مکمل تھکا ہونے کے باوجود آپ سو کیوں نہیں پاتے؟

​​گھڑی پر رات کے دو بج کر 13 منٹ ہو رہے ہیں۔ آپ تھکن سے نڈھال ہیں۔ آنکھیں دکھ رہی ہیں، جسم بوجھل محسوس ہو رہا ہے اور الارم بجنے کی فکر رات پر ابھی سے حاوی ہونا شروع ہو گئی ہے، لیکن آپ کا دماغ سوچوں سے پیچھا چھڑانے سے انکاری ہے۔

اس کی بجائے سوچیں لہروں کی طرح آ رہی ہیں۔ کیا آپ نے وہ ای میل بھیج دی تھی؟ اگر آپ کوئی اہم بات بھول گئے ہوں تو کیا ہو گا؟ شاید آپ کے ذہن کے لیے 2017 کی کسی گفتگو کو مکمل باریک بینی سے دہرانے کا بھی یہی سب سے بہترین وقت ہے۔ 

بہت سے لوگ ’تھکا ہوا مگر چوکنا‘ رہنے کی اس پریشان کن کیفیت سے واقف ہیں، جو جسمانی طور پر نڈھال ہونے کے باوجود ذہن کے پرسکون نہ ہو پانے کا ایک متضاد احساس ہے۔ 

یقیناً تھکاوٹ سے خود بخود نیند آ جانی چاہیے لیکن دماغ محض اس لیے نہیں سو جاتا کیوں کہ جسم تھکا ہوا ہے۔ درحقیقت، ذہنی دباؤ کی حالت میں تھکاوٹ اور بے خوابی اکثر ایک ساتھ طاری ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ہماری بقا کے حیاتیاتی نظام میں پوشیدہ ہے۔ 

انسانوں میں ذہنی دباؤ پر ردعمل فوری جسمانی خطرات سے نمٹنے کے لیے پروان چڑھا ہے۔

انسانی تاریخ کے بیشتر حصے میں خطرات عام طور پر انتہائی شدید اور مختصر وقت کے لیے ہوتے تھے، جیسے کسی شکاری جانور کا آس پاس ہونا، کوئی قدرتی آفت یا انسانوں کے کسی دوسرے گروہ کے ساتھ تصادم۔ ایسے لمحات میں دماغ کی اولین ترجیح آرام نہیں بلکہ جان بچانا ہوتی تھی۔ 

جب دماغ کسی خطرے کو بھانپ لیتا ہے، تو امیگڈالا نامی حصہ جسم کے روایتی ’لڑو یا بھاگو‘ والے ردعمل کو متحرک کر دیتا ہے۔ ایڈرینالین اور کورٹیسول سمیت ذہنی دباؤ کے ہارمونز خارج ہوتے ہیں۔

دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، سانسیں تیز چلنے لگتی ہیں اور ذہن زیادہ چوکنا ہو جاتا ہے۔ توانائی کو طویل مدتی دیکھ بھال کے کاموں سے ہٹا کر فوری عمل کی جانب موڑ دیا جاتا ہے۔ 

یہ ردعمل غیر معمولی حد تک کارآمد ہے۔ اگر آپ کسی سیبر ٹوتھ ٹائیگر سے بچ کر بھاگنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ یہ اس وقت بہت کم کارآمد ہوتا ہے جب ‘خطرہ’ ای میلز سے بھرا ان باکس یا بڑھتا ہوا مالی دباؤ ہو۔ 

جدید دور میں ذہنی دباؤ کے عوامل نفسیاتی طور پر تو طاقتور ہیں لیکن حیاتیاتی لحاظ سے قدرے عجیب ہیں۔ شکاری جانوروں کے برعکس، یہ شاذ و نادر ہی جلدی ختم ہوتے ہیں۔ ای میلز مسلسل آتی رہتی ہیں۔ 

سمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ کے ذریعے کام ہمارے ساتھ گھر تک آ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا سماجی موازنے اور ہلکی سی چوکسی کا ایک مستقل سلسلہ پیدا کرتا ہے۔ 

یہاں تک کہ فرصت کے اوقات کی حد بندیاں بھی عجیب طرح سے ختم ہو گئی ہیں، جن میں نوٹیفکیشنز، پیغامات اور اکثر ہر وقت دستیاب رہنے کی توقع خلل ڈالتی ہے۔ 

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دماغ کے وہ حصے جو ہمیں چوکنا رکھنے کے ذمہ دار ہیں، طویل عرصے تک جزوی طور پر متحرک رہ سکتے ہیں۔ یہ اس لیے اہم ہے کیوں کہ نیند محض بیداری کے ختم ہو جانے کا نام نہیں ہے

۔ نیند طاری ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دماغ باقاعدہ طور پر چوکسی کو کم کرے۔ برین سٹیم، ہائپوتھیلامس اور فور برین میں موجود بیداری کے مراکز کا ایک نیٹ ورک عام طور پر دن کے وقت ہمیں جاگتا ہوا اور متوجہ رکھتا ہے۔ نیند کی حالت میں جانے کے لیے، ان نظاموں کا پرسکون ہونا ضروری ہے۔ 

تاہم، طویل مدتی ذہنی دباؤ کی صورت میں، دماغ انتہائی چوکنا رہنے کی کیفیت میں پھنس کر رہ سکتا ہے۔

جسمانی طور پر نڈھال ہونے کے باوجود، دماغ چیزوں کا جائزہ لینے، قبل از وقت اندازے لگانے اور باتوں کو دہرانے میں مصروف رہتا ہے۔ 

ارتقائی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات ایک حد تک سمجھ میں بھی آتی ہے۔ اگر ماحول خطرناک یا غیر یقینی محسوس ہو، تو مکمل طور پر غافل ہو جانا محفوظ معلوم نہیں ہوتا۔ 

اس کیفیت کے اس قدر ناگوار محسوس ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ جسمانی تھکاوٹ اور ذہنی چوکسی کو ایک دوسرے سے منسلک، لیکن کسی حد تک الگ الگ نظام کنٹرول کرتے ہیں۔ 

ہو سکتا ہے کہ آپ کے پٹھوں کو شدت سے آرام کی ضرورت ہو، جب کہ آپ کا دماغ ذہنی دباؤ سے پیدا ہونے والی چوکسی کو برقرار رکھے۔ اس کا نتیجہ ایک عجیب تضاد کی صورت میں نکلتا ہے جس سے بہت سے لوگ بخوبی واقف ہیں، یعنی ایک تھکا ہوا جسم اور تیزی سے دوڑتی ہوئی سوچیں۔ 

کورٹیسول بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عام حالات میں کورٹیسول روزمرہ کے ایک معمول کے مطابق چلتا ہے۔

صبح کے وقت بیدار رہنے میں مدد دینے کے لیے اس کی سطح بڑھ جاتی ہے اور رات ہونے تک بتدریج کم ہونے لگتی ہے۔ طویل مدتی ذہنی دباؤ اس معمول کو بگاڑ سکتا ہے، جس کی وجہ سے جسم شام کے بعد دیر تک متحرک رہتا ہے۔ 

کچھ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ بے خوابی کے شکار افراد سونے کی کوشش کے دوران بھی تیز میٹابولک اور اعصابی سرگرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں، بالکل ایسے جیسے دماغ ضرورت سے زیادہ تیزی سے چل رہا ہو۔

جدید زندگی اس مسئلے کو ان طریقوں سے مزید بڑھا سکتی ہے جن سے نمٹنے کے لیے ہمارا اعصابی نظام ارتقائی طور پر تیار نہیں ہے۔ 

جدید دنیا اسے  بدتر کیوں بناتی ہے؟

مصنوعی روشنی میلاٹونن کو کم کرتی ہے۔ یہ وہ ہارمون ہے جو نیند کے اوقات کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سمارٹ فون بالکل اس وقت لا محدود ذہنی تحریک فراہم کرتے ہیں جب دماغ کو پرسکون ہونا چاہیے۔

’ڈوم سکرولنگ‘ جذباتی ہیجان، غیر یقینی صورت حال اور نئے پن کو یکجا کر دیتی ہے، اور یہ تین ایسی چیزیں ہیں جنہیں نظر انداز کرنا انسانی توجہ کے نظام کے لیے تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ 

پھر ایک ہی بات کو بار بار سوچنے کا عمل آتا ہے۔ یعنی پریشانیوں اور مسائل کو ذہن میں مسلسل دہرانا۔ انسان ذہنی طور پر مستقبل کا تصور کرنے اور ماضی میں لوٹنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ صلاحیت ہمیں منصوبہ بندی کرنے، سیکھنے اور خطرے سے بچنے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی فوری خطرے کے ٹل جانے کے کافی دیر بعد تک بھی دماغ ذہنی دباؤ کا ردعمل پیدا کرتا رہ سکتا ہے۔ 

تلخ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم جتنے زیادہ نڈھال ہوتے ہیں، جذبات کو قابو میں رکھنا اکثر اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔

نیند کی کمی بذات خود امیگڈالا کے ردعمل کو تیز کر دیتی ہے جب کہ یہ پری فرنٹل کورٹیکس کے قابو پانے والے اثر کو کم کر دیتی ہے، جو دماغ کا وہ حصہ ہے جو منطقی کنٹرول اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے تعلق رکھتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک تھکا ہوا دماغ جذباتی طور پر زیادہ حساس ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے رات کے وقت پریشانیاں اور بھی زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، حد سے زیادہ تھکاوٹ دماغ کی خود کو پرسکون کرنے کی صلاحیت کو کم کر سکتی ہے۔

اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ بے خوابی کے شکار افراد کے لیے ’بس آرام کرو‘ عموماً بہت برا مشورہ کیوں ہوتا ہے۔

حد سے زیادہ چوکنا رہنا محض قوت ارادی کی ناکامی نہیں ہے۔ یہ ایک گہری حیاتیاتی کیفیت ہے جو ذہنی دباؤ کے نظاموں، ہارمونز، توجہ کے نیٹ ورکس اور چوکنا رہنے کے سیکھے گئے رویوں سے تشکیل پاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صورتحال مایوس کن ہے۔ 

نیند پر تحقیق کرنے والے اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دماغ میں آرام اور تحفظ کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

مستقل معمولات، شام کے وقت ذہنی محرکات میں کمی، ورزش، دن کی روشنی میں رہنا اور رات گئے سکرین کا استعمال محدود کرنا، یہ تمام چیزیں دماغ کو یہ پیغام دینے میں مدد کر سکتی ہیں کہ رات چوکنا رہنے کے بجائے خود کو بحال کرنے کا وقت ہے۔

بے خوابی کے لیے کاگنیٹیو بیہیویورل تھراپی بھی حیران کن حد تک کارآمد ثابت ہوئی ہے، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ براہ راست بے چینی اور بے خوابی کے چکر کو ہی نشانہ بناتی ہے۔

شاید سب سے اہم بات اس سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ ’تھکا ہوا مگر چوکنا‘ محسوس کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ آپ کا جسم ٹھیک سے آرام کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اکثر یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ دماغ ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا میں چوکنا رہنے میں بہت ماہر ہو گیا ہے جو درحقیقت کبھی رکتی ہی نہیں۔

قبل ازیں یہ مضمون دا کنورسیشن میں شائع ہو چکا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *