بی وائے سی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ اور 3 ساتھیوں کو 25 سال قید کی سزا

کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے پیر کو بلوچ یکجہتی کونسل (بی وائے سی) کی رہنما ماہ رنگ بلوچ اور ان کے دیگر چار ساتھیوں کو 25،25 سال قید کی سزا سنا دی۔

ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ بلوچ شاہ، بالاچ قادر اور ابوبکر کلانچی پر الزام تھا کہ فروری 2024 میں عوامی اجتماع اور احتجاج کے دوران فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) اہلکار شبیر بلوچ کو ہجوم نے مبینہ پتھراؤ کا نشانہ بنایا جس سے ان کی جان چلی گئی۔

استغاثہ کے مطابق یہ واقعہ گوادر میں منعقدہ اجتماع کے دوران پیش آیا۔ حکومت نے قتل کا مقدمہ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے دیگر چار ساتھیوں  کے خلاف درج کیا تھا۔

کوئٹہ جیل کے اندر مقدمے کی سماعتوں کے بعد پیر کو عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے چاروں ملزمان کو 25، 25 سال قید یا عمر قید کی سزا کا حکم دیا۔

ڈاکٹر ماہ رنگ نے بولان میڈیکل کالج کوئٹہ سے ایم بی بی ایس کیا ہے۔ ان کے والد عبدالغفار لانگو 2011 میں مبینہ طور جبری گمشدگی کے بعد مارے گئے تھے۔

ماہ رنگ نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور بلوچ عوام کے حقوق کے لیے تحریک شروع کی۔ وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بی وائے سی کی مرکزی آرگنائزر ہیں۔

انہوں نے 11 دسمبر، 2009 کو والد کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی سرگرمیاں شروع کیا۔

2016 میں بھائی کی گمشدگی پر بھی احتجاج کیا جو تین ماہ بعد بازیاب ہو گئے۔ 

2023-2024 میں انہوں نے ’بلوچ لانگ مارچ‘ کی قیادت کی وجہ سے زیادہ  شہرت پائی۔

چھ جنوری، 2026 کوئٹہ سی ٹی ڈی تھانے میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی جن میں الزام عائد کیا گیا کہ 23 اکتوبر، 2024 کو ان کا نام اے ٹی اے  کے ’فورتھ شیڈول‘ میں ڈالنے کے بعد وہ پیشیوں پر حاضر نہیں ہوئیں اور انہوں نے احتجاج/دھرنوں میں شرکت جاری رکھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساتھ ہی ماہ رنگ پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کی سہولت کاری کر رہی تھیں۔

دفعات ATA 11-EE اور 11F(1)(2) کے تحت درج اس کیس میں ضمانت مسترد ہونے کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔

21 اگست، 2025 کو اسی کیس میں انہیں باقاعدہ گرفتار کیا گیا۔ 

11 اکتوبر، 2024 کو کراچی کے تھانہ قائدآباد میں ایک شہری نے ایف آئی آر درج کرائی اور الزام عائد کیا کہ سوشل میڈیا پر ماہ رنگ ریاستی اداروں پر الزامات لگا کر نفرت پھیلا رہی ہیں اور احتجاج میں دہشت گردوں کو کور دیتی ہیں۔

کراچی کی انسداد دہشت گری عدالت نے دسمبر 2025 میں شواہد نہ ہونے پر انہیں بری کر دیا تھا۔  

22 مارچ، 2025 کوئٹہ میں ایک اور دھرنے کے بعد انہیں ایم پی او قانون کے تحت 30 دن کے لیے گرفتار کیا گیا۔

بعد میں یہ نظربندی دو بار 30، 30 دنوں تک بڑھائی گئی۔ ان پر ’دہشت گردی، بغاوت اور قتل‘ کے الزامات بھی لگائے گئے۔

 ماہ رنگ اور بی وائے سی  کے دیگر رہنما کوئٹہ کی ہڈہ جیل میں قید ہیں اور ’فیس لیس ٹرائل‘ کے خلاف جیل میں دھرنا دے رہے ہیں۔

ان کے وکیل کے مطابق 30 سے زیادہ کیسز ابھی التوا کا شکار ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *