اونی اوور کوٹ، ویشرون کانسٹنٹن، جنیوا کی کلائی گھڑی، آرائشی اشیا، رسمی تلواروں کا سیٹ، شطرنج بورڈ، سجاوٹی پیالہ اور آئل پینٹنگ شامل ہیں۔

خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری اور ان کی بہن بختاور بھٹو زرداری کو 20 جنوری کو ہار جب کہ 10 فروری کو زیورات کے سیٹ تحفے میں ملے۔ آصفہ بھٹو زرداری کو ایک ’کومس سیٹ‘ بھی موصول ہوا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کو پانچ جنوری کو شیلڈ اور یادگاری سووینئر دیا گیا، جب کہ بعد ازاں انہیں متعدد شیلڈز، پورٹریٹ، ٹائی، فریم، تلواریں اور ایک ڈبہ موصول ہوا جس میں ہار، انگوٹھی اور بالیاں شامل تھیں۔ وزیر اعظم کو دو رولیکس گھڑیاں اور ایک پیٹک فلپ گھڑی بھی تحفے میں دی گئی۔ دیگر تحائف میں سکے، روایتی لباس، گھڑی کا ماڈل، شوگر باؤل، گاڑی کا ماڈل، کپ، قلم اور کف لنکس شامل ہیں۔

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ایک آرائشی شے اور روایتی چینی مہر موصول ہوئی۔ انہیں بعد ازاں میانمار کا روایتی پتلا، ثقافتی فریم، ایک رولیکس گھڑی، گلدان، تمغہ، چینی چرمی بیلٹ، مصری مجسمہ، قلم اور کف لنکس کا سیٹ بھی تحفے میں ملا۔

وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ کو 12 جنوری کو ’ازبکستان‘ کے عنوان سے ایک کتاب اور ٹی شرٹ دی گئی، جبکہ اقتصادی امور کے سیکریٹری ایم ہمایوں کریم کو اسی روز ایک اعلیٰ معیار کا بال پوائنٹ قلم ملا۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کو بھی ایک رولیکس گھڑی تحفے میں دی گئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدر مملکت کے عملے میں شامل فوجی سیکریٹری کو رولیکس گھڑی، چیف سکیورٹی افسر کو آئی ڈبلیو سی گھڑی اور ایئر اے ڈی سی کو اومیگا گھڑی موصول ہوئی۔ صدر کے پرنسپل سٹاف افسر اور ترجمان کو بھی ایک ایک گھڑی دی گئی۔

قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کو بڑا سیرامک جار جبکہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کو بلغاری برانڈ کی گھڑی تحفے میں ملی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد کو ایک گھڑی اور انٹرپول کی صد سالہ یادگاری کتاب دی گئی۔ ڈپٹی چیف آف سٹیٹ پروٹوکول حفیظ اللہ کو ٹیگ ہوئیر گھڑی موصول ہوئی۔ 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *