برطانوی اداکار مائیکل کین 1960 کی دہائی میں اپنے مخصوص فیشن کے باعث سٹائل آئیکون سمجھے جاتے تھے۔ موٹے فریم کی عینک، نفاست سے سلے سوٹ، باریک ٹائی، تنگ کالر والی شرٹس اور سلیقے سے سنوارے ہوئے بال ان کی پہچان تھے۔ ان کا انداز ایک ایسے شہری نوجوان کا تھا جو لباس میں بناوٹ کے بجائے نفاست، سادگی اور خود اعتمادی کو ترجیح دیتا ہے۔
تقریباً 60 برس کی عمر میں انہیں ایک ایسا تجربہ ہوا جس نے انہیں ہلا کر رکھ ڈالا۔
انہیں ایک فلم کا سکرپٹ بھیجا گیا۔ پڑھنے کے بعد انہوں نے پروڈیوسر کو واپس بھجوا دیا اور کہا کہ اس میں میرا کردار بہت چھوٹا ہے۔
پروڈیوسر نے سکرپٹ دوبارہ بھیجا اور ساتھ ایک نوٹ لکھا کہ وہ رومانوی عاشق نہیں بلکہ لڑکی کے والد کا کردار ادا کرنے والے ہیں، کہانی میں اتنی ہی گنجائش ہے۔
مائیکل کین کو محسوس ہوا کہ اب وہ اس عمر میں پہنچ گئے ہیں جہاں فلمی دنیا انہیں رومانوی ہیرو کے طور پر قبول کرنے کو تیار نہیں۔
انہوں نے بعد میں ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہیں لگا شاید ان کا فلمی کیریئر ختم ہو چکا ہے۔ وہ میامی منتقل ہو گئے، ایک ریستوران کھولا اور اپنی سوانح عمری لکھنے لگے۔
میامی کی بھول بھلیوں میں گم مائیکل کو ایک دن جیک نکلسن کا خط اور ایک فلم (بلڈ اینڈ وائن) کا سکرپٹ ملتا ہے۔ جیک انہیں سمجھاتے ہیں کہ اداکاری چھوڑنے کے بجائے اپنے کرداروں کی نوعیت بدلنے پر غور کریں۔ یہ نئی اننگز تمہارے لیے نئی شناخت کا موقع ثابت ہو گی۔
مائیکل کین نے ایسا ہی کیا، جس کے بعد معاون کرداروں میں اپنی صلاحیت منواتے ہوئے دو مرتبہ آسکر ایوارڈ حاصل کیا۔
یہ تو رہی ہالی وڈ کی بات، اب رخ کرتے ہیں بمبئی کی فلم نگری کا جہاں ستر کی دہائی میں راجیش کھنہ سپر سٹار کا پروٹوکول انجوائے کر رہے تھے۔ سٹارڈم کھونے کے بعد جب معاون کرداروں کی پیشکش ہونے لگی تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔
وہ کبھی بھی اپنی پرانی سپر سٹار والی شناخت سے باہر نہیں نکل سکے۔ وہ معاون کردار قبول کرنے میں ہچکچاتے تھے، اس کے مقابلے میں امیتابھ نے بروقت اپنے کردار تبدیل کر لیے۔
پانچ سالہ بریک کے بعد جب دلیپ کمار نے ’کرانتی‘ سے واپسی کی تو انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ شبانہ اعظمی کے بقول، دلیپ کمار لاکھوں لوگوں کی جوانی کا خواب ہیں، وہ پچھلی عمر یہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔
لوگوں کی تنقید کو سائیڈ پہ رکھتے ہوئے دلیپ صاحب نے دوسری اننگز انتہائی کامیابی سے کھیلی۔ ’شکتی‘ جیسی عمدہ فلم اور ’گاڑی روکو بھائی‘ جیسے لازوال سین ایک نئے دلیپ کمار کا پتہ دیتے ہیں۔
کسی اداکار کے لیے بڑھتی عمر اتنی بڑی آزمائش نہیں، جتنی اس کے لیے بدلتی ہوئی فلمی دنیا میں اپنی جگہ برقرار رکھنا اور خود کو تبدیل کرنا ہے۔
مگر انڈین سینیما میں دو اداکار ایسے ہیں جنہوں نے عمر کے اس روایتی تصور کو مات دی ہے۔ ایک امیتابھ بچن، جو 84 برس کی عمر میں بھی فلموں اور ٹیلی وژن پر موجود ہیں اور دوسرے رجنی کانت، جو 75 برس کی عمر میں بھی بڑے پردے پر اپنی آمد سے سینیما گھروں میں ہلچل پیدا کیے جا رہے ہیں۔
ایک وقت تھا جب ہندی فلموں میں ہیرو کا تصور خاصا محدود تھا۔ اسے محبت کرنی تھی، گانے گانے تھے، ولن سے لڑنا اور آخر میں اپنی محبوبہ یا خاندان کو بچانا تھا۔ عمر بڑھنے کے بعد یہی ہیرو اکثر کسی نوجوان اداکار کا باپ، بڑا بھائی یا سرپرست بن جاتا تھا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ پرانے انڈین سینیما میں سنجیدہ یا متنوع موضوعات پر فلمیں نہیں بنتی تھیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ مرکزی دھارے کی فلموں میں بڑی عمر کے اداکار کو مرکزی کردار میں رکھنے کی گنجائش ہی نہیں تھی۔
90 کی دہائی میں امیتابھ بچن کی فلمیں مسلسل ناکام ہو رہی تھیں۔ انہوں نے اپنی کمپنی اے بی سی ایل کے ذریعے فلم سازی اور تفریحی کاروبار میں قدم رکھا، لیکن یہ منصوبہ بھاری مالی مشکلات کا شکار ہو گیا۔ کبھی لاکھوں دلوں پر راج کرنے والا اداکار قرضوں اور قانونی معاملات میں گھرا ہوا تھا۔ اب وہ کراؤڈ پلر نہیں رہا تھا۔ ہیرے کی چمک ماند پڑ چکے تھے۔ اینگری ینگ مین اب اینگری تھا نہ ینگ۔
سال 2000 میں ان کی زندگی نے ایک غیر متوقع موڑ لیا۔ انہوں نے ٹیلی وژن کے ایک کوئز شو ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کی میزبانی قبول کر لی۔ اس وقت بڑے فلمی ستاروں کے لیے ٹیلی وژن پر آنا کوئی قابلِ فخر فیصلہ نہیں سمجھا جاتا تھا، لیکن امیتابھ نے یہ رسک لیا۔
ان کی گہری آواز، سوال پوچھنے کا منفرد انداز، شرکا سے گفتگو اور کبھی کبھار اپنی غلطی پر مسکرا دینے کی عادت نے انہیں نئی نسل کے ناظرین سے متعارف کروا دیا، ایک بالکل ہی نئی آڈینس ان کی مداح بنی۔
اسی سال فلم ’محبتیں‘ میں ان کی واپسی ہوئی۔ اب وہ روایتی ایکشن ہیرو نہیں تھے بلکہ ایک سخت گیر تعلیمی ادارے کے سربراہ تھے، جن کے مقابل شاہ رخ خان کا نوجوان کردار کھڑا تھا۔
یہاں سے امیتابھ کے دوسرے فلمی دور کا آغاز ہوا۔
60 برس کی عمر عبور کرنے کے بعد انہوں نے ’باغبان‘ میں ایک ایسے بزرگ شوہر کا کردار ادا کیا جسے اپنے ہی بچوں کے رویے سے مایوسی ہوتی ہے۔ ’بلیک‘ میں ایک مشکل مزاج استاد بنے، ’چینی کم‘ میں اپنے سے کئی برس چھوٹی عورت سے محبت کرنے والے شخص کا کردار ادا کیا اور ’پیکو‘ میں قبض کے مسئلے سے پریشان ایک ضدی مگر دلچسپ بوڑھے باپ کی صورت میں سامنے آئے۔
فلم ’پا‘ کا واقعہ تو اپنی جگہ ایک عجیب مثال ہے۔ 67 برس کے امیتابھ نے اس میں ایک ایسے 12 سالہ بچے کا کردار ادا کیا جو ایک نایاب بیماری پروجیریا کا شکار ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ان کے حقیقی بیٹے ابھیشیک بچن نے فلم میں ان کے والد کا کردار ادا کیا۔ امیتابھ کو اس بچے کی شکل دینے کے لیے روزانہ کئی گھنٹے میک اپ کرنا پڑتا تھا۔
گویا ایک ایسا اداکار جسے کبھی اینگری ینگ مین کہا جاتا تھا، اب اپنے بیٹے کا بیٹا بن کر پردے پر موجود تھا۔ عمر نے ان کے لیے کرداروں کے دروازے بند نہیں کیے بلکہ کرداروں کی نوعیت بدل دی۔
رجنی کانت کی کہانی بھی کسی فلمی سکرپٹ سے کم نہیں۔ فلمی دنیا میں آنے سے پہلے وہ بنگلورو میں بس کنڈکٹر تھے۔ ان کے سابق ساتھی راجا بہادر کے مطابق رجنی مسافروں کو ٹکٹ دینے اور بقایا رقم واپس کرنے میں ایسی پھرتی اور انداز دکھاتے تھے کہ بعض مسافر خالی بسیں چھوڑ کر اس بس کا انتظار کرتے جس میں وہ ڈیوٹی پر ہوتے تھے۔
فلم ساز کے بالاسندر نے انہیں یہی منفرد انداز برقرار رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کے بقول، فلمی صنعت انہیں دوسروں جیسا بنانے کی کوشش کرے گی، لیکن انہیں اپنی انفرادیت نہیں چھوڑنی چاہیے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ مشورہ ان کے پورے فلمی سفر کا خلاصہ ہے۔
65 برس کی عمر میں رجنی کانت فلم ’کبالی‘ میں ایک ملائیشین گینگسٹر کے کردار میں سامنے آئے۔ یہ کوئی جوان عاشق یا روایتی ایکشن ہیرو نہیں تھا بلکہ سفید بالوں، سنجیدہ چہرے اور ماضی کے زخموں کے ساتھ زندگی گزارنے والا شخص تھا۔ یہ کردار کرتے ہوئے رجنی کو اپنی عمر چھپانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ان کی عمر ہی کردار کی شخصیت کا حصہ بن گئی۔
بعد میں ’کالا‘، ’جیلر‘ اور دوسری فلموں میں بھی انہوں نے ایسے کردار کیے، جن میں عمر رسیدگی کمزوری کے بجائے کریکٹر کا اصل حسن ہے۔
رواں برس ایک بار پھر رجنی کانت نے ثابت کیا کہ ان کی مقبولیت محض ماضی کی یادگار نہیں۔ اکتوبر 2026 میں ریلیز ہونے والی ’جیلر 2‘ میں وہ ایک بار پھر ٹائیگر متھوویل پانڈین کے کردار میں واپس آئے۔ فلم نے ریلیز کے بعد باکس آفس پر غیر معمولی کامیابی حاصل کی اور 800 کروڑ انڈین روپے کا ہندسہ عبور کر لیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب ان کے ساتھ پردے پر آنے والے کئی اداکار وہ ہیں، جو ان کے عروج کے دنوں میں پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ وقت بدل گیا، نسلیں بدل گئیں، مگر رجنی کانت کی فلموں میں انٹری پر بجنے والی سیٹیاں آج بھی ویسی ہی ہیں۔
امیتابھ بچن اور رجنی کانت نے خود کو دوسری اننگز کے لیے تیار کیا، لیکن قسمت کے بھی دھنی رہے کہ ایسے وقت میں بوڑھے ہوئے جب سینیما تبدیل ہو رہا تھا۔ انہوں نے وقت کے ساتھ خود کو بدلا، مگر وقت نے بھی ان کا خوب ساتھ دیا۔

