سعودی عرب کی خودمختاری، حرمین شریفین کی سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ترجمان پاکستان فوج

پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کی سلامتی ایسے معاملات ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یہ بات انڈپینڈنٹ عربیہ کو دیے ایک انٹرویو میں کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب کی خودمختاری، اس کی علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کی سلامتی ایسے معاملات ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘

انہوں نے کہا ’جب ہم یہ کہتے ہیں تو ہمارا مطلب یہ ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے ہر ضروری معاونت پہلے ہی فراہم کی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔‘

انہوں نے اشارہ کیا کہ آپریشنل رازداری کے تقاضوں کے باعث تفصیلات میں جانا ممکن نہیں۔

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو براہِ راست فوجی معاونت فراہم کرنے کے امکان کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ آیا اسلام آباد کو اس حوالے سے کوئی باضابطہ درخواست موصول ہوئی ہے یا نہیں۔

تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان کو موصول ہونے والی کسی بھی درخواست کا جائزہ لیا جائے گا اور اس بارے میں مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔

مکہ دفاعی معاہدہ

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی پر مشتمل ’مکہ معاہدہ‘ گذشتہ اگست میں طے پایا تھا۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد تینوں ممالک نے معاہدے میں درج اجتماعی دفاع کی ذمہ داریوں کو فعال کر دیا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے اس عرصے کے دوران اتحاد کی پیش رفت کو ’غیرمعمولی‘ قرار دیا اور کہا کہ اتحاد پر شک کرنے والے بنیادی طور پر وہ ہیں جنہیں اس سے مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اصل اہمیت نتائج کی ہے۔‘ ان کے مطابق شک کرنے والے وہی کریں گے جو وہ ہمیشہ کرتے آئے ہیں، یعنی تنقید، جبکہ اتحاد اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے آگے بڑھتا رہے گا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اتحاد کی مضبوطی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس کے سیکریٹریٹ کے تیزی سے قیام اور سیاسی، تزویراتی اور دفاعی کمیٹی کی تشکیل کا حوالہ دیا۔ اس کمیٹی میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان شامل ہیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ ’اتحاد کا قیام بے بنیاد نہیں تھا، بلکہ یہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان مضبوط تاریخی تعلقات پر مبنی ہے، جو باہمی اعتماد اور احترام کے ساتھ ساتھ سلامتی، استحکام اور اجتماعی دفاع کے مشترکہ وژن پر قائم ہیں۔‘

پاکستان فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ یہ اتحاد اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 پر مبنی ہے، جو ممالک کو اپنے دفاع کا حق دیتی ہے، اور اجتماعی دفاعی نظام کا مقصد ان فریقوں کو واضح پیغام دینا ہے جو خطے کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر کوئی فریق تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف براہِ راست یا بالواسطہ جنگ چھیڑتا ہے تو ردعمل اجتماعی ہوگا۔‘

پاکستان میں غم و غصہ

مکہ اور مدینہ پر حوثیوں کے حملوں کے بارے میں پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ان حملوں کے بعد ان کے ملک میں ’سڑکوں پر موجود عام لوگوں سے لے کر بچوں اور نوجوانوں تک، اور ہماری سیاسی و عسکری قیادت تک، ہر طرف غصہ تھا۔ ہم نے سوال کیا کہ کوئی بھی سمجھ دار شخص سعودی عرب پر حملہ کیسے کر سکتا ہے، مقدس مقامات کو دھمکی کیسے دے سکتا ہے یا کم از کم یہ تاثر کیسے دے سکتا ہے کہ وہ انہیں دھمکانے کا ارادہ رکھتا ہے؟‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’اسلامی مقدسات کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ یا تحفظات قبول نہیں کیے جا سکتے، اور پاکستان کا فوجی مؤقف اسی عزم سے جنم لیتا ہے۔‘

پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’فوجی تنازعات میں شدت پیدا کرنا یا ان کے دائرے کو وسیع کرنا اسلامی ممالک یا ان کے عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر مذاکرات کے ذریعے تصفیے تک پہنچنا ممکن نہ ہوا اور صورتِ حال فوجی تصادم میں تبدیل ہو گئی تو ’مکہ معاہدہ‘ کی جانب سے فراہم کردہ اجتماعی دفاعی نظام لازماً فعال ہو جائے گا، جیسا کہ پہلے ہی ہو رہا ہے۔‘

مصر کا سعودی عرب کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی پیشکش

مصر نے بھی سعودی عرب کو اس کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ مصری ایوانِ صدر کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے اتحادی یمنی حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر حملوں میں تیزی پیدا کر دی ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے پارلیمان کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا تاکہ سعودی عرب کی درخواست پر اس کے دفاع میں مدد کے لیے مصری فوج کو کارروائی کی اجازت دی جا سکے۔ مصری فوج عرب دنیا کی بڑی افواج میں شمار ہوتی ہے۔

دو ارکانِ پارلیمان اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پارلیمان میں اس معاملے پر اتوار کو ووٹنگ متوقع تھی، تاہم بحث پیر تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت کے اتحاد اور حوثیوں کے درمیان لڑائی حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کر گئی ہے۔ حوثی دارالحکومت صنعا سمیت یمن کے شمالی حصے کے بڑے علاقوں پر قابض ہیں۔ یہ لڑائی اب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے تناظر میں خطے میں کشیدگی کا ایک اور محاذ بن گئی ہے۔

حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ

حالیہ دنوں میں حوثیوں نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے دوران کیے گئے۔

حوثیوں کی پیش قدمی سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان واقع تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب میں تیل کی ترسیل کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ یہ صورتِ حال ایک جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے اتوار کو ابوظہبی کا دورہ کیا اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی جس میں علاقائی سلامتی کی صورتِ حال پر گفتگو ہوئی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *