بشیر زیب کو بی ایل اے کی سربراہی سے کیوں ہٹایا گیا؟

بلوچستان میں سرگرم کالعدم مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے بشیر زیب بلوچ کو تنظیم کے کمانڈر انچیف کے عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ نے تین نومبر کو حقل میڈیا کے ذریعے جاری کی گئی باضابطہ پریس ریلیز، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، میں کہا کہ یہ فیصلہ 16 اکتوبر کو ہونے والے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا، جس کے بعد تنظیم کے انتظامی، عسکری اور پالیسی سازی کے اختیارات سینیئر کمانڈ کونسل کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔

بی ایل اے کے مطابق نئے سربراہ کے انتخاب تک سینیئر کمانڈ کونسل تنظیم کے تمام اہم معاملات کی ذمہ دار ہوگی۔

بی ایل اے نے اپنے بیان میں کہا کہ قیادت کی تبدیلی 2018 میں تنظیم کی ازسرنو تشکیل کے دوران اس کے بانی اسلم بلوچ، جنہیں استاد اسلم بھی کہا جاتا تھا، کے متعارف کروائے گئے تنظیمی اصولوں کے مطابق کی گئی ہے۔

بیان کے مطابق ان اصولوں کا مقصد کسی ایک شخص کی مستقل یا موروثی قیادت کو روکنا اور اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ کوئی بھی شخص اپنے عہدے یا اثرورسوخ کی بنیاد پر تاحیات کمانڈر انچیف نہ رہے۔

تنظیم نے اس فیصلے کو بلوچ مسلح علیحدگی پسند تحریک کی تاریخ میں پُرامن اور جمہوری انداز میں قیادت کی منتقلی کی ایک غیر معمولی مثال قرار دیا ہے۔ بی ایل اے کا دعویٰ ہے کہ اس تبدیلی سے اس کی عسکری صلاحیت، کمانڈ کا نظام اور جاری کارروائیاں متاثر نہیں ہوں گی۔

بین الاقوامی امور کے ماہر اور صنوبر انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر قمر چیمہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ بی ایل اے میں قیادت کی تبدیلی اور اس کے اندرونی اختلافات کا جائزہ لیتے ہوئے علاقائی صورت حال اور بیرونی عناصر کے ممکنہ کردار کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ان کے مطابق: ’اس معاملے میں انڈیا اور افغانستان کے کردار سے متعلق پہلوؤں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

’بی ایل اے کی قیادت میں تبدیلی کے اثرات صرف تنظیم تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بلوچستان کی سکیورٹی صورت حال اور خطے میں پاکستان کے علاقائی مفادات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔‘

بشیر زیب کو ہٹانے کی وجہ کیا ہے؟

 بی ایل اے کے باضابطہ بیان میں کئی اہم سوالات کا جواب نہیں دیا گیا۔ 

سکیورٹی تجزیہ کار افتخار فردوس کہتے ہیں کہ بشیر زیب کی علیحدگی کا تعلق ’آپریشن ہیروف ٹو‘ میں ہونے والے نقصانات اور رحمٰن گل کی جانب سے مبینہ چیلنج سے ہو سکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق بلوچ مسلح گروہوں کے درمیان اندرونی اختلافات عموماً زیادہ دیر تک پوشیدہ نہیں رہتے اور ماضی میں بھی ان اختلافات کا اظہار سامنے آتا رہا ہے۔

افتخار فردوس کا خیال ہے کہ ’قیادت کے ڈھانچے میں یہ تبدیلی بی ایل اے کی توسیع اور اس کے ابتدائی تنظیمی ماڈل کی طرف واپسی کا اشارہ ہو سکتی ہے، جس میں قیادت ایک ہی شخص کے پاس مستقل رہنے کے بجائے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔‘

ان کے مطابق اب اہم بات یہ دیکھنا ہوگی کہ آیا بشیر زیب فیلڈ کمانڈر کے طور پر تنظیم سے وابستہ رہتے ہیں اور مستقبل میں بی ایل اے کے حملوں کے دوران ان کا کردار سامنے آتا ہے یا نہیں؟

تنظیم نے آئینی اور تنظیمی اصولوں کا حوالہ تو دیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ کمانڈر انچیف کے انتخاب اور برطرفی کا مخصوص طریقۂ کار کیا ہے، اس عہدے کی کوئی مقررہ مدت ہے یا نہیں اور بشیر زیب کو ہٹانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اندرونی اختلافات کا معاملہ

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پِکس) کے سربراہ عبداللہ خان نے کہا کہ بشیر زیب اور بعض سینیئر کمانڈروں کے درمیان کئی ماہ سے اختلافات جاری تھے۔

ان کے مطابق جنوری اور فروری 2026 میں ہونے والے ’آپریشن ہیروف ٹو‘ کی حکمت عملی اور اس کے نتیجے میں تنظیم کو پہنچنے والے نقصانات ان اختلافات کی وجوہات میں شامل تھے۔

ان کے مطابق اب اہم بات یہ دیکھنا ہوگی کہ آیا بشیر زیب فیلڈ کمانڈر کے طور پر تنظیم سے وابستہ رہتے ہیں اور مستقبل میں بی ایل اے کی کارروائیوں کے دوران ان کا کردار سامنے آتا ہے یا نہیں۔

بی ایل اے نے اپنے باضابطہ بیان میں اندرونی اختلافات یا ’آپریشن ہیروف ٹو‘ کو قیادت کی تبدیلی کی وجہ قرار نہیں دیا۔

بی ایل اے کے لیے یہ تبدیلی کیوں اہم ہے؟

بی ایل اے کی تاریخ میں قیادت کے اختلافات پہلے بھی تنظیمی تقسیم کا سبب بن چکے ہیں۔

امریکہ کی ملٹری اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ کے کامبیٹنگ ٹیررازم سینٹر کی 2025 میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اسلم بلوچ اور بشیر زیب نے ہربیار مری کے دھڑے سے الگ ہو کر اپنا گروہ قائم کیا تھا، جسے بی ایل اے جے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

بشیر زیب کی علیحدگی کے بعد اہم سوال یہ ہے کہ آیا تنظیم سینیئر کمانڈ کونسل کے ذریعے اجتماعی قیادت کا نظام مضبوط بنا سکے گی یا اندرونی اختلافات مزید شدت اختیار کریں گے۔

اس تبدیلی کے ممکنہ اثرات میں اجتماعی قیادت کا مضبوط ہونا، مزید اختلافات کے نتیجے میں نئی تقسیم یا مختلف دھڑوں کے درمیان تعاون اور دوبارہ اتحاد کی کوششیں شامل ہو سکتی ہیں، تاہم فی الحال ان میں سے کسی امکان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

بی ایل اے نے تاحال نئے کمانڈر انچیف کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی بشیر زیب کے مستقبل کے کردار پر وضاحت سامنے آئی ہے۔

تنظیم کا دعویٰ ہے کہ قیادت کی تبدیلی سے اس کی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوں گی، تاہم آنے والے دن واضح کریں گے کہ یہ محض قیادت کی منتقلی ہے یا تنظیم کے اندر طاقت کے توازن میں کسی بڑی تبدیلی کا آغاز؟


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *