عسکریت پسندی میں اضافہ: خیبرپختونخوا کے 26 اضلاع ’ہارڈ ایریا‘ قرار

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے چھ ریجنز کے 26 اضلاع کو عسکریت پسندی کے حوالے سے ’ہارڈ ایریا‘ قرار دے دیا ہے۔

افغانستان سے متصل صوبے خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے، جہاں عسکریت پسند گروہوں نے سکیورٹی فورسز، پولیس اور شہریوں کو مسلسل نشانہ بنایا ہے، جن میں متعدد اموات ہوئی ہیں۔

صوبے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کی جانب سے 11 ستمبر کو خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری کو بھیجے گئے خط کے مطابق  ہارڈ ایریا قرار دیے گئے اضلاع میں پشاور، خیبر، مردان، چارسدہ، مہمند، نوشہرہ، کوہاٹ، ہنگو، کرک، کرم، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، اپر جنوبی وزیرستان، لوئر جنوبی وزیرستان، سوات، بونیر، شانگلہ، باجوڑ، اپر دیر، لوئر دیر، اپر چترال اور لوئر چترال شامل ہیں۔

صوابی اور ہزارہ ڈویژن کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

ان اضلاع میں تعینات وفاقی انتظامی اور پولیس افسران کے لیے سکیورٹی رسک الاؤنس بھی منظور کیا گیا ہے۔

خط کے مطابق یہ الاؤنس متعلقہ افسر کی بنیادی تنخواہ کے 250 فیصد کے برابر ہوگا اور اس کی ادائیگی وفاقی حکومت کرے گی۔ الاؤنس پر انکم ٹیکس لاگو ہوگا جبکہ افسر کے تبادلے کے ساتھ ہی اس کی ادائیگی بند کر دی جائے گی۔

سیکیورٹی رسک الاؤنس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، تاہم معطلی، او ایس ڈی، جوائننگ ٹائم اور تربیت کے دوران یہ الاؤنس نہیں دیا جائے گا۔

خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ الاؤنس پینشن یا گریجویٹی کے لیے قابلِ شمار نہیں ہوگا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پشاور سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز عبدالسلام خالد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’صوبے میں ہارڈ ایریا کا تعین صرف ایک مرتبہ نہیں ہوتا، بلکہ ہر سال اس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔‘

ان کے مطابق: ’ہر سال اپریل یا مئی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے، جس میں صوبائی حکومت بھی شامل ہوتی ہے۔ یہ کمیٹی ان علاقوں کا جائزہ لیتی ہے جہاں عسکریت پسندی زیادہ ہو اور پھر انہیں ہارڈ ایریا قرار دینے کی سفارش کی جاتی ہے۔‘

عبدالسلام خالد کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں صوبائی حکومت کے ساتھ وفاقی ادارے بھی شامل ہیں، اس لیے اس معاملے میں وفاقی اور صوبائی اداروں کا کردار موجود ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس پہلے بھی ہارڈ ایریا کا درجہ دینے اور خصوصی الاؤنسز کی منظوری کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

اپریل 2025 میں صوبائی حکومت نے وفاق سے یہ درخواست کی تھی کہ سکیورٹی خطرات اور دہشت گردی کے خلاف پولیس کی ذمہ داریوں کے پیشِ نظر صوبے کو ہارڈ ایریا قرار دیا جائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *