حوثی حملے: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی معاہدے پر آئندہ ہفتے مذاکرات

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے کی اعلیٰ کمیٹی کا آئندہ ہفتے ریاض میں اجلاس ہوگا، جس میں سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

سٹریٹجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا یہ اجلاس سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں حالیہ سب سے سنگین اضافے کے دوران ہو رہا ہے۔

یہ صورت حال اگست میں طے پانے والے تین ملکی دفاعی معاہدے کے لیے بھی ایک امتحان ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

حوثیوں نے جولائی سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ کیا ہے، جب انہوں نے مملکت کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور سعودی علاقے اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔

29 ستمبر کو ایک ڈرون نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرنے والے طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن سٹیشن کو نشانہ بنایا۔

 سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق حملے سے ایک ٹرانسفارمر بند ہوگیا تاہم مجموعی بجلی کے نظام پر اثر نہیں پڑا۔

 اتحاد نے حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کیا، تاہم گروپ نے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔

اس سے قبل آٹھ ستمبر کو حوثیوں کے حملوں کی ایک لہر میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ جنوبی سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

اسحاق ڈار نے گذشتہ ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے دورے کے حوالے سے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی میڈیا بریفنگ میں جمعے کو صحافیوں سے کہا،’ہم تینوں ممالک اس معاہدے کے پابند ہیں۔‘

انہوں نے کہا، ’اگر ہم میں سے کسی ایک کو بھی چیلنج کا سامنا ہوا تو ہم ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ ‘

 انہوں نے مشترکہ دفاعی انتظام کا موازنہ نیٹو سے کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اس طرح کا تعاون جائز ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ 21 یا 22 ستمبر کو سعودی عرب کو 17 حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں سے بیشتر کو ناکام بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مدینہ منورہ کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے تازہ حملے کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا،’یہ قابل قبول نہیں ہے۔‘

اسحاق ڈار نے بتایا کہ حملوں میں اضافے کے دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے 24 ستمبر کو نیویارک میں ملاقات کی، جس کے اگلے روز تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کا ریاض میں اجلاس ہوا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ہونے والے کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں مملکت کو درپیش موجودہ سکیورٹی صورت حال پر غور کیا جائے گا اور تینوں ممالک کے آئندہ لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران حوثیوں کے حملوں اور دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی ذمہ داریوں پر بھی بات کی۔

اسحاق ڈار نے کہا،’میں نے انہیں باور کرایا کہ ہم دفاعی معاہدے کا حصہ ہیں اور مسلمان ہونے کے ناتے ہمیں اس کی پاسداری کرنا ہوگی اور ان شا اللہ ہم کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ عباس عراقچی کا مؤقف تھا کہ ایران کا حوثیوں یا عراقی ملیشیاؤں سے کوئی تعلق نہیں، اور انہوں نے پاکستان کو مشورہ دیا کہ حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے ان کے ساتھ سیاسی طور پر رابطہ کیا جائے۔

اسحاق ڈار نے کہا،’انہوں نے کہا کہ آپ کو ان کے ساتھ سیاسی طور پر رابطہ کرنا چاہیے۔ ان کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے بجائے سیاسی طور پر ان سے رابطہ کیا جائے۔‘

اسحاق ڈار نے اس تجویز کو ’ نیک نیتی سے دیا گیا مشورہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اکیلے اس اتحاد کے ردعمل کا فیصلہ نہیں کرسکتا اور کسی بھی فیصلے پر تینوں ارکان کو مشترکہ طور پر اتفاق کرنا ہوگا۔

جب اسحاق ڈار سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستان دفاعی معاہدے کی شقیں جاری کرے گا، کیا اس کے تحت فوجی کارروائی کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہوگی اور حوثیوں کے خلاف حملوں میں شمولیت سے ایران کے ساتھ ثالثی میں اسلام آباد کے کردار پر کیا اثر پڑ سکتا ہے، تو انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

انہوں نے کہا، ’ان سوالات کا جواب دینے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے۔ بس چند دن انتظار کریں۔‘

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر سات اگست کو دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ چھ سے زیادہ ممالک اس اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم نئے ارکان کی درخواستوں پر اس وقت تک غور نہیں کیا جاسکتا جب تک اس کا سیکریٹریٹ اور دیگر انتظامی طریقہ کار مکمل طور پر فعال نہیں ہوجاتے۔ ان کے مطابق اس عمل میں کم از کم ایک سال لگ سکتا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا،’چھ سے زیادہ ممالک اس مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کے خواہش مند ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ بنیادی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی رضامندی سے دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا،’یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، اس کا کوئی جارحانہ ایجنڈا نہیں۔ دستاویز کے مطابق دیگر ممالک کے لیے بھی اس کی رکنیت کھلی ہوگی، بشرطیکہ وہ بانی ممالک کی طے کردہ اصولوں سے اتفاق کریں۔‘

آبنائے ہرمز

نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے تنازع سے متعلق سفارتی کوششوں میں بدستور مصروف ہے اور آبنائے ہرمز سے بلا رکاوٹ آمدورفت چاہتا ہے، کیونکہ اس گزرگاہ میں رکاوٹ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی سپلائی چینز متاثر ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا،’کوئی فیس، کوئی سروس چارج، کوئی ٹول، کوئی اجازت اور کوئی پرمٹ نہیں ہونا چاہیے۔ پہلے دن سے پاکستان کا یہی مؤقف ہے۔‘

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے وزیر پٹرولیم اور نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کی جانب سے رابطہ کیے جانے کے بعد انہوں نے ذاتی طور پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ایل این جی جہاز کی آبنائے ہرمز سے گزرنے کا معاملہ اٹھایا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ عباس عراقچی نے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا اور بعد میں جہاز کے گزرنے کی تصدیق کی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششوں کے تحت پاکستان نے اپریل میں اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی، جن کے نتیجے میں جون میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سامنے آئی۔ ان کے مطابق بعد ازاں دونوں جانب سے خلاف ورزیوں کے باعث اس پر عملدرآمد رک گیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں بدستور شامل ہے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کے لیے سعودی عرب، قطر، مصر اور ترکیہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیویارک کے دورے کے دوران انہوں نے 28 دوطرفہ ملاقاتیں کیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے غیر ملکی رہنماؤں اور بین الاقوامی حکام کے ساتھ 14 ملاقاتیں کیں۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے وزیراعظم شہباز شریف کی پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کرلی ہے اور وہ اپنی مدتِ منصب 31 دسمبر کو ختم ہونے سے قبل پاکستان کا دورہ کریں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نیویارک کے دورے کے دوران پاکستان اور سعودی عرب نے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے، جو اس انتظام سے مماثل ہے جو اسلام آباد پہلے ہی متحدہ عرب امارات کے ساتھ طے کرچکا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *