لاہور: باغ جناح میں بدھ مت کے مقدس درختوں کا ایونیو قائم

پنجاب ہارٹی کلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کی جانب سے لاہور کے باغ جناح میں سو سالہ قدیم بدھا کے درختوں پر مشتمل ایک ایونیو قائم کیا گیا ہے۔

بدھ مت کے پیروکار اس درخت کو، جسے مقامی طور پر ’بدھا ٹری‘ کہا جاتا ہے، مقدس سمجھتے ہیں۔ پی ایچ اے ریکارڈ کے مطابق سدھارتھ گوتم نے اسی قسم کے درخت کے نیچے سات ہفتے تک بغیر کھائے پیے مراقبہ کیا تھا، جس کے بعد انہیں روشن ضمیری حاصل ہوئی اور وہ بدھ یعنی بیدار شخص کہلائے۔

موریہ سلطنت کے بادشاہ اشوک کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسی مقام پر مراقبہ کیا تھا۔

ریکارڈ کے مطابق انڈیا کی مشرقی ریاست بہار کے شہر ’بودھ گیا‘ میں موجود اصل درخت اب باقی نہیں رہا، تاہم مہابودھی مندر میں موجود درخت، جو دنیا کا مقدس ترین بدھ مت زیارتی مقام سمجھا جاتا ہے، اسی اصل درخت کی براہِ راست نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔

باغ جناح کے پراجیکٹ ڈائریکٹر  جلیل احمد کے مطابق: ’بدھ مت تاریخ میں بتایا گیا ہے کہ 236 قبل مسیح میں بادشاہ اشوک کی اولاد نے مہابودھی درخت کی ایک شاخ سری لنکا منتقل کی تھی۔ اس شاخ کی نسل سے پیدا ہونے والا جایا سری مہا بودھیا آج بھی سری لنکا میں موجود ہے۔

’اسی درخت کی ایک شاخ دسمبر 1963 میں صدر ایوب خان کے سری لنکا کے دورے کے موقع پر انہیں پیش کی گئی۔ اس کے بعد اس پودے کو اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے جنوری 1964 میں ٹیکسلا میوزیم میں لگایا۔ اسے زندہ درختوں میں بدھ مت سے نسبت رکھنے والی قریب ترین مستند کڑی سمجھا جاتا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جلیل احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بدھ مت کے پیروکار تمام مذہبی آثار، جن میں بدھ کے جسمانی آثار بھی شامل ہیں، انتہائی عقیدت سے مانتے ہیں اور بدھا درخت کو بھی اسی احترام کا مستحق سمجھتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک زندہ پودا ہے، اس لیے اسے بدھ اور ان کی روشن ضمیری سے ایک زندہ تعلق کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’بدھ مت کے پیروکار اس درخت کو اپنی ایک مستقل حیثیت رکھنے والی ہستی سمجھتے ہیں اور اس کے قریب عقیدت و احترام کے ساتھ جاتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ درخت عموماً موسمِ گرما کے اختتام اور خزاں کے دوران، یعنی پاکستان میں ستمبر سے نومبر تک پھلتا پھولتا ہے۔ اس سے پہلے یہ اپنے پتوں کا کچھ حصہ گرا دیتا ہے۔ یہ درخت کھلی اور براہِ راست دھوپ میں بہتر نشوونما پاتا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق پی ایچ اے ان درختوں کی دیکھ بھال جاری رکھے گی اور امید ظاہر کی کہ بدھ خاندان اور طلبہ ان مقامات کا دورہ کریں گے تاکہ اس ورثے کے بارے میں مزید جان سکیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *