غزہ: فٹ بال ورلڈ کپ دکھانے والے محمد الوحیدی میچ سے قبل اسرائیلی حملے میں جان سے گئے

غزہ میں ہزاروں لوگ چند گھنٹوں کے لیے جنگ، خوف اور دھماکوں کو بھلا کر ایک عام سی خوشی بانٹنا چاہتے تھے۔ مصر اور ارجنٹائن کے درمیان ورلڈ کپ کا میچ ایک ساتھ دیکھنا چاہتے تھے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس میچ کے لیے بڑی سکرینیں لگیں تاکہ بچے، بزرگ اور نوجوان مل کر مصر کا ورلڈ کپ میچ دیکھ سکیں۔

 لیکن یہ سب انتظام کرنے والے محمد الوحیدی میچ شروع ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے غزہ سٹی کے صبرہ علاقے میں ایک اسرائیلی فضائی حملے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

محمد الوحیدی تھے کون؟

وہ غزہ میں مصری کمیٹی کے ڈائریکٹر تھےجو  فلسطینی خاندانوں کو خوراک، پناہ گاہ اور دیگر انسانی امداد فراہم کرتے تھے۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے بڑی بڑی سکرین لگوائیں تاکہ سب اپنی پسندیدہ ٹیم کی حوصلہ افزائی کر سکیں۔

لیکن میچ شروع ہونے سے کچھ ہی دیر اسرائیلی حملے میں محمد الوحیدی، ایک ڈرائیور، اور دو معصوم بھائی، جن کی عمریں صرف آٹھ اور دس سال تھیں، جان سے گئے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ محمد الوحیدی حملے کا ہدف نہیں تھے، بلکہ کارروائی ایک مبینہ مطلوبہ جنگجو کے خلاف کی جا رہی تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مگر غزہ کے لوگوں کے لیے اس وضاحت سے بڑھ کر ایک تلخ حقیقت ہے، ایک ایسا شخص جو دوسروں کے چہروں پر چند لمحوں کی مسکراہٹ لانا چاہتا تھا، خود وہ مسکراہٹ دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہ سکا۔

مصر، جو غزہ کی سرحد سے متصل ہے، فلسطینی عوام کے لیے ہمیشہ جذباتی اہمیت رکھتا ہے۔ ورلڈ کپ میں مصر کی ہر کامیابی غزہ کے لوگوں کے لیے امید کی ایک کرن بن جاتی ہے۔ مصری کوچ حسام حسن بھی اس ورلڈ کپ کے دوران کئی بار فلسطین کے لیے آواز اٹھا چکے ہیں۔

محمد الوحیدی نے لوگوں ورلڈکپ فٹ بال دکھانے کے لیے اجتماع تو سجایا۔

لیکن اب وہ خود یہ خوشیاں دیکھنے کے لیے زندہ نہیں کیوں کہ اسرائیلی حملے نے ان کی جان لے لی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *