مہنگائی کا جن جب بوتل سے باہر نکلتا ہے تو حکومتوں کے دن گننا شروع کر دیتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کمر توڑ مہنگائی، آسمان کو چھوتی قیمتیں اور عام آدمی کی گرتی ہوئی قوت خرید کسی بھی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتی ہیں۔
جب بازار میں قیمتیں قابو سے باہر ہوں، بجلی کے بل گھر کے بجٹ سے بڑے دکھائی دیں اور دو وقت کی روٹی ایک سوال بن جائے تو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے لیے زمین یقیناً تنگ ہونے لگتی ہے۔ لیکن پاکستان میں اس وقت ایک دلچسپ صورت حال ہے۔ عوام مہنگائی سے پریشان ہیں، لیکن حکومت سیاسی طور پر نسبتاً پرسکون ہے۔
اعداد و شمار دیکھیں تو اس ’سب اچھے‘ پر اور بھی حیرت ہوتی ہے۔ یہ حیرت کیوں نہیں ہونی چاہیے، اس پر بات بعد میں، پہلے اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہیں۔ عرب نیوز کی 25 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ٹاپ لائن سکیورٹیز نے ستمبر میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر 1.3 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے، جو پانچ ماہ میں سب سے تیز ماہانہ اضافہ ہوگا۔ ایندھن کی قیمتوں میں 6.5 فیصد اور ہاؤسنگ، پانی، بجلی و گیس کے شعبے میں 1.78 فیصد اضافے کا اندازہ لگایا گیا جبکہ بجلی کی قیمتوں میں اکیلے 9.58 فیصد ماہانہ اضافے کی توقع ظاہر کی گئی۔ اگست میں سرکاری سالانہ مہنگائی 11.15 فیصد رہی۔
یعنی عام پاکستانی کی حالت اس شخص جیسی ہے جو پہلے ہی گہرے پانی میں کھڑا ہو اور اسے بتایا جائے کہ پانی اب آہستہ آہستہ مزید بڑھ رہا ہے۔
اس مہنگائی کی بڑی وجوہات میں پٹرول بھی شامل ہے، جس سے زندگی کا پہیہ چلتا ہے اور جتنی قیمت بڑھتی ہے، اتنا ہی یہ پہیہ سست ہو جاتا ہے۔ فروری میں امریکہ۔ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے پیٹرول 266.17 روپے فی لیٹر تھا۔ اب یہ تقریباً 46 فیصد زیادہ مہنگا ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت تقریباً 47 فیصد زیادہ ہے۔
حکومت نے چھوٹی گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور رکشوں کے ڈرائیوروں کے لیے ریلیف پروگرام ترتیب دیا ہے، جس کے تحت انہیں ہفتے میں 5 لیٹر تک پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کی رعایت ملے گی۔ لیکن ماہانہ 2,000 روپے تک کا یہ ریلیف عوامی پریشانیوں کو کتنا کم کر پائے گا؟
تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی تحریکیں آپ کے سامنے ہیں۔ حکومت کے خلاف کوئی ایسی بڑی احتجاجی لہر دکھائی نہیں دیتی جو اقتدار کے ایوانوں کو ہلا دینے کی طاقت رکھتی ہو۔ کیوں؟ کیونکہ شہباز شریف حکومت کو دو بڑی خوش بختیاں حاصل ہیں۔
پہلی خوش بختی دفاعی اور سفارتی محاذ سے آئی ہے۔ انڈیا کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاک فضائیہ کی کامیاب کارروائی اور اس کے بعد پیدا ہونے والے قومی جذبے نے کچھ عرصے کے لیے ملکی سیاست کا رخ بدل دیا۔ مہنگائی، بجلی کے بل، حکومتی کارکردگی اور سیاسی تقسیم جیسے سوالات پسِ منظر میں چلے گئے اور قومی سلامتی مرکزی موضوع بن گئی۔
جب سرحد پر خطرہ ہو تو بجلی کے بل کا حساب مانگنے والے بھی کچھ دیر کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔ دفاعی محاذ پر ملک کو ملنے والی پذیرائی نے حکومت کو بھی سیاسی فائدہ پہنچایا، خواہ اس کا براہ راست تعلق حکومتی کارکردگی سے نہ ہو۔ اس کے بعد سفارتی محاذ نے بھی حکومت کو مزید مہلت فراہم کی۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع اور عالمی طاقتوں کے باہمی اختلافات کے دوران پاکستان نے رابطوں اور مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا۔
یوں ایک عجیب تضاد سامنے آیا۔ گھر کا بجٹ خراب مگر خارجہ پالیسی کے ایوانوں میں پاکستان کی اہمیت زیرِ بحث رہی۔ عوام پٹرول اور بجلی کے نرخ گنتے رہے جبکہ حکومت عالمی سفارت کاری میں اپنے کردار کو نمایاں کرتی رہی۔ عوام ایک کے لیے پریشان اور دوسرے کے لیے خوش نظر آئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ حکومت کے لیے یقیناً ایک موافق صورت حال تھی۔ لیکن اس سے بھی بڑی خوش بختی اپوزیشن کے حالات ہیں۔ اپوزیشن کی مرکزی اور بڑی جماعت، تحریکِ انصاف، اس وقت اپنی سیاسی قوت کو اس انداز میں منظم نہیں کر سکی کہ عوام کے معاشی غصے کو ایک وسیع اور مسلسل سیاسی تحریک میں تبدیل کر سکے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے سیاسی اور قانونی جدوجہد تحریکِ انصاف کا جمہوری حق ہے لیکن سیاست صرف قیادت کی رہائی کا نام نہیں۔
وہ شہری بھی سیاست کا حصہ ہے جس کے گھر میں مہینے کے آخر میں راشن ختم یا پھر کم پڑ جاتا ہے۔ وہ نوجوان بھی سیاسی حقیقت ہے جس کے ہاتھ میں ڈگری ہے، مگر روزگار نہیں۔ وہ شخص بھی ریاست سے سوال کرتا ہے جو بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد بچوں کی فیس کا حساب لگاتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اپوزیشن کی بڑی سیاسی جماعت ان سوالات کو ابھی تک اپنی سیاست کا مرکزی سوال نہیں بنا سکی۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، پٹرول اور عام آدمی کی معاشی مشکلات کسی بھی حکومت کے لیے بڑا سیاسی دباؤ بن سکتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے عوامی غصے کو منظم، پرامن اور مسلسل سیاسی مہم میں تبدیل کرنا پڑتا ہے۔
اب تک ایسا نہیں ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ عوام ناراض ہیں، مگر ان کی ناراضی سیاسی طوفان نہیں بن رہی۔ حکومت کے لیے اس سے زیادہ خوش آئند صورت حال اور کیا ہو سکتی ہے؟ تاہم یہ خلا دائمی نہیں ہوتے۔ جماعتِ اسلامی کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف بھرپور احتجاجی مہم نے یہ ضرور دکھایا ہے کہ معاشی مسئلہ اگر براہ راست عوام کی جیب سے جڑا ہو تو اسے سیاسی دباؤ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
عوامی احتجاج کے لیے ہمیشہ بڑے نظریاتی نعروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی بجلی کا بل کافی ہوتا ہے، کبھی پیٹرول کی قیمت اور کبھی بچوں کی فیس۔ یہ سب اہم چیزیں ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اپوزیشن کی مرکزی جماعت، تحریک انصاف، ان قیمتوں اور بلوں میں چھپی عوامی بے چینی کو سیاسی زبان دے سکتی ہے یا نہیں۔ اگر تحریکِ انصاف مہنگائی، بے روزگاری اور عام آدمی کی مشکلات کو اپنی سیاست کا مرکز بناتی ہے اور جماعت اسلامی کی طرح ایک منظم، پُرامن اور مسلسل عوامی مہم چلاتی ہے تو موجودہ سیاسی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ لیکن فی الحال تحریک انصاف کی سیاست قیادت، مقدمات اور سیاسی و قانونی معاملات کے گرد گھوم رہی ہے۔
آج شہباز حکومت کی خوش بختی اور تحریک انصاف کی یہ کمزوری براہ راست ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ حکومت کے پاس عوامی مسائل کا مکمل حل موجود نہیں، لیکن اس کے خلاف عوامی غصے کو منظم کرنے والی سیاسی قوت بھی پوری طرح میدان میں نہیں۔
چنانچہ مہنگائی اپنا کام کر رہی ہے اور حکومت اپنی جگہ قائم ہے۔ مگر سیاست میں کوئی خوش بختی دائمی نہیں ہوتی۔ دفاعی کامیابی کا اثر وقت کے ساتھ مدھم پڑ سکتا ہے، سفارتی پذیرائی روزمرہ زندگی کے اخراجات ادا نہیں کرتی اور اپوزیشن کا انتشار بھی مستقل سیاسی حقیقت نہیں۔
حکومت کے پاس ابھی مہلت ہے۔ اگر یہ مہلت عوام کو حقیقی ریلیف دینے میں استعمال ہوتی ہے تو سیاسی سکون کسی پائیدار فائدے میں بدل سکتا ہے۔ لیکن اگر حکومت نے حالات کی مہربانی کو اپنی کارکردگی سمجھ لیا اور مہنگائی اسی طرح عوام کی کمر توڑتی رہی تو آج کی سیاسی خوش بختی کل کی سیاسی مشکل بن سکتی ہے۔
مصنف عرب نیوز سے منسلک ہیں۔ یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
