عالمگیریت میں انڈیا کا راج

انڈین مارکیٹ کا ایک محدود اور الگ تھلگ قلعے سے عالمی تجارت کے ہراول دستے میں تبدیل ہونا شاید اکیسویں صدی کی عالمی معیشت میں سب سے اہم ساختی تبدیلی ہے۔

ملک نے ایک بند اور دفاعی معاشی طرزِ عمل سے نکل کر ایک بیرونی دنیا کی جانب دیکھنے والے اور عالمی سطح پر پُراعتماد مؤقف کی طرف رخ موڑا ہے۔

عالمگیریت میں ہچکچاہٹ سے حصہ لینے والا ملک اب عالمی سپلائی چینز کی تشکیل میں ایک بڑھتی ہوئی پُراعتماد قوت بن چکا ہے۔

کئی دہائیوں تک انڈین مارکیٹ ’لائسنس-پرمٹ-کوٹہ‘ راج کے تحت جانی جاتی رہی، جو بیوروکریسی کی پیچیدہ رکاوٹوں اور بلند ٹیرف دیواروں پر مشتمل ایک گھٹن زدہ نظام تھا، جسے مقامی صنعتوں کو غیر ملکی سرمائے کے مبینہ استحصال سے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

آزادی کے بعد کے بیشتر دور میں انڈیا کی معاشی حکمتِ عملی خود کفالت، درآمدی متبادل (یعنی وہ اشیا اندرونِ ملک تیار کرنا جو باہر سے خریدی جا سکتی تھیں) اور عالمی منڈیوں پر گہرے عدم اعتماد پر مبنی تھی۔

اگرچہ اس طرزِ عمل سے کچھ صنعتی صلاحیت ضرور پیدا ہوئی، لیکن بالآخر اس نے دائمی ناکارکردگی، تکنیکی جمود اور انڈیا کی معاشی صلاحیت اور عملی کارکردگی کے درمیان ایک مستقل خلا کو جنم دیا، جسے ماہرِ معاشیات راج کرشنا نے ’ہندو شرحِ نمو‘ قرار دیا تھا۔

معیشت مسلسل ملک کی آبادی میں اضافے اور بڑھتی ہوئی ضروریات کے ساتھ قدم ملانے میں ناکام رہی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پھر 1991 میں معاشی لبرلائزیشن کا آغاز ہوا، جس نے انڈیا کی تبدیلی کی بنیاد رکھی۔ جو ابتدا میں ایک بحران سے نمٹنے کی مجبوری تھی، وہ رفتہ رفتہ ایک ساختی تبدیلی میں بدل گئی۔

انڈیا نے عالمی معیشت سے خود کو بچانے سے لے کر اس میں شرکت کرنے اور پھر اس کے اندر مقابلہ کرنے تک کا سفر طے کیا۔

یہ تبدیلی جتنی معاشی تھی اتنی ہی نفسیاتی بھی۔ کھلے پن کے امکانات کو اپنانے کے لیے انڈیا کو اپنی بے چینیوں اور عدم تحفظ کے احساس سے باہر نکلنا پڑا۔

وقت کے ساتھ عالمی تجارت، سرمایہ کے بہاؤ اور ٹیکنالوجی نیٹ ورکس میں اس کے انضمام نے اس کی ترقی کی سمت، شہری آبادی کے پھیلاؤ اور کاروباری ثقافت کو نئی شکل دی۔

لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ 2026 کا انڈیا اپنی باقی ماندہ زنجیریں بھی توڑ چکا ہے تاکہ دنیا کی سب سے زیادہ کھلی اور آزاد بڑی ابھرتی ہوئی معیشت بن سکے۔

یہ تبدیلی ایک بنیادی ادراک سے پیدا ہوئی: ڈیجیٹل دنیا میں حقیقی معاشی خودمختاری تنہائی میں نہیں بلکہ انضمام میں پوشیدہ ہے۔ اگرچہ 1991 کی ابتدائی اصلاحات نے دروازہ ذرا سا کھولا تھا، مگر گZشتہ چند برسوں میں انڈیا نے اس کے قبضے تک اکھاڑ پھینکے ہیں۔

اب انڈیا کوئی باہر کا کردار نہیں بلکہ عالمی معاشی بہاؤ کا ایک مرکزی مرکز بن چکا ہے۔ خدمات کی برآمدات، ڈیجیٹل صلاحیتوں اور مینوفیکچرنگ عزائم نے اسے ایسا ملک بنا دیا ہے جس کے معاشی فیصلوں کی بازگشت اس کی سرحدوں سے کہیں آگے تک سنائی دیتی ہے۔

کثیرالجہتی فورمز میں انڈیا نے متحدہ عرب امارات، عمان، آسٹریلیا، برطانیہ اور یورپی یونین کے ساتھ اہم جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے کیے ہیں۔ مزید یہ کہ نیوزی لینڈ اور امریکہ بھی اصولی معاہدوں کا اعلان کر چکے ہیں۔

یہ صرف محصولات میں کمی کے معاہدے نہیں ہیں۔ ان کا مقصد ضابطہ جاتی معیار کو ہم آہنگ بنا کر، پیشہ ور افراد کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت آسان بنا کر اور جدید مینوفیکچرنگ کی بنیاد بننے والی ہائی ٹیک عالمی ویلیو چینز میں انڈیا کی جگہ محفوظ بنا کر گہرے انضمام کو فروغ دینا ہے۔

یہ تبدیلی انڈین حکومت کے نعرے ’آتم نربھرتا‘ یا خود انحصاری کی ایک باریک بین نئی تشریح پر مبنی ہے۔ انڈین قیادت اب سمجھتی ہے کہ یہ ہدف خود کو دنیا سے کاٹ کر نہیں بلکہ عالمی شمولیت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پروڈکشن سے جڑے فوائد کی سکیموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نے الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز اور گرین انرجی کی عالمی بڑی کمپنیوں کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ برصغیر کو صرف ایک محدود منڈی نہیں بلکہ ایک بنیادی برآمدی مرکز سمجھیں۔

اس نے دفاع اور خلائی تحقیق جیسے حساس شعبوں میں بھی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے قوانین نرم کیے ہیں۔

انڈیا اب غیر ملکی سرمائے سے خوفزدہ نہیں بلکہ مشرقی ایشیا کے روایتی مینوفیکچرنگ مراکز کے متبادل کے طور پر دنیا کی پہلی ترجیح بننے کے لیے سرگرم مقابلہ کر رہا ہے۔

انڈیا کی معاشی لبرلائزیشن کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ جیسے جیسے ’چائنا پلس ون‘ حکمتِ عملی، جو جغرافیائی سیاسی کشیدگی، سپلائی چین کے خطرات اور رسک میں تنوع کی خواہش سے چل رہی ہے اور کثیرالقومی کمپنیوں کی کارپوریٹ منصوبہ بندی کا معیار بنتی جا رہی ہے، انڈیا ایک مثالی شراکت دار کے طور پر نمایاں ہو رہا ہے: مستحکم، جمہوری اور بتدریج ضابطہ جاتی پابندیوں سے آزاد۔

یوں انڈیا کا کھلا پن سٹریٹجک اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ جو چیز کبھی محض اندرونی اصلاحاتی ایجنڈا دکھائی دیتی تھی، اب ایک عالمی موقع بن گئی ہے۔

اس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل عوامی انفراسٹرکچر اور نئے تجارتی معاہدوں کے درمیان ہم آہنگی ایک ایسے مستقبل کی نشاندہی کرتی ہے جہاں انڈیا صرف اشیا ہی نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر ڈیجیٹل ڈھانچے کو بھی برآمد کرے گا۔

تجارتی معاہدوں کے ذریعے درآمدی خام مال کی لاگت کم کر کے انڈیا منظم انداز میں اپنی برآمدات کی مسابقت بڑھا رہا ہے، جس سے ترقی کا ایک مثبت دائرہ تشکیل پا رہا ہے جو اسے صدی کے وسط تک ایک ترقی یافتہ معیشت بنا سکتا ہے۔

بڑی اور مستحکم جمہوریت، نوجوان افرادی قوت، بہتر ہوتا انفراسٹرکچر اور زیادہ شفاف اور قابلِ پیش گوئی ضابطہ جاتی ماحول کا امتزاج انڈیا کو محض چین کا متبادل نہیں بلکہ ایک کثیر قطبی سپلائی چین ڈھانچے میں تکمیلی ستون بنا رہا ہے۔

 پروڈکشن سے جڑے فوائد کی سکیموں کے ذریعے مینوفیکچرنگ کا فروغ، ڈیجیٹل عوامی انفراسٹرکچر اور پھیلتے ہوئے لاجسٹک نیٹ ورکس اس حیثیت کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

لیکن دنیا کی سب سے زیادہ آزاد معیشت بننے کا سفر مشکلات سے خالی نہیں۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ اصلاحات کے آخری مرحلے کو، جس میں زمین، محنت اور لاجسٹکس کی بلند لاگت کا حل اور ضابطہ جاتی استحکام برقرار رکھنا شامل ہے، ان بلند سطحی تجارتی معاہدوں کے مطابق بنایا جائے جن پر انڈیا نے دستخط کیے ہیں۔

تحفظ پسند ذہنیت سے آزاد خیال معیشت کی طرف منتقلی ایک مسلسل توازن کا تقاضا کرتی ہے، جس میں ایک طرف کمزور زرعی طبقے کے مفادات کا تحفظ اور دوسری طرف عالمی مسابقت سے پیدا ہونے والی تخلیقی تباہی کو قبول کرنا شامل ہے۔

اس کے باوجود رفتار ناقابلِ تردید ہے۔ انڈیا کی معاشی حکمتِ عملی فیصلہ کن طور پر دفاعی تنہائی سے سٹریٹجک انضمام کی طرف بڑھ چکی ہے۔

اس نے عالمی مسابقت سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس سے فائدہ اٹھانا سیکھ لیا ہے۔ غیر ملکی سرمائے کی مزاحمت کے بجائے اسے راغب کرنا شروع کر دیا ہے۔ اندرونی ناکارکردگیوں کے تحفظ کے بجائے عالمی مسابقت پیدا کرنا شروع کر دی ہے اور عالمگیریت سے متاثر ہونے کے بجائے اس کے اگلے مرحلے کی تشکیل میں کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔

سفر کی سمت بالکل واضح ہے۔ انڈیا اب عالمی نظام میں خاموش تماشائی نہیں بلکہ اس کے مستقبل کا ایک اہم معمار بن چکا ہے۔

ششی تھرور اقوام متحدہ کے سابق انڈر سیکریٹری جنرل اور انڈیا کے سابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *