فیلڈ مارشل کا دورہ ایران، ’امریکی نمائندہ بن کر جانے کا دعویٰ گمراہ کن‘: دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورہ ایران خطے میں جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کاوشوں کا حصہ تھا اور یہ دعوے ’گمراہ کن‘ اور ’حقائق کے منافی‘ ہیں کہ انہوں نے یہ دورہ صدر ٹرمپ یا امریکہ کے نمائندے کے طور پر کیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے رواں ہفتے ایران کا دورہ کیا تھا، جس کے دوران انہوں نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

آئی ایس پی آر نے دورے کے حوالے سے جاری بیان میں کہا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ دورہ جاری امریکہ – ایران تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور خطے میں پائیدار امن اور مستقل طور پر عدم استحکام کے خاتمے کے لیے راستے تلاش کرنے کے سلسلے میں کیا گیا۔

جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی صدر سے ملاقات کو ’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے ’اہم پیش رفت‘ کا دعویٰ کیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان دفتر خارجہ نے اس دورے کے حوالے سے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا: ’علاقائی محاذ پر چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 24 اگست کو تہران کا دورہ کیا، جو پاکستان کی جانب سے امریکی، ایران تنازعے کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کے لیے جاری سفارتی کاوشوں کا حصہ تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس دوران ہونے والی بات چیت میں علاقائی کشیدگی میں کمی، فوجی تعطل ختم کرنے اور علاقائی امن و استحکام کی بحالی کے لیے مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے امکانات تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔‘

ترجمان دفتر خارجہ نے اس دورے سے ’واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات ختم کرنے میں اسلام آباد کے مخلصانہ اور تعمیری کردار‘ کو بھی اجاگر کیا۔

ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ’بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعوے کہ چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے صدر ٹرمپ یا امریکہ کے نمائندے کے طور پر ایران کا دورہ کیا، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں، کیونکہ ان کا دورہ خالصتاً پاکستان کے ثالث کے طور پر جاری کردار کے تناظر اور پس منظر میں کیا گیا تھا۔‘

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان سفارتی روابط کو فعال طور پر جاری رکھے گا اور امن مذاکرات کی بحالی اور تنازعے کے جامع، منصفانہ اور پائیدار حل کے حصول کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔‘

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں جبکہ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ بھی کسی واضح نتیجے کے بغیر جاری ہے۔

تہران نے اہم آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند رکھا ہوا ہے جبکہ واشنگٹن ایران کی بحری ناکہ بندی کے جواب میں اپنی بحری کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر شدید معاشی پابندیاں عائد کرنے کا بھی عندیہ دیا اور اتحادی ملکوں سے بھی ساتھ دینے کا کہا۔

جس پر تہران نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک امریکہ کی جانب سے اسلامی جمہوریہ کے خلاف شروع کی گئی ’معاشی جنگ‘ میں شامل ہوگا اسے دشمن تصور کیا جائے گا۔

پاکستان افغان طالبان سے دوطرفہ مذاکرات کے لیے تیار ہے

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر مذاکرات کے لیے بدستور تیار ہے، تاہم کسی بھی طریقہ کار  کی کامیابی یا اسے دیرپا بنانا محض یقین دہانیوں کی بجائے ٹھوس اقدامات پر منحصر ہو گا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان عبوری افغان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی جانب سے متنازع امور کے حل کے لیے ایک مخصوص دوطرفہ طریقہ کار کی تجویز پر غور کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’کسی بھی مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ افغان طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے ارتکاب کے لیے استعمال نہ ہو۔‘

افغان وزیر داخلہ نے کیا بیان دیا تھا؟ 

افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے ایک بیان میں پاکستان کو ایک ایسے طریقہ کار کی تجویز دی ہے جس کے تحت دونوں ممالک کی جانب سے کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جو باہمی رابطے کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر شواہد فراہم کیے گئے تو افغان حکومت کارروائی کرے گی اور یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ عسکریت پسند افغانستان میں موجود نہ ہوں، ان کے پاس ہتھیار نہ ہوں اور ان کی نقل و حرکت روکی جائے۔’پاکستان اور افغانستان کو اپنے مسائل دوطرفہ طور پر حل کرنے چاہییں اور دیگر ممالک کو ثالثی نہیں کرنی چاہیے۔‘

عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی پر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ موجود ہے اور اس دوران سراج الدین حقانی کی طرف سے یہ تجویز سامنے آئی ہے۔

پاکستان ماضی میں بھی افغانستان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف ’دہشت گردی‘ کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔

ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ کابل کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں، بشمول دوحہ فریم ورک کے تحت ذمہ داریوں، کو پورا کرنا ہو گا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف ’مخالف پراکسیز، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی استعمال نہ کریں۔‘

طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان ادارہ جاتی رابطہ کاری کے لیے تیار ہے، بشرطیہ کہ اس کے نتیجے میں ٹھوس اور قابل تصدیق انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات اور موثر سرحدی انتظام سامنے آئے۔

دوسری جانب پاکستان نے افغان ترجمان دفتر خارجہ کے پاکستان کی افغانستان میں مداخلت کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان افغان عبوری وزیر داخلہ کے مجوزہ بیان کو دیکھ رہا ہے۔’اگر ہمیں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کے خلاف قابل تصدیق معلومات کی فراہمی پر افغانستان سے ادارہ جاتی تعاون پر غور کریں گے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *