پچھلے کچھ دنوں سے ایک خبر نے ہلچل مچا رکھی ہے، خبر ہے ایک مبینہ منشیات ڈیلر کی، جو مبینہ طور پر کروڑوں روپوں کی منشیات کی ترسیل میں ملوث تھیں۔
خبر آئی، تصویر آئی، آڈیو آئی، ویڈیو آئی اور خلقت شہر جو کہنے کو فسانے مانگتی ہے، اس کہانی پہ رائے دینے پہ بھی مستعد ہو گئی کہ یہی دنیا کی ریت ہے۔
ہر سال دو سال بعد ایک کیس نکلتا ہے اور لوگ منشیات فروشوں اور ان کے گاہکوں کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ کیس کا کیا بنا؟ یہ کچھ عرصے بعد سب بھول بھال جاتے ہیں۔
وہی، یا کوئی دوسرا منشیات فروش وہی جگہ لیتا ہے، گاہک کچھ عرصہ محتاط رہتے ہیں اور پھر دوبارہ سب کچھ ٹھکانے پہ آجاتا ہے اور وہی شراب، وہی چرس، وہی آئس، وہی کوکین ہوتی ہے اور وہی نشئی۔
پچھلے سال ہی مصطفیٰ قتل کیس سے منسلک کتنے چہرے سامنے آئے اور پھر کہانی غائب۔ ظاہر جعفر کیس کسے بھول سکتا ہے؟ ظاہر ابھی جیل میں ہے اور کبھی کبھی مجھے یہ خیال آتا ہے کہ وہ شخص جو بار بار ری ہیب جانے کے بعد بھی نشے سے باز نہ آیا اور نشے میں اس قدر غرق ہو گیا کہ ایک بھیانک قتل کا مرتکب ہوا، کیا اتنے عرصے سے وہ جیل میں منشیات کے بغیر رہ رہا ہے؟
اگر وہ نشے کے بغیر رہ سکتا تھا تو پہلے ایسا ممکن کیوں نہیں ہوا؟ اور اگر ایسا نہیں ہے تو کیا جیل میں وہ منشیات استعمال کر رہا ہے؟
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مصطفیٰ عامر کیس کا ملزم ارمغان قریشی بھی سوا سال سے جیل میں ہے، اس کے باپ کی ویڈیو ز اب بھی کہیں نہ کہیں موجود ہوں گی جن میں وہ چلا چلا کر کہہ رہا ہے کہ میرا لڑکا مر جائے گا، اسے ڈرگز چاہییں۔
ارمغان آج بھی 4 مقدمات کے سلسلے میں پولیس کی تحویل میں ہے اور سوال وہیں موجود ہے، کیا اس نے منشیات چھوڑ دی ہیں یا ۔۔۔؟
جن افراد نے نشے کے عادی افراد کو قریب سے دیکھا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ایسے افراد جو نہ صرف منشیات استعمال کرتے ہیں بلکہ اس کی فروخت میں بھی ملوث ہوتے ہیں، منشیات کے بغیر نہیں رہ سکتے اور اس نشے کے حصول کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاتے ہیں۔
اب ایک نہیں کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ یہ جو گاہے گاہے منشیات فروش پکڑے جاتے ہیں، پھر یہ کہاں جاتے ہیں؟ جب تک یہ نہیں پکڑے جاتے تو کیوں نہیں پکڑے جاتے اور جب پکڑے جاتے ہیں تو کیا واقعی پکڑے جاتے ہیں؟
سوالوں کے جواب ہوتے تو منشیات کا یہ زہر ہماری رگوں میں اس طرح نہ دوڑ رہا ہوتا، کتنے ہی خاندان اس منحوس لت کے بالواسطہ یا بلاواسطہ شکار بنے۔
نشہ کرنے والا خود بھی بہت دُکھتا ہے اور خود سے منسلک لوگوں کو بھی بہت دکھاتا ہے۔ انمول پنکی نے گرفتار ہونے سے پہلے مبینہ طور پہ اپنی جگہ کسی اور کو دینے کا اعلان کیا تھا۔
کارٹیل سلامت رہتے ہیں، نشے چلتے رہتے ہیں۔ وہ جیل شاید ابھی بنی ہی نہیں جس میں سارے مجرم قید کیے جا سکیں۔ معاشرے میں یہ لوگ موجود رہتے ہیں۔
نشے سے پاک معاشرہ ایک رات میں نہیں بن جائے گا۔ اس کے لیے صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ضرورت نہیں ہے ایک قومی ضمیر چاہیے، وسیع ذہن اور سوچ کے ساتھ اس ’گیپ‘ کو کھوجیے، جو نوجوانوں کو نشے کی طرف لے کر جاتا ہے۔
اس ’گیپ‘ کو بھرنے کے لیے کلچرل پالیسی، تعلیمی اداروں میں کھیل اور غیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ اور دیگر سماجی اصلاحات کی بھی شدید ضرورت ہے۔
ہمارے معاشرے میں عمومی طور پہ جب علم ہوتا ہے کہ کوئی شخص نشے کا عادی ہو گیا ہے تو اس سے کچے پکے وعدے لے کر فٹافٹ کسی معصوم لڑکی سے شادی کر دی جاتی ہے کیونکہ بیوی ٹھیک کر لے گی۔
منشیات کے فروغ کی بہت بڑی وجہ یہ سماجی رویہ ہے۔ پولیس، جیل، سزائیں، یہ سب اس کے کہیں بعد آتی ہیں۔ اپنی اپنی سماجی ذمے داری کو سمجھیے، پنکی کے حلیے،گفتگو اور لباس پہ رائے دے کر جب اکتا جائیں تو ذرا دیر کو سوچیے اور دیکھیے کہ آپ کے قریب کوئی نشے کا مریض ہے تو آپ اس کے گھر والوں کی کیسے مدد کر سکتے ہیں اور کیسے اسے اس لت سے نکال سکتے ہیں۔
اگر آپ یہ کام نہیں کر سکتے تو ازراہ کرم، انمول پنکی کی فوٹو شاپ تصویریں اور لطائف سننے اور آگے بھیجنے سے بھی باز رہیے۔ یہ آگ ہے اور جب جنگل میں آگ لگی ہو اور اسے کوئی بجھانے نہ اٹھے تو ایک روز وہ آپ کے گھونسلے تک بھی پہنچے گی۔
ہاتھ سینکنا چھوڑیے، آگ بجھانے کی تدبیر کیجیے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
