پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق 2027 سے 2030 تک حج کے لیے تین لاکھ 40 ہزار سے زیادہ پاکستانی شہری آن لائن رجسٹریشن کرا لی ہے۔
حکومت نئے کئی سالہ نظام کے تحت آئندہ حج آپریشنز کی تیاری کر رہی ہے۔
پاکستان کی وفاقی کابینہ نے قبل ازیں رواں ماہ ملک کی پہلی چار سالہ حج پالیسی اور 2027 سے 2030 تک کے منصوبے کی منظوری دی۔ نئی حج پالیسی کے مطابق 2030 تک کسی بھی سال حج کرنے کے خواہش مند پاکستانیوں کو صرف ایک بار رجسٹریشن کرانا ہوگی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس کئی سالہ نظام کے تحت عازمین حج کو ہر سال حج کے لیے دوبارہ رجسٹریشن کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق2027 سے 2030 تک حج کے خواہش مند افراد کی رجسٹریشن جاری ہے اور گھر بیٹھے آن لائن رجسٹریشن کرانے والوں کی تعداد 3 لاکھ 40 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
اے پی پی نے وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ 2 لاکھ 46 ہزار درخواست گزاروں نے سرکاری حج سکیم، جب کہ 94 ہزار نے نجی حج سکیم کا انتخاب کیا ہے۔
اے پی پی کے مطابق پنجاب سے ایک لاکھ 56 ہزار افراد نے حج کے لیے رجسٹریشن کرائی، جب کہ جون سے اب تک سندھ سے ایک لاکھ افراد نے آن لائن درخواست دی۔
پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا سے تقریبا 51 ہزار، اسلام آباد سے 15 ہزار، جنوب مغربی صوبے بلوچستان سے 12 ہزار، آزاد کشمیر سے 2 ہزار 600 اور گلگت بلتستان سے ایک ہزار 200 افراد نے آن لائن رجسٹریشن کرائی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترجمان نے کوئی مخصوص وقت بتائے بغیر کہا کہ حج واجبات آن لائن وصول کرنے کا اعلان جلد متوقع ہے۔
رجسٹرڈ درخواست گزاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ رہنمائی کے لیے پاک حج ایپ یا حج ہیلپ لائنز استعمال کریں، اپنی معلومات درست ہونے کو یقینی بنائیں اور صرف اپنے اہل خانہ پر مشتمل گروپ بنائیں۔
حج 2026 رواں سال مئی میں سعودی عرب میں مکمل ہوا، جس میں کروڑوں مسلمانوں نے شرکت کی۔ سرکاری اور نجی حج سکیموں کے تحت پاکستان کے لیے ایک لاکھ 79 ہزار 210 عازمین کا کوٹہ مختص کیا گیا تھا۔
