قازقستان کی افغانستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیش کش

افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات اور بڑھتے ہوئے سرحدی تناؤ کے ماحول میں قازقستان نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور اختلافات کے حل کے لیے  سفارتی کوشش کرتے ہوئے ثالثی کی پیش کش کی ہے۔

افغانستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ’الامارہ اردو‘ کے مطابق یہ پیش کش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات شدت پسند حملوں کے الزامات، سرحدی جھڑپوں اور باہمی بداعتمادی کے باعث ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

قازقستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر اقتصادیات سریک ژومانگارین ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ افغانستان کے تین روزہ دورے پر کابل پہنچے ہیں۔

وفد میں تجارت، معیشت، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے متعدد اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ کابل میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ژومانگارین نے کہا کہ اگر افغانستان اور پاکستان باضابطہ طور پر درخواست کریں تو قازقستان کا دارالحکومت آستانہ دونوں ممالک کے درمیان غیر جانب دار اور منصفانہ ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے اس موقع پر زور دیا کہ قازقستان ہمیشہ سے تنازعات کے حل کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور باہمی احترام کے اصولوں کا حامی رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان ’دو برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے درمیان مذہبی، تاریخی، ثقافتی اور سماجی رشتے موجود ہیں جبکہ دونوں ممالک کے اقتصادی اور سلامتی سے متعلق مفادات بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔‘

ان کے بقول باہمی تعاون اور مسلسل رابطہ ہی موجودہ اختلافات کے حل کا مؤثر راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار ہیں۔

افغانستان نے جمعے کو پاکستان کے دو صوبوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا تھا جب کہ پاکستان حکومت نے انہیں کامیابی سے مار گرانے اور افغان طالبان حکومت کا پروپیگینڈا قرار دیا تھا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ برسوں کے دوران متعدد مذاکراتی اور امن کے اقدامات مستقل نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قازق وفد نے افغانستان کے وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند سے بھی ملاقات کی، جس میں اقتصادی تعاون، علاقائی رابطوں، ٹرانزٹ، ریلوے منصوبوں اور سیاسی تعلقات کے فروغ سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

دوسری جانب افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کشیدگی میں اضافے کے بجائے کابل کے ساتھ براہ راست بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ خلیل زاد کے مطابق افغان حکام ماضی میں پاکستان کی بعض سکیورٹی تشویش کے حل کے لیے متعدد تجاویز پیش کر چکے ہیں، جن پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے اور جامع معاہدے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جس کے تحت افغانستان اور پاکستان اس امر کی ضمانت دیں کہ ان کی سرزمین کسی تیسرے فریق یا مسلح گروہ کی جانب سے دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

خلیل زاد نے اس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کسی غیر جانب دار تیسرے فریق کی نگرانی کی تجویز بھی پیش کی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *