قانون کی حکمرانی کا کوئی متبادل نہیں

اسلام آباد میں یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز خودکشی کیس کا ملزم بھی ’اپنے ہی ساتھیوں‘ کے ہاتھوں مارا گیا اور ملتان میں بچے کو گاڑی تلے کچل دینے والا قاتل بھی ’اپنے ہی ساتھیوں‘ کے ہاتھوں انجام تک پہنچا۔ بظاہر دونوں مقدمات اپنے انجام کو پہنچ گئے لیکن بہت سارے سوالات ابھی باقی ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ ایسے گھناؤنے مقدمات میں کیا ہمارا نظام قانون و انصاف بھی ملزمان کے ان ساتھیوں کی طرح متحرک ہو سکتا ہے جو کسی جرم کے چند ہی روز کے اندر اپنے ساتھی کو چھڑوانے آ جاتے ہیں اور جسے چھڑوانے آتے ہیں، اسی کو مار کر چلے جاتے ہیں۔

کم بختوں کا نشانہ بھی ٹھیک نہیں ہوتا اور تربیت بھی ناقص ہوتی ہے،  پھر بھی آ جاتے ہیں۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ ملزمان کے ساتھی جب انہیں چھڑوانے پہنچیں تو انہیں معلوم ہو کہ آپ کی آمد سے پہلے ہی قانون نافذ ہو چکا ہے۔ 

دوسرے سوال کا تعلق سماجی رویوں سے ہے۔ جب ملتان میں بچے کو کچلنے کی ویڈیو سامنے آئی تو سوشل میڈیا پر عوام کے تبصرے قابل غور تھے۔ نہ سماجیات کا کوئی طالب علم انہیں نظر انداز کر سکتا ہے نہ قانون کے طالب علم کے لیے ان سے صرف نظر ممکن ہے۔ لوگوں کی اکثریت، سی سی ڈی کو پکار رہی تھی۔ لوگوں نے اب قانون اور انصاف  کو آواز دینے کی بجائے سی سی ڈی کو آوازیں دینا شروع کر دی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیوں؟

اس کیوں پر سب کو غور کرنا چاہیے۔ نظام قانون و انصاف میں وہ کون سے مسائل ہیں کہ جرائم کے خاتمے کا یہ متبادل طریقہ عوام میں مقبول ہو رہا ہے۔ اصل چیز تو یہی ہوتی ہے کہ جرم ہو تو قانون نافذ ہو اور بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے مجرموں کو سزا سنا دی جائے، لیکن جب قانون کے نفاذ میں بہت تاخیر ہونے لگے اور تاخیر کے باوجود اس کا نفاذ یقینی نہ رہے تو اضطراری حالت میں اس کے متبادل طریقے کی طرف رجحان بڑھ جاتا ہے۔ تیسرا سوال گویا یہ ہے کہ کیا اضطراری حالت میں کیا گیا کوئی کام قانون کی حکمرانی کا متبادل ہو سکتا ہے؟

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مجرم تو دونوں صورتوں میں مارا جاتا ہے، قانون کے نفاذ سے مر جائے یا چھڑنے کے لیے اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے لیکن معاشرے پر دونوں کے نفسیاتی اثرات الگ الگ ہوتے ہیں۔ دونوں کے نتائج بھی الگ ہوتے ہیں۔

قانون کے نفاذ سے مجرم مارا جائے تو معاشرے کا نظام قانون و انصاف پر اعتماد بڑھتا ہے، دوسری صورت میں مارا جائے تو وقتی طور پر کتھارسس تو ہو جاتا ہے لیکن وجود کی گہرائی میں کہیں قانون کی حکمرانی کا تصور ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ چوتھا سوال یہ ہوا کہ معاشرے پر اس کے دور رس نتائج کی جمع تقسیم کا ہم نے کہیں بندوبست کر رکھا ہے یا ہم نے ہر کام ہی اضطراری انداز سے کرنا ہے؟

پھر یہ کہ ہر جرم تو ہائی پروفائل نہیں قرار پاتا، نہ ہی ہر واردات کیمرے میں محفوظ پو پاتی ہے نہ ہی میڈیا پر اس کا شور ہوتا ہے تو ایسے جرائم میں انصاف کا حصول کیسے ممکن ہو گا؟ کیونکہ یہاں تو اضطراری حالت کا سی سی ڈی والا متبادل طریقہ ’انصاف‘ بھی دستیاب نہیں ہوتا۔

 پانچواں سوال یہ ہے کہ ملزمان تو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے، ہر دو مقدمات میں جو باقی بہت سارے سوالات تھے ان کا کیا ہوا؟ کیا وہ سوالات بھی ساتھ ہی مار دیے گئے ہیں یا ان پر بات ہو سکتی ہے؟

مثلاً یہ کہ جس یتیم خانے میں اس بچے کو رکھا گیا تھا اس یتیم خانے نے کس اصول کے تحت بچہ ان لوگوں کے حوالے کر دیا؟ کیا یتیم خانے بیگار بلکہ خرکار کیمپ بن چکے ہیں؟ کیا ان کی مانیٹرنگ کا کوئی بندوبست ہے؟ کیا یتیم خانوں پر چائلڈ لیبر کا قانون لاگو نہیں ہوتا؟

کیا اس چائلڈ لیبر کے نتیجے میں حاصل ہونے والی رقم یتیم خانے کی انتظامیہ کھا جاتی تھی یا بچے کو ملتی تھی؟ کیا اس رقم کا کوئی حساب ہے؟ کیا رقم ملتی بھی تھی یا یہ صرف بیگار تھا؟ بیگار تھا تو کیا صرف جسمانی بیگار تھا یا جنسی بیگار بھی تھا؟ بچہ وہاں سے کیوں بھاگا تھا؟ کیا حالات تھے کہ اسے بھاگنا پڑا؟

سوالات ہی سوالات ہیں اور ان سوالات کا یہ ایک جواب کافی نہیں ہے کہ ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا جا چکا ہے اس لیے بات ختم شد۔ 

 آخری سوال یہ ہے کہ گھناؤنے جرائم کے ان ملزمان کو اگر ان کے اپنے ساتھیوں نے ہی آ کر انجام تک پہنچانا ہے تو نظام قانون و انصاف کی افادیت کیا ہے، اس کے باقی رہنے کا جواز کیا ہے اور اس پر اتنے بھاری اخراجات کرنے کی حکمت کیا ہے؟

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *