امدادی فلوٹیلا کے زیرحراست کارکنوں کو رہا کیا جائے: پاکستان

پاکستان نے بین الاقوامی آبی حدود میں گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی افواج کی کارروائی اور اس میں موجود امدادی کارکنوں کی گرفتاری و مبینہ بدسلوکی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے جمعرات کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے اس فلوٹیلا کو غیر قانونی طور پر روکنا اور انسانی امداد کے کارکنوں کو حراست میں لینا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اطلاعات کے مطابق زیر حراست افراد میں معروف پاکستانی انسان دوست کارکن سعد ایدھی بھی شامل ہیں۔

دفتر خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام غیر قانونی طور پر زیر حراست کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ زیر حراست افراد کی حفاظت، عزت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق وہ خطے میں موجود پاکستانی سفارتی مشنز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی زیر حراست پاکستانی شہری کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اردن میں پاکستانی مشن کے ذریعے امدادی فلوٹیلا پر جانے والے سعد ایدھی کی رہائی کے لیے بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی امداد کی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ اس سے عالمی انسانی اصولوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

اس سے قبل ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا تھا کہ پیر کو اسرائیل نے امدادی سامان غزہ لے کر جانے والے فلوٹیلا پر سوار سعد ایدھی کو گرفتار کر لیا۔

اسرائیلی فوج نے پیر کو قبرص کے ساحل کے قریب ان کشتیوں کو روک لیا تھا جو غزہ تک امداد پہنچانے کی کوشش کرنے والے بین الاقوامی امدادی بحری بیڑے کا حصہ تھیں۔

’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ نامی تنظیم کے مطابق 50 سے زائد کشتیاں گذشتہ ہفتے ترکی کے شہر مارمارس کی بندرگاہ سے غزہ کی جانب روانہ ہوئی تھیں۔ تنظیم نے اسے غزہ تک پہنچنے کی مہم کا آخری مرحلہ قرار دیا تھا۔

تنظیم کی لائیو نشریات میں دیکھا گیا کہ اسرائیلی فوجیوں کی کشتی قریب آنے پر کارکنوں نے لائف جیکٹس پہن لیں اور ہاتھ بلند کر دیے۔

بعد ازاں اسرائیلی اہلکاروں نے جہاز پر چڑھائی کی جس کے فوراً بعد لائیو نشریات بند ہو گئیں۔

تنظیم کے مطابق اس مہم میں 45 ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 کارکن شریک ہیں۔ گذشتہ ماہ بھی اسرائیلی فورسز نے یونان کے قریب 20 سے زائد کشتیوں کو روک لیا تھا اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے کر بعد میں ملک بدر کر دیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلوٹیلا منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد غزہ میں انسانی بحران اور وہاں کے دو ملین سے زائد رہائشیوں کو درپیش خوراک، ادویات اور رہائش کی شدید قلت کی جانب عالمی توجہ مبذول کروانا ہے۔

اسرائیل 2007 سے غزہ پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے، جب حماس نے فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

حماس نے اسرائیلی کارروائی کو ’کھلی بحری قزاقی‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے غزہ کی ناکہ بندی ختم کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکی نے بھی اسرائیلی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کشتیوں میں موجود کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *