گھر کا چولہا جلانے کے لیے روزانہ کی آمدن میں سے آٹا خریدنا ہو یا بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروریات پوری کرنا، کراچی میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے کم آمدن والے گھرانوں کے لیے اخراجات پورے کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
شہر میں لال آٹا 200 روپے فی کلو، فائن ڈھائی نمبر آٹا 170 روپے فی کلو جب کہ میدہ 200 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد نان، روٹی اور چپاتی بھی 5 سے 10 روپے تک مہنگی ہوگئی ہے۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق آٹھ اکتوبر، 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں گندم کے آٹے کی قیمت میں گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں 5.69 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادارے کے مطابق 15 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں آٹے کی قیمت میں گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں مزید 3.36 فیصد اضافہ ہوا۔
’گھر کا خرچہ پورا کرنا مشکل‘
کراچی میں تندور سے روٹی خریدنے آئے شہری عمران علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یومیہ اجرت پر کام کرنے والے شخص کے لیے گھر چلانا مشکل ہوگیا ہے۔ کھانے پینے کے اخراجات کے ساتھ بچوں کی تعلیم اور گھر کی دوسری ضروریات بھی پوری کرنی ہوتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا: ’حکومت کو آٹے سمیت بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ عام آدمی کو کچھ ریلیف مل سکے۔‘
تندور مالکان کے لیے بھی اخراجات بڑھ گئے ہیں۔
آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف گھرانوں تک محدود نہیں بلکہ نان، روٹی اور چپاتی بنانے والے تندور مالکان بھی بڑھتے اخراجات سے پریشان ہیں۔
تندور چلانے والے زاہد شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آٹے اور دوسرے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے نان کی قیمت بڑھانی پڑی ہے۔ صارفین قیمتوں میں اضافے پر شکایت کرتے ہیں، لیکن تندور کا کرایہ اور دوسرے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔‘
فلور ملز ایسوسی ایشن کا گندم درآمد کرنے کا مطالبہ
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے مرکزی چیئرمین عبدالجنید عزیز نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا حکومتی عداد و شمار درست نہیں۔
بقول ان کے : ’گندم کی دستیابی کے حوالے سے حکومتی اندازے درست نہیں تھے۔ ہم نے سندھ اور وفاقی حکومت کو پہلے ہی آگاہ کیا تھا کہ صورت حال کے باعث بحران پیدا ہوسکتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’مارکیٹ میں گندم کی دستیابی کا مسئلہ ہے اور طلب پوری کرنے کے لیے فوری طور پر 20 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔‘
عبدالجنید عزیز کے مطابق اگر نجی شعبے اور فلور ملز کو گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے تو تقریباً ایک ماہ میں گندم پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمد میں تاخیر سے رسد اور طلب کا فرق بڑھے گا، جس کا بوجھ بالآخر عام لوگوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے گندم کی اجرا قیمت 12 ہزار 500 روپے فی 100 کلوگرام مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم مارکیٹ میں گندم کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے بروقت اقدامات ضروری ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’سرکاری نرخ اور مارکیٹ کی قیمت میں فرق‘
جوڑیا بازار کے آٹا ہول سیلر اسامہ ندیم نے انڈپینڈنٹ نے کہا کہ ’اکتوبر کے پہلے ہفتے میں آٹے کی قیمتوں میں چار مرتبہ اضافہ ہوا۔ 50 کلو آٹے کا تھیلا تقریباً سات ہزار روپے سے بڑھ کر آٹھ ہزار روپے سے تجاوز کرگیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’فلور ملز کی نرخ فہرست میں ڈھائی نمبر آٹے کی ہول سیل قیمت تقریباً 161 سے 162 روپے فی کلو ہے، جبک ہ کمشنر کراچی کی سرکاری نرخ فہرست میں قیمت 125 روپے فی کلو درج ہے۔‘
اسامہ ندیم کے مطابق دکانداروں کو آٹا زیادہ قیمت پر ملنے کی وجہ سے سرکاری نرخ پر فروخت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری نرخ سے زائد قیمت پر فروخت کرنے پر دکانداروں کو جرمانوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، تاہم اس سے مارکیٹ میں قیمتوں کا فرق ختم نہیں ہوتا۔
گندم کی فراہمی بہتر بنانے کا مطالبہ
کراچی ہول سیلر گروسر ایسوسی ایشن کے رہنما عبدالرؤف ابراہیم نے کہا: ’اشیائے خورونوش کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور متوسط طبقہ بھی مہنگائی سے متاثر ہورہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو گندم کی پیداوار، دستیاب ذخائر اور سالانہ کھپت کو مدنظر رکھتے ہوئے فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔ نجی شعبے کو درآمد کی اجازت دینے سے مارکیٹ میں رسد بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔‘
عبدالرؤف ابراہیم کے مطابق کسانوں کو گندم کی کاشت جاری رکھنے کے لیے مناسب قیمت ملنا بھی ضروری ہے، جبکہ حکومت کو صارفین کے لیے آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے کے اقدامات کرنے چاہییں۔
کراچی میں آٹے کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کم آمدن والے گھرانوں کے لیے روزمرہ خوراک کا خرچ بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب نان، روٹی اور چپاتی کی قیمتوں میں اضافے نے بھی شہریوں کے بجٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ فلور ملز اور تاجروں کے نمائندے گندم کی فراہمی بہتر بنانے اور درآمد سے متعلق بروقت فیصلوں پر زور دے رہے ہیں۔
