ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان منگل کہ سہ پہر ایک روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔
دفتر خارجہ نے گذشتہ روز ایک بیان میں بتایا کہ وہ یہ دورہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر کر رہے ہیں۔
بیان کے مطابق پزشکیان کے ہمراہ وزرا اور دیگر اعلیٰ حکام پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد بھی ہو گا۔
دورے کے دوران وہ پاکستان کے صدر سے ملاقات اور وزیراعظم کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔
ایران کے صدر کی حیثیت سے مسعود پزشکیان کا یہ پاکستان کا دوسرا دورہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ دورے کے دوران دونوں ممالک باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، عوامی روابط اور علاقائی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے نئے امکانات پر غور کریں گے۔
یہ دورہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد جاری سفارتی روابط پر تبادلہ خیال کا بھی ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’اس کے علاوہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی گفتگو کی جائے گی۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ متوقع دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے اور خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ خواہش کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گذشتہ روز سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے، جن کا مقصد کشیدگی میں کمی، علاقائی سلامتی اور جوہری پروگرام سمیت دیگر متنازع امور پر پیش رفت حاصل کرنا ہے۔
ان مذاکرات میں پاکستان اور قطر نے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔
