پاکستان میں رواں ہفتے جمعرات کو مسلسل چوتھی بار پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے مجموعی اضافہ تقریباً 25 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی اہم گزرگاہوں کے ذریعے بحری ترسیل متاثر ہو رہی ہے اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3.05 روپے کا اضافہ کیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 370.80 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5.37 روپے کے اضافے کے بعد نئی قیمت 398.04 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 11 ستمبر سے ہو گیا ہے۔
حالیہ اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب آبنائے ہرمز کے گرد دوبارہ تعطل اور باب المندب کے قریب بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے درمیان برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کی فہرست پر مبنی نوٹیفکیشن میں کہا کہ ’وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ پیٹرولیم کی قیمتوں کے نظرثانی شدہ طریقہ کار کی بنیاد پر، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 11 ستمبر 2026 کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں پر نظر ثانی کی ہے۔‘
رواں ہفتے کے آغاز سے اب تک پیٹرول کی قیمت میں 24.93 روپے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے، جو 345.87 روپے سے بڑھ کر 370.80 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اسی عرصے کے دوران ایچ ایس ڈی کی قیمت میں 19.99 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا جو 378.05 روپے سے بڑھ کر 398.04 روپے ہو گئی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی دوبارہ شروع ہونے کے بعد بین الاقوامی پیٹرولیم مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کے جواب میں پاکستان نے جولائی میں روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتیں مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اس وقت کہا تھا کہ عالمی قیمتوں میں عدم استحکام کی وجہ سے اس تبدیلی کی ضرورت تھی۔
مقامی سطح پر قیمتوں میں یہ تازہ ترین اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اس تنازعے نے بین الاقوامی توانائی مارکیٹوں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری ترسیل کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں سے عام طور پر دنیا کے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
روئٹرز کے مطابق بحری جہازوں کی ٹریکنگ کے ابتدائی ڈیٹا کے مطابق، بدھ کو اس آبنائے سے صرف سات بحری جہاز گزرے، جو ایک دن پہلے گزرنے والے 12 جہازوں اور 10 دن کی اوسط 14 جہازوں سے کم ہے۔ اس آبی گزرگاہ سے مائع قدرتی گیس کا کوئی ٹینکر نہیں گزرا۔
رواں ہفتے جولائی کے بعد پہلی بار برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے اور مشرق وسطیٰ میں بحری ترسیل کے اہم راستوں پر بڑھتے ہوئے حملوں سے سپلائی میں طویل تعطل کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والے تنگ راستے باب المندب کے قریب علاقائی بحری راستوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے، جہاں یمن کے ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب سے منسلک تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
پاکستان، جو درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور علاقائی بحری راستوں میں پیدا ہونے والے تعطل سے خاص طور پر زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
